Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

نقرئی خوابوں کے کھوٹے سِکّے

by ستمبر 18, 2016 بلاگ
نقرئی خوابوں کے کھوٹے سِکّے
Print Friendly, PDF & Email

zara-mazharمیرے چند حسین مگرتشنہِ تکمیل خواب ان سکًوں کی طرح ہیں جو خرچ نہ کیےجائیں تو پڑے پڑے کھوٹے ہی ہو جاتے ہیں ۔ عام طور پر گھروں میں ایک برتن مختص کرکے کسی کارنس ، شوکیس ، یا کہیں الماری میں رکھ دیا جاتا ہے تاکہ اس میں الّم غلّم ڈال دیا جائے اور بوقتِ اشد ضرورت اسے کھنگال کر کام کی چیز نکال لی جائے۔ اب سکًے چونکہ سکًے ہیں پھینکے نہیں جاسکتے تو اس میں ڈال دیئے جاتے ہیں ۔ بس میرے خوابوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی رہا خواب اور خیال ذہن کے کارنس پر سجتے رہے اور پرانے سکًوں کی طرح ان چھوئے پڑے رہے اور کھوٹے سکًے بن گئے۔ لڑکیاں اوائل عمری سے ہی کالے مُشکی گھوڑے والے شہزادوں کے خواب دیکھنا شروع کر دیتی ہیں۔ اچھے گھروں،کوٹھیوں،بنگلوں اور کچھ زیور لتّے کے خواب۔۔۔۔۔۔ مگر میرے خواب کچھ انوکھے رہے ۔ ہمیشہ ہی کسی کہانی کا پلاٹ ، لوکیشن، تانا بانا، حتیٰ کہ پورے پورے ڈائیلاگ تک وحی کی طرح اترتے۔ گہری نیند میں بھی ایک ہوش مندی کی کیفیت رہتی کانوں میں نِدا آ تی رہتی اٹھو اور لکھ لو مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جوانی کی مست نیند ایسا گھیرتی کہ اٹھ کر کچھ قلم بند کرنے کی ہمت نہ پڑتی اور صبح جب آ نکھ کھلتی تو مفلس کی محبوبہ کی طرح سب روٹھ چکا ہوتا ۔
تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں کورس کے علاوہ کسی کتاب کو ہاتھ لگانا ناقابل معافی جرم ہوتا اور پکڑی جانے والی کتاب جو کسی دوست سے پڑھنے کے لئیے ادھار لی گئی ہوتی ناقابل بیان سرزنش کے ساتھ چار ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہتھیلی پر رکھ دی جاتی ۔ مگر پھر بھی اس دور میں اتنی کتب پڑھیں کہ اب حیرت ہوتی ہے۔ چاند کی چاندنی میں چھت پر ناگن سپیروں کے ایسے ایسے قصے پڑھے کہ ڈر سے بستر سے پاؤں اتارنے کی ہمت نا ہوتی۔ خوف سے حلق میں کانٹے پڑ جاتے، چیخنے کی کوشش میں گلا بند ہو جاتا مگر لت ایسی لگی تھی کہ عمروعیار کی زنبیل بھی اپنے شوق کے آ گے چھوٹی پڑ جاتی ٹارزن کی ساری سیریز پڑھ لیں ابنِ صفی کے ناول جولیا ،جوزف کے قِصے اور وہ اشتیاق احمد کی کہانیاں لگتا کہ اگر اس کا نیا آ نے والا ناول سب سے پہلے نہیں پڑھا تو ملک کو درپیش خطرات کا دفاع کیسے ہوگا۔ خیر سلسلہ تو چلتا ہی رہا بڑے ہونے پر نوعیت ذرا بدل گئی۔ سسپنس ڈائجسٹ میں چھپنے والے سلسلے” دیوتا”نے سالوں سحر میں جکڑے رکھا ۔ کالج آ نے تک بڑے لکھاریوں پر نظر رہنے لگی جو کالج کی لائبریری سے پوری ہونے لگی۔ نسیم حجازی کے سارے تاریخی ناول پہلے سال پڑھ ڈالے کیوں کہ فسٹ ائیر کو کسی اور قسم کی کتابیں ایشو نہیں کی جاتی تھیں۔ لائبریرین نے شوق دیکھ کر آفر کر دی کہ فارغ پیریڈ میں میرے ساتھ کتابوں کی ترتیب سیٹ کروا دیا کرو تو اپنی پسند کی کتاب پڑھنے کے لئیے لے سکتی ہو۔ واہ جی پھر تو موج ہی لگ گئی ۔کام کے دوران بڑے بڑے ناموں کی لسٹ نوٹ کرلی جاتی اور پھر دامے،ورمے،سخنے فائدہ اٹھا لیا جاتا مگر پیاس نا بجھتی۔
شادی کے بعد کوئی پابندی تو نہیں تھی مگر گھریلو ذمہ داریوں نے ایسا جکڑا کہ وہی چھپ چھپا کر پڑھنے والی زندگی غنیمت لگتی مگر اوپر تلے بچوں کی آ مد نے ایسا بد حواس کیا کہ خواب آ نے ہی بند ہو گئے البتہ کتابوں کا ساتھ نہیں چھوٹ سکا جو بھی میّسر ہوئی اسے جانے نہیں دیا ۔ٹرین کے دور دراز سفروں میں کتاب بھی ہمسفر رہتی اکثر اوقات نان پکوڑے والا اخبار بھی جھاڑ جھپاڑ کر استفادہ حاصل کر لیتی کبھی کبھار کوئی بھولا بسرا خواب پلکوں پہ اٹکا رہ بھی جاتا تو بستر چھوڑنے سے پہلے یہ بات ذہن میں ہوتی کہ منّے یا منّی کو اٹھنے سے پہلے منہ میں فیڈر دینا ہے تاکہ وہ سوتی رہے اور پھر اسکول جانے والے بچوں کے کام ایک ترتیب سے دماغ کا احاطہ کئے رہتے۔ ایک کی چوٹی ایک کی ٹائی باندھنے میں مدد، ایک پیر کچن میں ایک لاؤنج میں، ناشتے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لنچ باکس اور گھڑی کی ٹِک ٹِک کا ساتھ دیتے دیتے ہلکان ہو جاتی۔ میاں کی آ فس تیاری میں مدد ،میچنگ موزے رومال سامنے پڑے نظر نا آ تے ۔ سب کے سدھارنے کے بعد اپنے ناشتے کے دوران میڈ کی آ مد جو اتنی جلدی میں ہوتی کہ لگتا پوری کالونی کے گھروں کو اس نے ہی نمٹانا ہے یا اس کی ٹرین نِکل جائے گی اور جہاز تو ضرور ہی اڑ جائے گا۔ اس کے ساتھ کھپتے کھپتے اگر رات کا دیکھا کوئی بھولا بِسرا خیال ذہن میں آ تا بھی تو فراغت تک اُڑن چھو ہو جاتا ۔
خیال کی تتلیاں اور خواہشوں کے جگنو اتنے نازک ہوتے ہیں کہ بس آ نکھ کُھلنے کے "شور” سے ہی اُڑ جاتے ہیں وہ کہاں انتظار کرتے ہیں کہ آ پ فارغ ہوں تو ہم بھی دستیاب ہوں خوابوں کو قلم کی گرفت میں لانے کے لئیے دِماغ کی یکسوئی اتنی ضروری ہے کہ فرشتوں کے پروں کی آ واز تک سنائی دینے لگے۔ اگر مطلوبہ یکسوئی نا مِلے تو چاہے آ پکے پاس ہزاروں الفاظ کا ذخیرہ ہو۔انوکھے، اچھوتے،رنگین،سنگین کیسے ہی خیال ہوں خوبصورت کاغذ قلم ہوں کچھ نہیں لِکھا جا سکتا۔ اور اگر آ پ کے گِرد ایک خوبصورت یکسو
ماحول ہو، ذہن اپنی سوچ میں آ زاد ہو سونے جاگنے پر کوئی پابندی نا ہو (مطلب آ پ جب مرضی اٹھ کر لِکھنا شروع کر دیں )تو ہی کچھ لکھنے کے خواب پایۂ تکمیل تک پہنچ پاتے ہیں۔ ایک خاص بات بھی ابھی کچھ عرصہ پہلے علم میں آ ئی کہ یہ سارے لِکھاری،شعراءاور ادیب بڑھتی عمر کے ساتھ اتنے خوبصورت اور گریس فل کیسے ہو جاتے ہیں جب آ پ اچھوتے خیال خوبصورت الفاظ اور انوکھے رنگ لکھتے ہیں تو یہ ساری کیفیات طاری کرنی پڑتی ہیں تو یہ ساری سوچیں انہیں بھی اتنا ہی حسین و رنگین بنادیتی ہیں یعنی پہلے وہ اپنے اچھوتے خیال کو پہنیں گے الفاظ کو اوڑھیں گے انوکھے رنگ میں ڈوبیں گے تو ہی کچھ ڈھالیں گے اور ڈھلنے تک یہ ساری خوبصورتیاں انکی اپنی شخصیت کا بھی حصہ بن جاتی ہیں۔
بات کر رہی تھی اپنے کھوٹے سِکوں کی اور کہاں سے کہاں جا نکلی میرے چند ایسے ہی کھوٹے سِکے جو طاقِ نسیاں بن چکے تھے چل گئے ہیں اور مجھے وہی خوشی ملی ہے جو کھوٹا سِکہ خرچ کرنے کے بعد ملتی ہے ۔ تھوڑی حوصلہ افزائی سی ہو گئی ہے۔ ایسے سِکوں کی ایک پوری بوری ہے جو میں پچھلے چند سالوں میں جمع کر چکی ہوں ۔سوچتی ہوں کبھی کبھار داؤ لگا کر خرچ کر ہی لیا کروں گی جس سے دکاندار کو شاید اتنا نقصان نہیں ہو گا البتّہ میرے حِصّے میں وہ خوشی ضرور آ ئے گی جو کھرے سکے کو خرچ کرنے کے بعد نہیں ملتی۔ میرے خواب، میرے افکار، میری سوچیں، میری خودکلامیاں جنہیں میں نے رکھا تو سکے سمجھ کر ہی تھا جو شاید کھوٹے بھی ہو چلے تھے لیکن اس آس پرنکالوں گی کہ چند فہیم ذہن انہیں جِلابخش کر نقرئی کر دیں گے۔

Views All Time
Views All Time
396
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   غالب اقبال اور ہیڈ اینڈ شولڈرز
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: