رتجگوں کے الم

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے آس پاس ایسے بہت سے واقعات و کردار اور رویئے پائے جاتے ہيں جن سے اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کر سکتا ہے يہ رویئے کبھی تو خوب صورت احساسات جگا کر زندہ رہنے کی خواہش کو بڑھا دیتے ہيں اور اگر کبھی سنگ دلی اور بے حسی کا پیرہن اوڑھ ليں تو روح کو لہو لہان کر ديتے ہيں۔

پچھلے دنوں آپا نجو کی اچانک موت نے سب کو اُداس کر دیا۔ ان کا اصل نام تو نرجس تھا پچاس ساٹھ سال کی درمیانی عمر کی تعلیم یافتہ، خوب صورت شخصيت کی مالک ہر محفل میلاد و مجالس کی رونق ہوا کرتی تھیں۔ شوہر کی وفات کے بعد سے انہوں نے اپنا دل اس طرف لگایا ہوا تھا۔ دو بیٹے تھے اور بیٹی سے محروم تھيں مگر ہميشہ کہا کرتی تھيں جو بہوئيں آئيں گی وہی ميری بیٹیاں ہوں گی۔

بڑے بیٹے کی شادی کی تو بہو کسی قيمت پہ ان کے ساتھ رہنے کو تيار نہ تھی۔ وہ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی لندن جا بسا اور پھر وہیں کا ہو کے رہ گيا۔ پانچ سال سے آپا راہ تکتی رہیں مگر بیٹا نہ آیا۔ بہو کا خاندان وہیں آباد تھا اس کا دل بھی وہيں لگ گیا۔ آپا اسے بہت ياد کرتیں جب بھی فون پہ اس سے بات ہوتی ہر بار یہ کہتیں کہ تم آ جاؤ ميں بہت اداس ہوں۔ اور وہ آنے کی جھوٹی امید دلاتا ماں اندر ہی اندر سسکتی رہتی۔

دوسرا بیٹا بھی برسرِ روزگار ہوا تو بڑی چاہ سے اس کی بھی بہو گھر لے آئيں۔ خوش تھيں کہ اب گھر ميں تنہائی کم ہو گی مگر کچھ عرصے سے وہ خاموش رہنے لگی تھيں۔ کبھی کسی سے دل کا حال نہ کہتيں۔

ان کی اچانک موت کا سن کے سب جمع ہو گئے تھے اور صائمہ(بہو) سے تعزیت کر رہے تھے صائمہ کی حالت يہ تھی کہ کبھی رو رو کے ساس کی تعريفيں کرنے لگتی کبھی خاموش نظروں سے خلا ميں گھورنے لگتی اور کبھی بے چينی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہو جاتی۔ مجھے اس کی کیفيت سے اندازہ ہو رہا تھا جيسے بہت کچھ کہنا چاہتی ہے۔ ہر کوئی غمگين تھا۔ ہر دل عزيز شخصيت کا اس طرح اچانک چلے جانے کا یقین کسی کو بھی نہيں آ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   دل سوزیاں

خير کچھ دنوں کے بعد جب ہماری ملاقات ہوئی تو صائمہ نے بتانا شروع کيا کہ ميری ساس بہت عظيم تھيں اتنا پيار ديا بس ميں نے ہی ان کی قدر نہيں کی۔ مجھے بس اس بات پہ غصہ رہا کہ دوسرا بيٹا اور بہو بے فکر ہو کر آزاد زندگی گزار رہے ہيں ساری ذمہ داری ہم کيوں نبھائيں؟

مختلف طريقوں سے ان کی دل آزاری کرتی رہی۔ کبھی کہيں ساتھ چلنے کو کہا تو انکار کيا۔ کبھی بھی ان کی کسی نصيحت پہ عمل نہیں کیا۔ اُنہيں ہم سے کچھ بھی نہيں چاہئیے تھا۔ وہ تو بس محبت اور توجہ کی طلب گار تھيں مگر میں اپنے گھر والوں سے دوستوں سے فون پہ گھنٹوں بات کرتی لیکن گھر ميں رہتے ہوئے بھی ان کے پاس کبھی نہ بيٹھی اور نہ بات کرتی اور اس طرح کئی کئی دن گزر جاتے۔
ايک دن انہوں نے اس بات کا شکوہ اپنے بيٹے سے کيا تو ميں نے انتقاماً اپنی امی سے فون کروا ديا کہ ہماری بیٹی کو ہمارے پاس بھیج دو اور جس دن سے میری والدہ نے فون کيا اس کے بعد سے تو وہ بالکل خاموش ہو گئيں اور پھر کوئی بات نہيں کی اپنی عزت کے خوف سے کہ بہو گھر سے چلی نہ جائے۔ لوگ کيا کہيں گے پہلے وہ بڑے بيٹے کی جدائی نہ جانے کیسے برداشت کر رہی تھيں اور پھر یہ سب باتيں۔ ميں نے انہيں بہت اذيت دی مگر اس نیک خاتون نے مجھے کبھی برا نہيں کہا۔ میرے ہر برے رویئے پہ خاموشی اختيار کی۔ حالانکہ وہ مجھے اس گھر ميں لانے والی تھیں۔ مگر ميں انہيں ہی بوجھ سمجھنے لگی آج جب وہ نہيں ہيں تو رہ رہ کے وہ لمحے ياد آ رہے ہيں وہ بتا رہی تھی اور پشیمان ہو رہی تھی۔

ميں سوچنے لگی اخلاص اور مہر و محبت جو گزشتہ زمانے کے لوگوں کے روابط پہ حاکم تھے آج ان کی جگہ پر اجنبيت اور بے حسی کا احساس غالب کيوں ہے؟ قريب رہنے والے ايک دوسرے کی اخلاقی و نفسياتی خصوصيات سے نا آشنا کيوں ہيں؟ اور ايک دوسرے کی دل جوئی کی ضرورت کے وقت شدت کے ساتھ بخل سے کام کيوں لیتے ہيں؟ ايک زمانہ تھا جب لوگ بيٹی کی شادی کے بعد نئے گھر ميں ایڈجسٹ ہونے ميں معاون و مددگار ہوتے تھے رابطے کم کرتےتھے اس لیے نہيں کہ ان کو اولاد پياری نہيں تھی۔ بلکہ حکمت اور دانش مندی سے اسے نئی جگہ دل لگانے کا موقع فراہم کرتے تھے۔ ليکن آج کل پرانے دوستوں اور گھر والوں کی بے جا مداخلت اور رابطوں نے دُور رہنے والوں کو قريب کر ديا ہے اور قریب رہنے والوں کو دُور۔ اس ساری صورت حال کے پیش نظر قصور وار کون ہے؟ وہ بيٹا جو ماں سے دُور رہا اور اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کیا یا پھر بہو جس کی تربیت میں کمی تھی اور اپنے برے اخلاق سے رنجيدہ کيا یا پھر دوسروں کی بے جا مداخلت نے اېک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ہی نہيں دیا۔ معاشرے ميں ساس کا ظلم تو اکثر بيان کيا جاتا ہے ليکن ایسی بہوئيں بھی ہوتی ہيں جو اپنے ہی ہاتھوں مہربان ، شفیق، خوش بختی اور سعادت کی ضامن ہستيوں کو اپنی نادانی کے سبب کھو دیتی ہيں۔ اس سے پہلے کہ ندامت اور ملامت کے سائے تلے سانس لينا دو بھر ہو جائے اور پچھتاوے کی آگ اپنی لپیٹ ميں لے کر خوفزدہ کر دے قدر کرنا سیکھيں اس لیے کہ نہ زندگی بار بار ملتی ہے اور نہ ہی محبت کرنے والے لوگ۔

Views All Time
Views All Time
265
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: