Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سیر کو سوا سیر | فرح رضوی

by مئی 12, 2017 بلاگ, حاشیے
سیر کو سوا سیر | فرح رضوی
Print Friendly, PDF & Email

 کچھ برس پہلے کی بات ہے ۔موسم گرما کی تعطیلات تهیں۔ گرمی کی شدت کے باعث بچے گهر میں تقریباً قید ہی تهے۔نہ تو گهر سے باہر کهیلنے کا موقع ملتا اور نہ ہی کہیں اور آنا جانا ہوتا سو موسم کے ساتھ ساتھ مزاج کا پارہ بهی چڑها رہتا۔ اکثر معمولی معمولی باتوں پر نوک جھونک شروع ہو جاتی۔ شرارت میں پہل تو بهائی ہی کرتا مگر بہن صاحبہ بهی معاملے کو توڑ تک پہنچاتیں۔
 ہلکی پھلکی تلخ کلامی کے بعد جب بات بڑهتی نظر آتی تو مجهے مداخلت کرنا پڑتی۔ دونوں ہی اپنے موقف پر ڈٹے رہتے اور صلح کی کوئی صورت نظر نہ آتی تب رفع شر کے لئے انکے  مابین تخلیق نگاری کے مقابلے کا انعقاد کرایا جاتا۔ جس میں کم از کم دس محاورات کو جملوں میں استعمال کرکے انکے معنی واضح کرنے ہوتے تھے۔ کوئی پابندی نہ تهی کہ فریقین محاورے بهی اپنی مرضی سے منتخب کرسکتے تھے۔ وقت مقررہ پر دونوں بچے اپنا قلم اور نوٹ بک لیکر بیٹھ جاتے۔ طے یہ تها کہ جو پہلے چیلنج مکمل کر لے وہ ہاتھ کهڑا کرکے اعلان کر دے۔ جسکے محاورات اور جملے زیادہ اثردار ہونگے اسی کو فاتح قرار دیا جائے گا۔ بچوں کا دهیان بهی بٹ جاتا تها اور کهیل کهیل میں نت نئے الفاظ اور محاورات بهی سیکھ لیا کرتے تھے۔ 
 یہ سلسلہ خوش اسلوبی سےچلتا رہا کہ ایک دن جبکہ ادهر سورج سوا نیزے پر تها اورادهر بچے سیر پر سوا سیر ہوئے جارہے تهے ۔ دونوں کی چونچالیاں بڑهیں تو تخلیقی مقابلے کا اعلان کر دیا گیا۔ میدان کارزار سج گیا۔ کاپی پینسل نکل آئے۔گهڑی کی سوئیاں دیکھ کر بسم اللہ کر دی گئی۔ کچھ وقت گزرا تو بیٹی نے ہاتھ کهڑا کر کے نوٹ بک میرے حوالے کر دی۔ 
 اب جو میں نے عبارت پر نظر دوڑائی توکیا بتاؤں کیا نقشہ تھا۔ پہلا محاورہ ہی یہ تها کہ ، "میں اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا ہوں مگر یہ بات بهیا کی آنکھ میں تیر بن کر کهٹکتی ہے۔”
مزید کہ "بهیا نے فیل ہو کر خاندان بهر کی ناک کٹوا دی۔”
 اگلے محاورات بهی کچھ اس طرح کے ہی تهے جیسے،” پڑوسی بچوں کے ہاتھوں انکی درگت بنتی دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ ” اور ” ریاضی کے پرچے کی تیاری نے بهیا کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ "
 بس اس سے زیادہ پڑهنے کا یارا نہ تها۔ ڈرتے دل سے بیٹے کی نوٹ بک ہاتھ میں لےکر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی تو جناب ! وہاں تو معاملہ اور بهی گرم تها۔ غم و غصے کی صرف لہریں نہیں بلکہ پورا سمندر ہی موجزن تها۔ شدت جذبات کے اظہار کے لئے ضرب الامثال کا بھی سہارا لیا گیا تھا۔ 
 ان حضرت کے شہکار کی جھلکیاں کچھ یوں تهیں؛”میرے جیسا ہونہار بهائی چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔” "میری بہن کام کی نہ کاج کی بس دشمن اناج کی۔” ” پیاری بہنا بالکل نہیں جانتی کہ عقل بڑی ہوتی ہے کہ بهینس”۔”چهوٹی بہن کو موٹی کہہ کر میں آ بیل مجھے مار کی صورتحال سے دوچار ہوں۔”
 تخلیق کی یہ اڑان دیکھ کر میرے تو اپنے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ غیر متوقع صورتحال تهی۔ ہنسی بهی آ رہی تھی اور غصہ بهی۔خیر جیسے تیسے ہنسی کنٹرول کر کے دونوں کو سرزنش کی اور سمجها بجها کر صلح صفائی کروائی۔
 اب تو اس واقعے کو بیتے بہت عرصہ ہوا۔ ماشاء اللہ بچے اب بڑے ہو گئے ہیں اور سمجھدار بهی۔ لکهنے لکهانے کی تخلیقی صلاحیتیں بهی وقت گزرنے کے ساتھ نکهرتی جا رہی ہیں۔ کمال کے جملے لکهتے ہیں اور خیر سے دونوں کا اپنا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بهی ہے۔اب جب کبهی ٹوئیٹر پر بڑے بڑوں کو سرگرم عمل دیکهتی ہوں تو اپنے بچوں کا بچپنا یاد آجاتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
1187
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   رمضان ٹرانسمیشن (حاشیے) | مجتبیٰ حیدر شیرازی
Previous
Next

One commentcomments

  1. raza mehdi baqari

    excellent knitting of memories and…..and…….and………….
    WHAT A SATIRE!!!!Stay blessed.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: