Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے!

by نومبر 30, 2017 حاشیے
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے!
Print Friendly, PDF & Email

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

فیض احمد فیض ۔ ۔ یہ نام محض ایک شخصیت کا نہیں بلکہ یہ نام ہے اک عہد کا جس کے ہم بڑی شدت سے منتظر ہیں کہ ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے!

فیض بلاشبہ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کی سوچ کی روشنی ان کے چلے جانے سے ماند نہیں پڑی بلکہ اس کی جگمگاہٹ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے، پر صاحب اس روایت میں کافی حد تک عمل دخل ہمارے اجتماعی چلن کا بھی ہے کہ ہم لوگوں کو عزت دینے کے لیے انکے مرنے کا انتظار کرتے ہیں۔

خیر بات ہو رہی تھی فیض کے کلام کی ۔ ۔ ۔ فیض کی شاعری میں ہمیں زندگی کا ہر رنگ دیکھنے کو ملتا ہے جیسے رومانویت، انقلابیت، غمِ دوراں، غمِ جاناں ضریکہ سبھی جذبے اپنی پوری شدت سے سر اٹهائے اس شاعری کا دم بهرتے نظر آتے ہیں۔ فیض نے اپنی شاعری میں ان سب کو کچھ ایسے یکجا کیا ہے گویا ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوں۔

مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ!

فیض کا خاصہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہر گزرتے دن کو بھرپور انداز میں جیا۔ پابند سلاسل رہ کر بھی "دست صبا” اور "زندان نامہ” جیسے لازوال تحفے ادب کے قدردانوں کی نذر کر گئے۔ راولپنڈی سازش کیس سے لے کر نیشنل کونسل آف آرٹس کی سربراہی تک اسٹیبلشمنٹ کے لیے وہ کوہ گراں ثابت ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے:   ناسمجھی (حاشیے) | فرح رضوی

فیض دنیائے شاعری میں غالب اور اقبال سے بےحد متاثر تھے۔ قرۃ العین حیدر نے ایک موقع پر کہا کہ، "فیض اقبال کے بہت بڑے معتقد تھے مگر پائندہ اقبال کے۔ ان کا خیال تھا کہ علامہ کے اصل نظریات ان کی انگریزی تصانیف میں ہیں تاکہ رجعت پسندوں کی دسترس سے محفوظ رہ سکیں”۔

فیض کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں تصویر کا روشن رخ ہمیشہ سامنے رکها اور اپنے مداحوں کو امیدِ پیہم دلاتے رہے۔

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوت ہزار کا موسم

مثبت سوچ اور انسانیت کی تعظیم کو اگر ان کے کلام کی اکائی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ فیض کو ہم سے بچھڑے گو کہ 33 برس بیت چلے مگر جدید اسلوب سے مزین ان کی شاعری نہ صرف آج بلکہ رہتی دنیا تک عشاق ریختہ کے لیے رەنمائی کا استعارہ رہے گی!

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے!

Views All Time
Views All Time
144
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: