جنید جمشید۔ گلوکار سے مبلغ تک کا سفر اور ہمارا اجتماعی رویہ

Print Friendly, PDF & Email

تقریباَ 3 بجے دوپہر میں ٹوئیٹر پر دیکھا کہ پی آئی اے کا طیارہ لاپتہ ہو گیا ہےاور جہاز کے کپتان کا آخری پیغام کنٹرول روم میں ’’مے ڈے‘‘ کا سنائی دیا ہے، بے اختیار دل سے ‘اللہ کریم’ کی صدا نکلی۔ پھر یکے بعد دیگرے مختلف چینلز پر خبریں آنے لگیں کہ یہ بد قسمت طیارہ چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ ہر نیوز چینل کی سکرین سنسنی پھیلانے میں سبقت لے جانے میں جُٹ گئی۔ دل دکھ سے بھر گیا کہ نجانے کتنے گھروں میں اس ناگہانی پر صفِ ماتم بچھی ہو گی۔۔۔پروردگار سب کی مغفرت فرما آمین! اسی اثناء میں اطلاع ملی کہ اس حادثے میں جنید جمشید بھی چلے گئے۔۔ پہلے تو لگا کہ سننے میں غلط فہمی ہوئی ہے مگر پھر چیختے چنگھاڑتے سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ جنید جمشید تبلیغ کی غرض سے چترال میں تھے اور اس پرواز سے واپس آ رہے تھے

انا للہ وانا الیہ راجعون!

یہ سوشل میڈیا بھی عجب شے ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ گویا بندر کے ہاتھ میں آئینہ۔ شخصی آزادی آپ کا اولین حق سہی مگر خدارا موقع تو دیکھئے!!!

کچھ صاحبان نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اسے مقامِ عبرت قرار دیا۔ کچھ صاحبان بشمول قبلہ انصار عباسی صاحب کا مسئلہ یہ تھا کہ جنید جمشید کو اب ان کی گلوکاری کے حوالے سے نہ یاد کیا جائے۔ کسی نے کہا کہ چلو ایک اور ملا سے جان چھوٹی اور کسی کو لگا کہ محض جنید کی وجہ سے طیارے کے باقی لوگ بھی اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔۔

یہ ہم کس معاشرے میں ڈھلتے جا رہے ہیں؟؟؟ ہماری سوچ کن سانچوں میں ڈھلتی جا رہی ہے؟؟ ان سارے عوامل نے مجھے آج قلم اٹھانے پر اکسایا۔

جنید جمشید کا پہلا تعارف بلاشبہ وہ خوبصورت موسیقی ہے جو رہتی دنیا تک کے لئے امر ہو گئی۔ ’’جنید جمشید اب ہم میں نہیں‘‘ یہ بری خبر مجھے بےاختیار ماضی میں دھکیل گئی، لڑکپن کے وہ سنہرے دن اور بےشمارخوبصورت یادیں جو جنید کی خوبصورت موسیقی سے وابستہ ہیں یقیناَ ہم 90 کی دہائی میں پنپنے والی نسل کا سرمایہ ہیں۔ ’’وائٹل سائن‘‘ کا جادو 90 کی دہائی میں سر چڑھ کر بولا، جنید کی خوبصورت میٹھی آواز نے موسیقی کا ایک نیا جہان ہم پر وا کیا تھا۔ جیب خرچ سے پیسے بچا بچا کر وائٹل سائن کی کیسٹس خریدا کرتے تھے جو ہماری نئی نسل کے لئے ’’اینٹیک‘‘ ہے۔ اس زمانے میں 25 روپے ایک رقم ہوا کرتی تھی مگر ’’یہ عالم شوق کا‘‘ کہ دوسری بےشمار خواہشات کو پسِ پُشت ڈال کر خوشی خوشی یہ کیسٹ خریدتے اور جب تک تمام گانے ازبر نہ ہو جاتے وہ کیسٹ ٹیپ ریکارڈر سے باہر نہیں آتی تھی۔

مجھے لگتا ہے کہ ہم 90 کی دہائی والے جنید کے قرض دار ہیں۔ اس شاندار موسیقی کے لئے، ان خوبصورت یادوں کے لئے جن سے آج ہمارا دامن بھرا ہوا ہے۔

بعد ازاں موسیقی کی دنیا چھوڑ کر جس کام کا بیڑہ جنید نے اٹھایا پہلے راستے کے انتخاب کی طرح یہ فیصلہ بھی یقیناَ سو فیصد ان کی اپنی ذات سے متعلق تھا۔ میرا ان کےخیالات سے جتنا مرضی اختلاف ہو، عورتوں کے حوالے سے ، دین کی تشریحات کے حوالے سے اور گاہے بگاہے میں نے اختلافِ رائے کا اظہار بھی کیا۔ مگر یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ کسی کی رائے سے متفق ہونا کسی کے بھی لئے قطعاَ ضروری نہیں۔

جس مہذب معاشرے کے ہم خواب دیکھتے ہیں اس میں شخصی آزادی سب سے زیادہ مقدم ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں جنید جمشید چاہے تو ہر رات ایک کنسرٹ کرے اور اگر چاہے تو بوریا بستر لپیٹ کر شہر شہر، گاوں گاوں تبلیغِ دین کرتا پھرے۔

’’کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے‘‘ مگر حتمی اختیار تو میرا ہی ہوا ناں کہ کس راہ پر چلنا ہے۔

جنید جمشید نے بھی موسیقی کو خیرباد کہنے کے بعد تبلیغِ دین کا بیڑہ اٹھایا اور آخری سانس تک پوری تندہی سے اس ذمہ داری  کو نبھاتے رہے، میں ان کے فیصلے کا بھرپور احترام کرتی ہوں پر صاحبو ! اب یہ فیصلہ تو مجھی کو کرنے دیجئے کہ ان کی وفات پر میں کس کا غم مناوٴں۔۔ مولانا جنید کا یا گلوکار جنید جمشید کا۔۔۔ان کے مذہبی خیالات سے اختلاف تو جنید کی شہادت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا مگر خدارا مجھے اپنے پسندیدہ گلوکار جنید جمشید کی موت کا غم منا لینے دیجئے جو پہلے ایک گلوکار تھا اور بعد میں ایک مبلغ۔ کسی کی سوچ کو مقفل کرنا ہمارے بس میں نہیں۔ سوچ کی جو آزادی آپ اپنا حق سمجھتے ہیں وہی اختیار دوسروں کو ان کے اپنے لئے بھی کشادگئی ذہن کے ساتھ دیجئے۔

Views All Time
Views All Time
745
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   زمانہ بدل گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: