Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

خاندان کی بقا کے لیے مہم !

خاندان کی بقا کے لیے مہم !
Print Friendly, PDF & Email

akhtar sardar chپہلی مرتبہ 1994 ء کو اقوام متحدہ نے خاندان کا عالمی سال قرار دیاتھا، جس کے بعد یہ دن ہر سال 15مئی کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں منایا جاتا ہے ۔اس دن کا مقصد عالمی سطح پر مختلف معاشروں میں قائم خاندانی نظام کو نا صرف مضبوط بنانے کیلئے شعور اجاگر کرنا ہے بلکہ ان خاندانی نظام میں موجودہ خرابیوں کو دور کرنا بھی ہے ۔اس موقع پر مختلف سیمینارزوغیرہ کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔فلاح وبہبود کے لیے کوشاں سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں اور درد دل رکھنے والے افراد معاشرہ میں خاندان کی اہمیت کا شعور بیدار کرنے کے لیے اخبارات میں آرٹیکل لکھتے ہیں ،ٹی وی پروگرام کیے جاتے ہیں ۔مختلف اداروں میں اس پر لیکچر د ئیے جاتے ہیں ۔
خاندان سے مراد کیا ہے ،اس میں کون کون شامل ہوتے ہیں اس بابت پوری دنیا میں دلچسپ صورت حال ہے ۔مثلاََ مغرب میں میاں ،بیوی اور زیادہ سے زیادہ ان کے بچے اس میں شامل ہیں ۔بعض اوقات صرف بیوی ہوتی ہے بچوں کے باپ کا علم بھی نہیں ہوتا ،اور بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں جس میں والدین اولڈ ہوم میں ،بچے کیئر سینٹر میں ،میاں بیوی( بناں نکاح کے)ساتھ ہیں اور یہ خاندان ہے ۔ جدید معاشروں میں طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔اوسطً 50فیصد خاندان ٹوٹ چکے ہیں۔ ان سے کہیں بہتر خاندان کا نظام ہندووں میں قائم ہے ۔بھارت میں ’’ پریوار ’’کا لفظ خاندان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔لیکن پوری دنیا میں اس وقت بھی سب سے بہترین خاندانی نظام مسلمانوں میں قائم ہے ۔آج کے دور میں جب اکثر مسلمان نام کے مسلمان رہ گئے ہیں، اس کے باوجود مسلمانوں کا خاندانی نظام کافی حد تک کامیابی سے چل رہا ہے ۔اس کی وجہ دین اسلام ہے ۔ اسلام میں تو پوری امتِ مسلمہ ایک خاندان ہے ۔ پوری امت کے دکھ درد ہمارے ہیں، اس کی تمام خوشیاں ہماری ہیں‘ اس کے تمام وسائل ہمارے اور ہمارے تمام وسائل اْس کے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خاندان کا تصور شوہر‘ بیوی اور بچوں تک محدود ہوگیا ہے ۔
حالانکہ اس میں میاں کے والدین بھی شامل ہیں اور اس کے بھائی ،بہن بھی شامل ہیں ۔ سب سے پہلے میاں اور بیوی ہیں ۔یہ ایسے ہی ہیں جیسے کسی ایٹم میں مرکزہ ہوتا ہے ۔اس مرکزہ کے گرد پہلا دائرہ شوہر کے والدین ،اور بچے شامل ہیں ،دوسرے دائرے میں بچوں کے تایا،ماما،چاچا ،خلائیں ،پھوپھیاں اور ان کی اولادیں سمجھیں ، اس کے بعد پڑوسی شامل ہیں اسی طرح یہ دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے ۔ ہماری محبت‘ توجہ اور وسائل میں معاشرے کے کمزور طبقات‘ مہمانوں اور مسافروں کا بھی حصہ ہے ۔ ہم ان لوگوں کو کچھ دیتے ہیں تو ان پر کوئی احسان نہیں کرتے ہم انہیں ان کا وہ حق ادا کرتے ہیں جو اْن کے وسیلے سے ہمیں عطا کیا گیا ہوتا ہے ۔ یہ افراد بھی خاندان میں شامل ہی سمجھیں اس کے بعد پوری امت مسلمہ اور ساری نسل انسانی کیونکہ ہم سب انسانوں کو بابا آدم علیہ السلام کی اولاد مانتے ہیں ۔
معاشرے میں رہن سہن کے لئے انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسی لئے انسانوں کے ساتھ رہنے کا نظام بنایا گیا ہے جو کہ صدیوں سے رائج ہے ۔ اس نظام کے تحت انسان کسی معاشرے میں رہنے کے لئے معاشرے میں تعلقات استوار کرتا ہے ۔ اپنا ایک الگ گھر بناتا ہے اور پھر اس گھر کا منتظم بن کر، گھر کے نظام کو احسن طریقے سے چلانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس نظام کو خاندان کہا جاتا ہے ۔ اس میں کسی بھی انسان کے قریبی اور خونی رشتے دار شامل ہوسکتے ہیں۔ خاندان کا سربراہ عموماً سب سے بزرگ یا سب سے بڑا انسان ہوتا ہے۔ خونی رشتے اور قریبی رشتے درج ذیل ہیں ۔(میاں ،بیوی)تو مرکزہ ہیں ان کے علاوہ والدین، پر دادا ،پر دادی ،دادا ،دادی ،،چچا ،چچی، تایا ،تائی ،پھوپھی، پھوپھا ،چچیرا بھائی ،چچیری بہن ،تایا زاد بھائی، تایا زاد بہن یہ تو خاندان کے افراد ہوئے ۔اب بھی بعض خوش قسمت خاندان ہیں جو مل کر رہتے ہیں ۔(بدقسمت کی بات نہیں کر رہا )اس خوش قسمت خاندان میں دیگر درج ذیل رشتہ دار بھی شامل ہوتے ہیں لیکن یہ ان کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں ایک جگہ مل کر نہیں رہتے ،رہ بھی سکتے ہیں ۔مثلاماموں، ممانی ،خالہ، خالو ،خالہ زاد بھائی، خالہ زاد بہن، ماموں زاد بھائی، ماموں زاد بہن ،خسر خوشدامن ،خواہر نسبتی ،برادر نسبتی وغیرہ ۔
خاندان کی اسلام میں کیا اہمیت ہے؟ انسان کی شخصیت پر خاندان کا غیر معمولی اثر ہوتا ہے اس کی وضاحت کے لیے یہ ( حدیث ﷺ ) سب سے بڑی مثال ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر بچہ اپنی فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے لیکن بچے کے ماں باپ اسے عیسائی‘ یہودی یامجوسی بنادیتے ہیں۔دین اسلام انسان کو زندگی کے ہر ایک شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔دین اسلام انسان کی سماجی ،سیاسی اور خاندانی زندگی کی مکمل رہنمائی کرتا ہے اور مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔
خاندان کی ابتدا میاں اور بیوی سے ہوتی ہے ۔’’اس پروردگار کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں۔تاکہ ان کے پاس سکون حاصل کرواور تم میاں بیوی کے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کردی۔یقینااس میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جوغوروفکر کرتے ہیں۔‘‘گویا یہ بھی لازم ہے کہ خاندان کی تشکیل اس طرح سے ہوجس میں میاں بیوی ایک دوسرے سے سکون حاصل کر سکیں اور ایک دوسرے سے محبت کر سکیں۔اب اس میاں بیوی کے خاندان میں اضافہ ہوتا ہے اسے اللہ تعالی نے یوں بیان فرمایا ہے ۔’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تم (مردوعورت)کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے تمھارا جوڑا بنایا تاکہ تم (مردوعورت)میں سے ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کر ے ۔پھر جب شوہر نے بیوی سے قربت کی تو اس کو ہلکا سا حمل رہ گیا۔سو وہ اس کو لیے ہوئے چلتی پھرتی رہی۔پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی پروردگار سے دعا کرنے لگے کہ اگر تونے ہم کو صحیح وسالم اور نیک اولاد دے دی تو ہم تیرے شکر گزار ہوں ۔خاندان میں ہر فرد اپنے اپنے حقوق و فرائض رکھتا ہے ،اس پر کچھ فرائض ہیں اگر وہ ان کو پورے کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے کچھ حقوق ملتے ہیں ۔’’تم میں سے ہر فرد حاکم ہے اور اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ۔ایک آدمی اپنے گھر میں حاکم ہے اور اپنی رعایا کا ذمہ دار۔بیوی اپنے شوہر کے گھر میں حاکم ہے اور اپنی رعایا کے بارے میں ذمہ دارہے اسی طرح خاندان کے سب افراد پر کوئی نا کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔اگر ہر فرد اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے تو خاندان قائم رہتے ہیں ۔اتفاق میں برکت ہے اس برکت سے وہ سب فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
دوسری طرف خاندان ٹوٹ بھی جاتے ہیں ۔ اس کے ٹوٹنے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں لیکن ان میں خود غرضی سب سے نمایاں ہوتی ہے ۔جائیداد کی تقسیم ،بچوں کے رشتے ،اپنی بڑائی چاہنا جیسی بہت سی وجوہات میں خاندان ٹکڑوں میں بٹ جاتے ہیں ۔ پہلے تو ہر خاندان الگ الگ رسمیں اور رواج بھی ہوتے تھے،اب دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے ،اس وجہ سے بھی اور اس وجہ سے بھی کہ خاندان کے افراد کی خود ہی اپنی خاندانی روایات سے بغاوت کرنے سے بھی یہ رسمیں دم توڑ رہی ہیں ۔خاندان کی دوستیاں اور دشمنیاں صدیوں تک قائم رہتی تھیں ۔اب یہ کافی حد تک ختم ہو گئی ہیں لیکن اب بھی بعض خاندان اس پر سختی سے قائم ہیں ۔ہم یہاں مختلف خاندانی صرف شادی کے بارے وہ رسم و روج درج کر رہے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ان پر سختی سے عمل ہوتا ہے ۔دلہن کو مائیوں بٹھانا ،مہندی ، دلہا کی سہرا بندی ،گانی اور ہار پہننا، جوتا چرائی ،جہیز،نیوندرا،بارات بینڈ باجہ ،سربالہ ،بری ،مکلاوہ ،سلامیاں ،منہ دکھائی ،گود بٹھانا،وغیرہ یہ اور اس جیسی سینکڑوں رسمیں ہیں جو خاندانی ہی ہیں ان کا اسلام سے یا شائد کسی بھی مذہب سے تعلق نہ ہو ۔پھر بھی ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ چکی ہیں ۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ ہر سال 15مئی کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں خاندان کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔اس دن کا مقصد عالمی سطح پر مختلف معاشروں میں قائم خاندانی نظام کو نا صرف مضبوط بنانے کیلئے شعور اجاگر کرنا ہے بلکہ ان خاندانی نظام میں موجودہ خرابیوں کو دور کرنا بھی ہے۔
ہم کو چاہیے کہ اپنے خاندان سے جو غیر اسلامی رسم و رواج ہیں ان کے خاتمے کے لیے کوشش کریں ۔اور اپنے خاندان کو اتحاد و اتفاق سے رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں ۔ہم کو چاہیے کہ ہر سطح پر خاندان کی بقا کے لیے مہم چلائیں ،تعلیمی نصاب ایسا ترتیب دیا جائے جس میں خاندان کی اہمیت ،دیگر ممالک میں خاندانی نظام ٹوٹنے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات ، خاندان کی بابت اسلامی تعلیمات وغیرہ کا احاطہ کیا جائے ، ، مساجد میں اور دیگر واعظ حضرات بھی اس بابت اپنا کردار ادا کریں اور ٹی وی چینلز میں خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں ہر ٹی وی کو ہفتے میں ایک دو پروگرام اس پر کرنے کا حکومت کی طرف سے پابند کیا جائے ۔

Views All Time
Views All Time
303
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   لینن لبرل سے نفرت کیوں کرتا تھا | عامر حسینی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: