ایک ہےبادشاہ اور ایک ہے بادشاہ گر | فہمیدہ یوسفی

Print Friendly, PDF & Email

بچپن میں جب دادی کہانی سناتی تھیں تو اس کا آغاز کچھ ایسے ہی ہوتا تھا کہ ایک تھا بادشاہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ،اور بادشاہ بہت نیک ایماندار اور بہادر ہوتا تھا (ورنہ و ہ بادشاہ کیسے ہوتا) خیر پھر ہوتا کچھ یوں کہ بادشاہ جب ایک دن سو کر اٹھتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو کسی اندھیرے جنگل میں ہے اور اس کے ساتھ تو کوئی بھی نہیں خیر قصہ مختصر بادشاہ کو یا تو خواب میں کوئی بشارت ہوتی ہے یا کوئی بزرگ مدد کرتے ہیں اور بادشاہ کو نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی سلطنت واپس مل جاتی ہے بلکہ ایک عدد خوب صورت ملکہ بھی مل جاتی ہے اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں مگر کہانی میں موجود بزرگ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں یہ کبھی کسی کہانی میں پتہ نہیں چل سکا شاید بادشاہ گروں کی یہی خوبی ہوتی ہے وہ منظر عام پر نہیں ہوتے مگر اقتدار کا کھیل ان کے ہاتھوں میں ہی ہوتا ہے پاکستان کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ایوانوں میں منتخب حکومتیں اسی بادشاہ گر کے ہاتھوں تخلیق پاتی رہیں اور یہ الگ با ت ہے کہ ہمیشہ رلتی رہیں کبھی پھانسی کی صورت کبھی قتل کی صورت کبھی جلا وطنی کی صورت کبھی کسی منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کی صورت ہمارے معصوم بادشاہ ہر بار یہ سوچتے ہیں اب کی باری تو ایسا نہیں ہوگا مگر ہر بارنتیجہ اس سے بھی خوف ناک آتا ہے اللہ اللہ کرکے جب ضیاالحق نے اس ملک کی جان چھوڑی تو امید تھی کہ شاید یہ ملک کچھ اچھے دن دیکھ سکے مگر بادشاہ کو اقتدار اور بادشاہ گر کو تما شہ کبھی ایک بادشاہ تو کبھی دوسرا پھر بھلا ہو بادشاہ گر کا اقتدار آہنی ہا تھوں میں دے کر خود لگا تماشہ دیکھنے پھر اس ملک کی تاریخ نے دیکھا کہ کیسے ایک بادشاہ (ویسے تو وہ ملکہ تھی مگریہاں بادشاہ ہی استعمال کریں گے) کو اقتدار سے پہلے ہی موت دے دی گئی ،بنی تھی اس کی بھی جے آئی ٹی اور بادشاہ کے آس پاس والے بادشاہ بنے مگر وہ تو بادشاہ گر کو پسند نہیں تھے تو کہانی پھر سے شروع ہوئی عدلیہ بحالی تحریک سے لے کر چیف جسٹس کے سوموٹو ایکشن اور میڈیا کی انصاف کی پکار تو بچے بچے کو یاد ہے پھر ہوا یوں کہ بے چارے منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا گیا آخر ملک سے کرپشن کو بھی تو ختم کرنا تھا اور سب سے زیادہ خوش اقتدار میں اگلی باری لینے والے تھے آخر بادشاہ گری کے کھیل میں ان کی بظاہر جیت ہورہی تھی نہ اور پھر ہوئے اس ملک میں الیکشن ویسے نہ بھی ہوتے مگر کہانی میں جان بھی تو ہونا چاہئے اور جیت گئے اگلی باری والے چلو اب تو شاید سب ٹھیک ہوگا اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے لیکن ایسے مزہ کہاں تو بادشاہ گر لائے اس بار ترپ کا پتہ اور لے کر آئے ایک بگڑا شہزادہ جس کی طرف عوام کی محبتیں بھی اور بادشاہ گر کی عنایتیں بھی ۔ یہاں بادشاہ بھی طاقت کے نشے میں چور تو تھوڑا مزہ تو چکھانا تھا تو بادشاہ کے خلاف اس کے اپنے شہر میں سازشیں بادشاہ بیچارے نے جیسے تیسے ان سازشوں کو ناکام بنایا اور ملک میں شہد اور دودھ کی نہریں بہانے کا انتظام شروع کیا مگر یہ الگ بات ہے کہ وہ نہریں بادشاہ نے اپنے ملک کی بجائے اس ملک میں بہائیں جہاں اس کی بچے موجود تھے بھئی بادشاہوں کے بھی تو خاندان ہوتے ہیں ان کو بھی تو اس دنیا میں گزارہ کرنا ہوتا ہے ۔ جب سے یہ پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوا ہر کوئی اپنی ڈفلی اپنا راگ سنا تے رہے۔ پوری حکومتی مشینری صرف اس بات پر مصر رہی کہ یہ تو کوئی معاملہ ہی نہیں دنیا میں وزیر اعظم کے خاندان کاروبارکرتے ہیں اور اپنی جیبیں بھرتے ہیں تو پاکستان جیسے ملک میں یہ کون سی اتنی بڑی بات ہوگئی (اور واقعی کون سی بڑی بات ہے) اور ساتھ ہی بادشاہ کے درباری روز اب اچھا ہے کا راگ الاپتے اور اور بادشاہ کو اللہ جانے قوم سے خطاب کا نادر مشورہ کس نے دیا اب اس جذباتی تقریر کا اثر قوم پر تو کیا ہونا تھا الٹا جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بگڑے شہزادے کی ہاتھ ایک اور سواد لگ گیا کہ ثابت کروتو استعفی دونگا تو اب تو بچوں کے ساتھ خود بھی شامل ہو تو استعفی مگر استعفی تو اگلے نے جب نہیں دیا تھا جب جان کے لالے تھے اب کی بار تو کاروبار گھر بار سب سیٹ ہے وسعت اللہ خان نے اپنے کالم میں کیا خوب لکھا کہ جس روز سپریم کورٹ نے جزوی قصور وار قرار دیا تھا اسی روز شام کو میاں صاحب قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہتے کہ اگرچہ عدالت نے انہیں حقائق چھپانے کا واضح طور پر مجرم قرار نہیں دیا لیکن جب تک ان کی ذات پر سے شک و شبہے کے بادل نہیں چھٹ جاتے تب تک وہ اپنے عہدے سے کنارہ کش ہوتے ہوئے اپنی بے گناہی کا مقدمہ ذاتی حیثیت میں لڑیں گے اور خدا کے فضل سے سرخرو ہوں گے۔
اگر ایسا ہو جاتا تو وزیرِ اعظم کے ہانکے کی سوچنے والے دھرے رہ جاتے اور جمہوریت کو بہت ہی طاقتور اخلاقی انجکشن بھی لگ جاتا۔ انجکشن تو اب بھی لگے گا مگر جانے کسے اور کہاں لگے
تو پیارے سننے والوں کہانی یہاں ختم یا شروع یہ فیصلہ تو اب آپ کی مرضی کیوں کہ کہانی میں بادشاہ بھی ہے جنگل بھی اور بادشاہ گر کی بادشاہی بھی ۔

Views All Time
Views All Time
993
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دھرنے کی’’ چولی‘‘ کے پیچھے کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: