مجھے راہ دکھاؤ – فائزہ چوہدری

Print Friendly, PDF & Email

faiza-chاک عرصے سے میں نے کوئی تحریر نہیں لکھی تو میری ایک دوست کہنے لگیں کیوں نہیں لکھ رہیں؟؟؟ہمیں آپ کی تحریر کا انتظار ہے۔میں نے انھیں تسلی دی کہ میں جلد ہی کچھ لکھتی ہوں ۔میں خبریں باقاعدگی سے دیکھتی ہوں تاکہ کوشش کر سکوں کہ موجودہ حالات پر کچھ رائے قائم کر سکوں شاید اس طرح ہی ہمیں بھی دنیا کی کچھ سمجھ بوجھ حاصل ہو جائے ۔لیکن دوستو! موجودہ حالات کس نہج پر ہیں، آپ سب بھی بخوبی واقف ہیں۔کہیں انڈیا پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے تو دوسری طرف کشمیر پر مظالم کی انتہا کر دی ہے ۔کہیں سیاستدان ایک دوسرے کی ذات کے بخیے ادھیڑ رہے ہیں تو کہیں زلزلوں نے لوگوں کے حواس منجمند کر دیئے ہیں ۔کہیں بے روزگاری خودکشی پر مجبور کرتی ہے تو کہیں بھوکا پیٹ اپنی ہی انتڑیوں کو کاٹ کھاتا ہے۔کس پر لکھوں ؟؟؟ الیاس گھمن جیسے مفتی کے بارے میں لکھوں،جس نے بیٹی جیسے مقدس رشتے کو پامال کر دیا ،یاعمران خان کے بارے میں لکھوں جس نے سیاست کو کرکٹ کا میدان بنا دیا ہے۔دنیاکی بے حسی ،سفاکی اور عیاری کے سامنے میری سوچ کا دائرہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔زمانہ توبےحسی کا لبادہ اوڑھنے اور بہروپیا بننے میں ماہر ہے۔ ۔کہیں لوگوں کو سی۔ پیک بننے کی خوشخبری ملتی ہے توساتھ ہی دھماکوں کی اندوہناک خبرایسی خوشی کو مٹی میں ملا دیتی ہے۔کہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں سرگرم ہیں تو کہیں انسانوں کو صفحہء ہستی سے مٹایا جارہاہے۔کہیں تعلیمی اداروں پر حملے ہو رہے ہیں۔کہیں کوئی اپنی ناکامیوں اور مجبوریوں کے ہاتھوں تنگ ہو کر اپنی جان دے رہا ہے تو کوئی دولت و حسد کے لالچ میں دوسروں کی جانیں لے رہا ہے۔کیا یہی مقاصد رہ گئے ہیں انسان کی تخلیق کے؟؟؟؟؟کیا میں ان موضوعات پرقلم اٹھاؤں کہ کس نے کس پر کتنا ظلم کیاہے؟ اور کون کسی کونیچا دکھانے میں کتنا کامیاب رہاہے؟؟میرا قلم ان بے بس کشمیریوں کی طرح ہے جن کی طاقت کو ظلم نے دبوچ رکھا ہے۔پھڑپھڑاتا ہے لیکن آزاد نہیں ہے۔ایک ایسا پرندہ جسکے پر کاٹ کر اسے اڑنے کی اجازت دے دی جائے۔اگر کہیں غلطی سے کوئی سچ لکھ دے،کوئی حقیقتِ حال سے پردہ اٹھا کر دوسروں کو آئینہ دکھا دے تو اسکی جان کی قیمت ایک گولی ہے۔جو خاموشی سے اس کے جسم کے آر پار کر دی جاتی ہے اور اسکے والدین کو ،اسکے بہن بھائیوں کو ،اسکے بیوی بچوں کو اس سچ کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
کیا ایسے انصاف پہ لکھوں ؟؟ْ؟ایک طرف راحیل شریف نے دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا تو دوسری طرف پولیس کے اعلی افسران "را "کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور وہی ایجنسیاں انہی پولیس والوں کے ٹرینگ سنٹرز پرحملے میں ملوث ہیں ۔کہیں اداکار آپس میں لڑ رہے ہیں تو کہیں کھلاڑی ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں ۔کھبی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگتے تھے اور آج پاکستان مردہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔
کہیں عالمی جنگ کی باتیں گردش کر رہی ہیں تو کسی نے ارشد خان کو سلیبرٹی بنا دیا ہے۔
میرے بھائیو!میرے دوستو!
کیا میں ایسی قوم کی عقلمندی کی تعریفوں کے پل باندھنے کے لئے قلم اٹھاؤں ؟جس کی جذباتیت ،ارشد خان جیسے عام شخص کو تو بلا جوازشہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے لیکن بیوہ اور یتیم بچوں کے بھوکے پیٹ ، سوال کرتی آنکھیں اور افلاس زدہ چہروں کو بے حسی کے پردوں کے پیچھے ڈھک دیا جاتا ہے؟؟؟جہاں حقوقِ انسانیت کی تنظیمیں نہ صرف سرگرمِ عمل ہیں بلکہ اسے نصاب کا حصہ بنائے جانے کے لئے بھی پر عزم ہیں مگرانسانی حقوق کیا ہیں ؟یہ کسی کو علم نہیں ہے۔ایک طرف یہ مباحثے جاری ہیں تو دوسری طرف اسی انسانیت کے ظلم کا شکار ہوتی بہو،بیٹیاں،معاشرے کی سفاکی کا شکار ہوتے بزرگ اور نوجوان ،ان تنظیموں کے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔انسانیت کو پامال کرنا تو ایک طرف انسان نے تو جانوروں کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے شیطان کو بھی مات دے دی ہے ۔ اپنی ہوس کی بھوک مٹانے کے لئے کتوں کے ساتھ کتے بن گئے۔بلکہ کتے کو جان سے مار کے اپنی ہوس دور کر کے دوہرا بلکہ تین گنا بڑے جرم اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے انسان کیا انسان کہلانے کے حق دار ہیں ؟؟؟بتاؤ عزیزو !جب آپ ایسی خبر سنو کہ ایک کتا انسان کی ہوس کی بھینٹ چڑھ گیا تو کیا آپکی روح نہیں کانپ اٹھے گی؟؟؟کیا آپکا ذہن کچھ سوچنے کے قابل رہے گا ۔جب آپ سنو کہ باپ نے بیٹی کو محض اس لیے قتل کر دیا کہ اس نے روٹی مکمل گول نہیں بنائی تھی؟؟کیا آپکی زبان آپکا ساتھ دے گی جب آپ پڑھو گے کہ ایک ماں نے اپنے ہی لختِ جگر کا گلا دبا دیا تاکہ وہ اسکی بے حیائی کی داستان عام نہ کر دے؟؟؟ان سب چیزوں کی وجہ کیا ہے؟؟؟میں نے بہت سوچا ، بہت سمجھا ،بہت سوچ بچار کے بعد جو بات میری سمجھ میں آئی وہ یہی ہے کہ انسان نے انسانیت کو فراموش کر دیا ہے۔اگر انسان یہ سمجھ لے کہ وہ کیا ہے تو ایک بھی سوال ایسا نہ رہے جسکا جواب نہ ملے بلکہ سوال پیدا ہی نہ ہو۔انسان جان لے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے۔تمام مخلوقات حتی کہ فرشتوں سے بھی افضل بنایا گیا ہے۔فرشتے جنہں اللہ نے نور سے پیدا کیا وہ جو نیک پاک اور پرہیزگار ہیں وہ جو اللہ کی عبادت میں دن رات مگن رہتے ہیں ،جنکا کھانا پینا چلنا پھرنا سب صرف اور صرف خدا کی رضا کے لئے ہے۔انسان کو خدا نے ان فرشتوں سے بھی افضل بنایا ہے۔لیکن افسوس انسان نے اپنے مرتبے کو نہیں پہچانااور انسانیت کو پامال کر دیا ہے اور خوفِ خدا کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔کیا لکھوں میں ایسے انسانوں کے بارے میں؟؟؟؟کاش! انسان خود کو پہچان لے۔
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے”
انسان نے کس کو بلند کیا ہے؟؟؟ سفاکی ،جھوٹ ،ظلم ، چور بازاری ،غرور،فریب دھوکہ دہی کو؟؟؟میرے دوستو !مجھے بتاؤ کہ میرے قلم سے کیا لکھا جائے؟؟؟اگر کسی دوست کی سوچ کا دائرہ انسانیت کے کسی پہلو کا احاطہ کر سکے تو مجھے راہ دکھاؤ۔
مجھے راہ دکھاؤ کہ دھندلا گئی ہیں آنکھیں میری
بے حسی کے لبادے میں چھپی انسانیت دیکھ کر

Views All Time
Views All Time
540
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   میٹھی عید پھیکی ہو گئی | شاہانہ جاوید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: