روشن خیال پاکستان!!!

Print Friendly, PDF & Email

rizwan a awanروشن خیال ۔۔۔یہ لفظ سننے اور دیکھنے میں کتنا پرکشش لگتا ہے مگر اس کے دو پہلو ہیں ایک انتہائی خوبصورت،اور دوسرا انتہائی خوفناک۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پاکستان کو روشن خیالی کی بہت ضرورت ہے مگر آج سے چند سال پہلے ہمارے ملک میں روشن خیالی کے نام پر جو کھلواڑ کیا گیا اور اُس کے جو پہلو ہمارے معا شرے پر اثر انداز ہوئے انہیں دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے،روح تڑپ جاتی ہے۔
ذرا غور کریں! کہ روشن خیالی کے نام پر ہماری نوجوان نسل کو جو سوچ دی گئی کیا وہ صحیح ہے؟مغرب کی طرف دیکھتے ہوئے ہم نے اُن کی بہت سی چیزیں اپنائیں جس میں روشن خیالی سرفہرست ہے۔مگر یہ کیسی روشن خیالی ہے کہ جو ہمیں مغرب کے نائٹ کلبوں میں ،فیشن شوز میں،جنسی بے راہ روی میں،بڑے چھوٹے کا ادب بھلانے میں ،فلموں اور ڈراموں میں،ماں باپ کی عزت کو تار تار کرنے میں ہی نظر آئی مگر ہمیں مغرب کی ترقی کا راز جاننے میں نظر نہ آئی؟مکتب گاہوں کو آباد کرنے میں نظر نہ آئی؟ جدید ایجادات میں نظر نہیں آئی؟
جدید طرز تعلیم کو ہم نے اپنایا ضرور مگر اُس میں ایسا مواداپنی نئی نسل کے حوالے کردیا جس میں نہ ہمارے قومی ہیروز کے بارے میں بتایا جاتا ہے نہ ہمارے مسلم دنیا کے بہترین حکمرانوں اورمسلم دنیا کے عروج کی کہانی بیان ہوتی ہے۔بتا یا جاتا ہے تو صرف مغربی شاہکاروں کے بارے میں ۔’کو ایجوکیشن ‘ کے بلکل خلاف نہیں ہوں مگر کو ایجو کیشن کے نام پر ہونے والی بے ہودگی کے خلاف ہوں جسے روشن خیالی کے نام پر ہماری نوجوان نسل کی رگوں میں بھر کر اُسے کمزور کرنے کی گھناؤنی چال ہے۔
ہماری نوجوان نسل کو آج ایسی معاشرت سکھائی جا رہی ہے جیسے آپ ایسی سڑک پر ڈرائیونگ سے تشبہیہ دے سکتے ہیں جیسے تمام گاڑیاں سیدھی طرف جارہی ہوں اور آپ اُلٹی طرف۔
ٹی وی شوز اور ڈراموں میں ایسے کردار سامنے لائے جاتے ہیں جن کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور معاشرے میں ایسی برائیوں کو جنم دیتے ہیں جن سے معاشرہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہے۔
ڈانس کلبوں ،سنیما گھروں کے کھلنے سے ملک میں ترقی نہیں ہوتی بلکہ ترقی مکتب گاہوں میں بیٹھنے سے ہوتی ہے۔فن کے نام پر بے ہودگی ہمارے معاشرے کی زینت بن چکی ہے۔فیشن شوز کے نام پر مشرقی کلچر کو ایسے کلچر سے تشبہیہ دی جاتی ہے جو کہ ہماری معاشرتی روایات کے بلکل بر عکس ہے۔پورا اور مکمل لباس پہنے کھڑی بنت حوا کو دیکھ کر اش اش کرتے ہیں اور اُسے قدیم دور کا سمجھا جاتا ہے۔ مگرحو ا کی بیٹی کا تماشا بنا کراُسے آدم کے بیٹے روشن خیالی کی چادر میں لپیٹ دیتے ہیں۔معاشرے میں اصلاحات کی بات کرنے والے کو پرانے خیالات کے مالک کا طعنہ دیا جاتا ہے۔
یہ اسی روشن خیالی کی بدو لت ہے کہ آج ہر گھر میں ماؤں ،بہنوں کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے، اُنھیں گھروں سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔
بے ایمانی ،لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے ،یہاں جوتے تو ائیر کنڈیشنز میں بکتے ہیں مگر قوم کو معمار بنانے والی کتابیں سڑکوں پہ پڑی ہوتی ہیں۔
نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں کسی بیٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے مسئلے کو اپنی جیبیں بھرنے اور امداد حا صل کرنے کے لئے تو اُٹھاتی ہیں مگر تھر میں ہونے والی ہلاکتیں انہیں نظر نہیں آتی ہیں ۔حکمران اسمبلیوں میں فیشن کی خوشگپیوں میں مصروف ہوتے ہیں مگر اُنھیں غریب کی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔
افسوس کے روشن خیالی کے نام پر ہم نے اپنے پیارے نبی آخرا لزماںﷺ کی بتا ئی ہوئی باتوں کو بھول گئے ۔اُنھو ں نے جو اﷲ رب العزت کا پیغام ہم تک پہنچایااُسے ہم نے رد کر دیا ۔نبیؐ کی بتائی ہوئی معاشرت کو بھول گئے اور اپنا ہی زمانہ بنا لیا ، اپنے ہی طریقے بنالئے۔اپنی مرضی کی معاشرت کو ڈیزائن کر لیا۔نماز کو بھول گئے۔جھوٹ،بے ایمانی،دغہ بازی،بے حیائی کو روشن خیالی کے نام پر فروغ دینا شروع کردیا۔
میں مانتا ہوں کہ پاکستان کو روشن خیالی کی اشد ضرورت ہے ، ترقی کی اشد ضرورت ہے مگر یہ روشن خیالی تعلیم سے آئے گی۔اﷲ اور اُس کے نبیؐ کے بتائے ہوئے رستے پہ عمل کرنے سے آئے گی۔قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کا خواب اسلامی فلاحی ریاست تھا۔ اسلام ایک آزاد اور کھلے ذہن کا مذہب ہے ۔اپنے نبیؐ کی بتائی ہوئی معاشرت کو اپنا کے تو دیکھو سب ٹھیک ہو جائے گا، ان تمام برائیوں سے پاک ہو جاؤ گے۔’اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤ‘ بس یہی جملہ نکلتا ہے ایسی حرکات کو دیکھ کر، کاش ہمار ی نوجوان نسل کو سمجھ آجائے اور وہ مکتب گاہوں کی طرف لوٹ آئیں۔ روشن خیال ملک اُس وقت ہوگا کہ جب ہم انجینئر پیدا کریں گے۔سائنسدان پیدا کریں گے۔ ڈاکٹر پیدا کریں گے۔ ملک کو حقیقی روشن خیالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔یقین کرلو بہت آگے جائیں گے اگر مغرب کی لائبریریوں میں جو ہوتا ہے اُسے اپنا لیں تو ورنہ یہ بات یاد آتی ہے کہ مغرب کی طرف جائے گا تو ڈوب جائے گا۔
ایسی معاشرت اپناؤ جس کا حکم دین میں ملتا ہے جس سے معاشرہ محفوظ ہوتا ہے۔
کاش میں ایک ایسا روشن خیال پاکستان دیکھ سکوں جو بے حیائی سے پاک ،بے ایمانی سے پاک ہو!!!

Views All Time
Views All Time
365
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سلمان حیدر اور دوسرے بلاگرز کا معاملہ کیا ہے – اختر عباس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: