Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

​مرحومہ عاصمہ جہانگیر کا مقدمہ

by فروری 13, 2018 بلاگ
​مرحومہ عاصمہ جہانگیر کا مقدمہ
Print Friendly, PDF & Email
​گیارہ فروری 2018ء عاصمہ جہانگیر بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔ اور ایک بار پھر جنت دوزخ کے ٹکٹ بانٹنے والے خواتین و حضرات اپنی اپنی دلیلیوں اور مقدموں کے ساتھ آن موجود ہوئے، لیکن ایک منٹ۔ عاصمہ جہانگیر کے متعلق ہمارا شدید فکری اور نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے ان کی تمام جدوجہد ایک طرف لیکن یہاں بات صرف انسانی رویوں کی کروں گی کہ میں خود کئی معاملات میں ان سے متضاد رائے رکھتی ہوں اور اس پر لکھ بھی چکی ہوں.لیکن ایک مقدمہ “مرحومہ” عاصمہ جہانگیر کے ساتھ بھی لڑا جا رہا ہے جو یقیناً قابلِ مذمت ہے۔ عاصمہ جہانگیر کون تھیں؟ کیا تھیں؟ مذہب کے لیے کیا کیا؟ ملک کے لیے کیا کیا؟
ان باتوں پر بحث سے پہلے صرف اتنا سوچ لیجئیے کہ آپ کون ہیں؟ کیا ہیں؟ اور آپ آج تک ملک اور مذہب کے لیے کیا کیا کرتے رہے؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ایک اچھے مسلمان ہیں، بہترین انسان ہیں اور آپ کے نامہ اعمال میں آج تک دینِ اسلام سے ہٹ کر کوئی عمل درج نہیں تو پھر بھی، جی ہاں پھر بھی یہی مذہب اسلام آپ کو ایسا کوئی حق نہیں دیتا کہ آپ دنیا سے جانے والے کسی بھی شخص کو دوزخی کہیں، اُسے اور اس کے لیے دعائے مغفرت کرنے والوں کو گالیوں سے یوں نوازیں.
گویا اس بات کی آپ کو آپ کا مذہب اجازت دیتا ہے، اپنے دل کی بھڑاس غلیظ جملوں کے ذریعے نکالنے کے لیے مذہب کی لاٹھی تھامنے والے یہ بات نہ بھول جائیں کہ ہمارے نبی محترم ص نے آج تک کسی شخص کو گالی نہیں دی، کسی کے لیے بد دعا نہیں کی تو ایسے مواقعوں پر اسوہ رسول ص کو دھیان میں لائے بغیر کس اسلام کو فالو کرتے ہوئے مرنے والوں کو خدانخواستہ جہنم کے نچلے ترین درجوں میں دھکیلا جاتا ہے،؟ کیا آپ اس بات کی گواہی نہیں دیں گے کہ ہمارا مذہب تو وہ ہے کہ جس میں میت کو غسل دینے والے خواتین و حضرات کو بھی سختی سے اس بات کی ممانعت فرمائی گئی کہ اگر وہ دورانِ غسل میت میں کوئی عیب دیکھیں تو کسی بھی طور دنیا والوں کے سامنے بیان نہ کیا جائے تو پھر وہ اسلام کون سا ہے جس کا نام لے کر آپ دنیا سے جانے والوں کو دنیا کے سامنے ذلیل و رسوا کرنے پر تیار نظر آتے ہیں.
وہ وطن کون سا ہے جس کی محبت محض کسی کو جہنم واصل کرنے کے لیے ہی آپ کے دل میں جاگ رہی ہے اور آپ یہاں سے وہاں اس طرح کے کمنٹس کاپی پیسٹ کرتے ہی چلے جا رہے ہیں جن میں عاصمہ جہانگیر کو یزید، فرعون اور نمرود کے برابر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ یعنی کہ حد ہو گئی۔ کیا یہ وطن اور مذہب وہی ہے جس کو جھُٹلانے والے، جس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے، جس کے لیے گندی زبان استعمال کرنے والوں کی فلمیں دیکھے بغیر آپ کی سانس بحال نہیں ہوتی جن کا میوزک سُنے بغیر آپ کا نوالہ حلق سے نہیں اترتا؟
افسوس سے کہنا پڑتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ ہم میں سے اگر کسی کی پانچ نمازیں وقت پر ادا ہونے لگیں تو ہم خود کو دوسروں سے ارفع و پر ہیزگار سمجھنے لگتے ہیں یہ الگ بات کہ ان پانچ نمازوں میں بھی دھیان ساتھ والے کی نماز پر لگا رہتا ہو کہ سُنتیں کم کیوں پڑھیں اور اضافی نوافل نجانے کس حاجت کے لیے پڑھے؟ اور پھر وہ اسلامی معاشرہ جہاں کے چند پھپھوندی لگے ذہنوں نے دنیا سے جانے والے امجد صابری اور جنید جمشید جیسے لوگوں کو نہ بخشا تو وہاں عاصمہ جہانگیر کی مغفرت کے لیے دعا کرنے والوں کو گالیاں پڑنا تو ایک عام سی بات ہے اور جو لوگ آج عاصمہ جہانگیر کی وفات کے بعد اچانک اسلام سکھانے نکلے ہیں اگر وہ اور ان جیسے لوگ نبی آخرالزماں ص کے اخلاق کا ایک ذرہ بھی جذب کر جاتے تو آج اسلام پر یہ وقت کبھی نہ آتا۔
 ہم یہ بات کیوں یاد نہیں رکھتے کہ دنیا سے جانے والے تو اپنے ہر اچھے برے عمل کے حساب کا رجسٹر بند کیے منصفِ اعلٰی کی عدالت میں حاضر ہو چکے ہیں جب کہ ہمارا اور آپ کا کھاتہ ابھی کھُلا ہے کس کے روزنامچے میں کیا درج ہو گا۔ اس پر فی الحال ہمارا اختیار ہے تو کیا یہ مناسب نہیں کہ دوسروں کو جہنم میں دھکیلنے کے بجائے خود اس دوزخ سے دور رہنے کی کوشش کی جائے کہ جو اعمال وہ کر گئیں وہ ان کی اور جو ہم کر رہے ہیں ہم ان کے ذمہ دار ہیں، جواب دہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک وضاحت یہ بھی ضروری ہے کہ اس تحریر کا مقصد عاصمہ جہانگیر کو اعلی مرتبت کہنے یا کوئی بہت ہی عظیم شخصیت ثابت کرنے پر اصرار نہیں۔ ان کے لیے زبردستی دعائے مغفرت کرنے کی بھی درخواست نہیں۔ لیکن ہاں اس حد تک برا کہنے پر اعتراض ضرور ہے کہ ان کے لیے خدانخواستہ دوزخ کی دعائیں کی جائیں ان کی موت پر لطیفے بنیں، یا فحش گالیاں دی جائیں تو ایسا کرنے والے کیا خود اپنے انجام سے واقف ہیں کہ وہ کس حال میں دنیا سے جائیں گے؟
ساری عمر عبادت کے بعد بھی مرتے دم کلمہ نصیب ہوگا کہ نہیں؟ ہماری عبادات قبولیت کا درجہ پا سکیں گی یا نہیں، کیا عاصمہ جہانگیر کو خدانخواستہ جہنمی ہونے کا سرٹیفیکیٹ دینے والے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ وہ خود جنتی ہیں؟ میں یا آپ یا ہم سب میں سے کوئی بھی ایک انسان کیا یہ دعوٰی کر سکتا ہے کہ وہ جنت میں جائے گا کیونکہ وہ جنت ہی کا حقدار ہے؟ یاد رکھئیے وہ بخشنے پہ آئے تو عمر بھر کے زناکار کو بھی صرف ایک پیاسے کُتے کو پانی پلانے کے عوض بخشش دے اور جلال میں ہو تو سب رکوع و سجود منہ پر دے مارے۔ اس لیے الفاظ کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ اللہ ہمیں ہدایت دے اور ہمیں اور عاصمہ جہانگیر سمیت دنیا سے چلے جانے والوں کو اپنے غیض و غضب سے محفوظ فرمائے۔
(آمین یا رب العالمین)
Views All Time
Views All Time
188
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیا ترقی تہذیب و تمدن سے ماورا ہوتی ہے؟-شیخ خالد زاہد
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: