عید دیس پردیس کی

Print Friendly, PDF & Email

Aamna Ahsanرمضان کا اختتام ہوا چاہتا ہے ،جولائی کی 6 یا 7 تاریخ کو میٹھی عید یا حرف عام میں چھوٹی عید ملک بھر میں منائی جائے گی. عید کی آمد ہر چہرے پر مسرت لے آتی ہے.زیادہ تر لوگ عید کی خوشیوں میں اپنے سفید پوش بہن،بھائیوں کو یاد رکھتے ہیں،اور یاد رکھنا بھی چاہیے . عید تبھی عید ہو گی،جب آس پاس موجود سبھی لوگ خوشیاں منا سکیں . لیکن ہر خوشی کے لمحے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں،جو اپنے آنسو چھپانے کی کوشش بلکہ نا کام کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں . یہ ہوتے ہیں پردیسی . پردیسی چاہے روزگار کے حوالے سے اپنوں سے دور ہو یا کسی اور وجہ سے ، اپنے گھر والوں کے بغیر عید،عید نہیں ہوتی. آج سے 35 سال پہلے میری والدہ کراچی شہر سے شادی ہو کر لاہور آئی تھی ، میں نے ہمیشہ عید پر انھیں چھپ کر آنسو بہاتے دیکھا، میں تھوڑی بڑی ہوئی تو انھیں کہتی،آپ کیوں روتی ہیں؟ ہم سب بہن بھائی ہیں نا آپ کے پاس . وہ کہتی ، تم سب ہو،مگر امی نہیں ہیں. پھر ہوا کچھ یوں کے چار سال پہلے مجھے شادی کر کے لاہور سے کراچی آنا پڑا . اب ہر عید پر میری بھی وہی حالت ہوتی ہے،جو میری امی کی ہوتی تھی . آج وہ مجھے سمجھاتی ہیں کہ رونا کیسا محبت کرنے والا شوہر ہے ،آس پاس زندگی سے بھرپور لوگ ہیں.میں انھیں کہتی ہوں،آپ صحیح روتی تھی،ماں کے بغیر عید ، عید نہیں ہوتی . انکی بھیجی ہوئی عیدی،کپڑے جب دو دن پہلے مجھے ملے،تو چاہ کر بھی آنسو نا روک پائی،کاش کہ TSC کے ذریعے ماں کو گلے بھی لگایا جا سکتا،کاش کے بہن بھائیوں کو چھیڑا جا سکتا،انکا لمس محسوس کہ جا سکتا. کپڑے جب پہن کر دیکھے،تو ان میں امی کی خوشبو رچی بسی ہوئی تھی ، انکا پیار چھلک رہا تھا. یہ تحریر صرف میری نہیں ہر اس پردیسی کی کہانی ہے ، جسے کسی نا کسی وجہ سے اپنوں سے دور ہونا پڑا . چار بہنوں کا اکلوتا بھائی کبھی عید پر گھر نہیں آیا،کیونکہ اسے اپنی چار بہنوں کی عید کی تیاری کے لئے پیسے بھیجنے ہوتے تھے،میں اور مجھے جیسی بہت ساری بیٹیاں کبھی عید پر اپنے شہر،اپنے میکے نہیں جاتیں ، کیونکہ عید تو اپنے گھر ، اپنے سسرال میں کی جاتی ہے .میرے بہت سارے دوست اس وقت اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے دوسرے شہروں اور ملکوں کی خاک چھان رہے ہیں ، انکے لئے عید کیا ہو گی ؟باقی ماندہ دنوں کی طرح اک دن ،،،، اپنے آس پاس دیکھیں اگر آپ کے سارے پیارے اس عید پر آپ کے پاس ہیں،آپ کے ساتھ ہیں تو آپ خوش قسمت ہیں . ہر کسی کو عید پر ماں ، باپ سے گلے ملنا نصیب نہیں ہوتا ، ہر کسی کی بہن اسکے عیدین کی نماز پڑھ کے آنے پر اسکی منتظر نہیں ہوتی . ہر بہن کا بھائی عید پر اسکے تیار ہونے پر اسے چھیڑ خانی کرنے کے لئے دستیاب نہیں ہوتا . اس عید پر روٹھوں کو مانا لیں ، دور جانے والے کو روک لیں ، یہ رشتے بہت انمول ہیں ، بار بار نہیں ملتے . عید کی خوشیوں میں ہر پردیسیوں کو یاد رکھے ، جو آپ کے اک پیغام ، اک عید کارڈ اور اک فون کال کے منتظر رہتے ہیں . آنے والی عید اس امید کے ساتھ مبارک کہ اس بار پاکستان میں اک ہی دن عید منائی جائے فی امان اللہ

Views All Time
Views All Time
1146
Views Today
Views Today
6
mm

آمنہ احسن

آمنہ احسن کو کتابیں پڑھنے کا بہت شغف ہے

One thought on “عید دیس پردیس کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: