Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تعلیم۔۔۔آم۔۔۔ہو گئی – عبدالرحمٰن بیگ

تعلیم۔۔۔آم۔۔۔ہو گئی – عبدالرحمٰن بیگ

علم کی اہمیت، عزت، عظمت، فضیلت، ترغیب و تاکید جس اہمیت کیساتھ اللہ رب العزت کے آفاقی مذہب دین اسلام میں پائی جاتی ہے اسکی نظیر اور کہیں نظر نہیں آتی۔ تعلیم و تربیت اور درس و تدریس تو گویا اس دین برحق کا جزو لازم ہے۔

اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید کی چھ ہزار آیتوں میں سب سے پہلے جو آیتیں نازل فرمائیں ان سے بھی قلم کی اہمیت اور علم کی عظمت کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے۔ ” اے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔ پڑھو! کہ تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے کہ جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔”

گویا کہ وحی الہٰی کے آغاز ہی میں جس چیز کیطرف سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے نوع انسانی کو توجہ دلائی گئی، وہ لکھنا، پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے جواہر و زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا۔ ہمارے مذہب میں تعلیم کو کس قدر اہمیت و عزت حاصل ہے لیکن اب ذرا بات ہو جائے اسلام کے نام پر حاصل کیے جانیوالے نام نہاد اسلام کے قلعے، اسلامی جمہوریہ بحرانستان، گنوارستان، مسائلستان ( پاکستان) کی کہ جو نہ تو اسلامی ہے اور جمہوریت کا تو دور دور تک کوئی نام و نشان ہے ہی نہیں۔

خیر، ذرا غور کیجیے کہ یہ انتہائی افسوسناک المیہ ہی تو ہے کہ جس دولت کے حصول کی تاکید اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کی وہ آج تنزلی کا شکار ہے۔

موجودہ تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار فرد واحد نہیں بلکہ انفرادی و اجتماعی طور پر ہم سب ہی کہیں نہ کہیں اسکے ذمہ دار ہیں۔

خواہ اساتذہ ہوں، والدین ہوں، طالبعلم ہوں، حکومت وقت کا ذکر کرنا یہاں مناسب نہیں کیونکہ ” اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا” کے مصداق حکومت کے پاس حکومت کرنے کیلئے ہی وقت نہیں ہے تو وہ اس بارے میں کیسے سوچ سکتی ہے۔
ویسے بھی ہمارے حکمران اور اعلیٰ عہدیداران پر تو یہ مثل صادق آتی ہے کہ ” بندر کیا جائے ادرک کا سواد ” یعنی کہ علم جیسی دولت کی قدر و قیمت یہ لوگ کیا جانیں؟؟؟ کیونکہ انہیں تو صرف ہوس ہے اقتدار اور زر و زمین کی جس کے بل بوتے پر وہ من چاہی کاغذی قابلیت تو خرید لیتے ہیں مگر فہم و ادراک نہیں۔

اسی لیے تو انکا یہ حال ہے کہ دنیاوی علوم تو دور دینی علم سے بھی بے بہرہ ہیں اور حالت اسقدر ناگفتہ بہ ہے کہ کسی کو سپاروں کی صحیح تعداد کا علم نہیں تو کوئی سورہ اخلاص تک کی ٹھیک طرح سے تلاوت نہیں کر سکتا۔

آج ہماری کسمپرسی، بلکتی زندگی اور روز مر مر کے جینے کے ذمے دار یہی نالائق، کرپٹ اور شمع علم سے نابینا حکمران ہیں کیونکہ ہمیں پچھلے 64 برسوں میں ایسا کوئی حکمران نصیب نہ ہوا جس اس شمع کا پروانہ ہوتا۔ اسی لیے تو ہماری سرکاری اداروں کی حالت اسقدر ناگفتہ بہ ہے ، کھنڈر نما، بجلی و پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم عمارتیں، جہاں بچوں کو پانی کی سہولت میسر ہے نہ ہی بیت الخلاء کا صحیح انتظام ہے۔ سونے پہ سہاگہ کہ رشوت و سفارش سے بھرتی کیے گئے اساتذہ کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ علم کا ہی کمال ہے کہ وہ انسان کو جہالت و گمراہی کے اندھیروں سے کر علم و آگہی کی روشنی میں لے جاتا ہے۔ انسان میں شعور پروان چڑھتا ہے اور اس میں اچھے برے کی تمیز کرنے کا شعور پیدا ہو جاتا ہے لیکن نہایت دکھ و افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا شعبہ وہ شعبہ ہے جسے سب سے زیادہ نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اسکی بہتری کے لیے حکومتی سطح پر کسی قسم کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے جسکی وجہ سے ہم اس وقت دنیا کی دوسری قوموں سے بہت پیچھے ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان کئی ممالک میں سے ایک ہے جہاں تعلیم پر بہت کم خرچ کیا جاتا ہے۔ مثلا اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں 2006-07 میں تعلیم پر (GDP) کا محض 2.5 فیصد خرچ کیا گیا جبکہ 2007-08 میں تعلیم کے لیے 2.47فیصد، 2008-09 میں تعلیم کے لیے بجٹ میں محض (GDP) کا 2 فیصد مختص کیا گیا جبکہ 2010-11 کے بجٹ میں تعلیم کیلئے صرف 2.28 فیصد رکھا گیا۔

ہمارے ملک پاکستان میں تعلیم کے لیے رکھا جانیوالا کل بجٹ آکسفورڈ یونیورسٹی کے صرف ایک ڈیپارٹمنٹ کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کی تقریبا آدھی آبادی ان پڑھ ہے اور ستم یہ کہ جو لوگ پڑھ رہے ہیں اور اسکولوں اور کالجز میں جا رہے ہیں انہیں امتیازی یا طبقاتی نظام تعلیم کا سامنا ہے۔

ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ آج 64 برس گزر جانے کے باوجود بھی ہم یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ذریعہ تعلیم کیا ہونا چاہیے؟

ہمارا نصاب کن بنیادی تبدیلیوں کا متقاضی ہے؟؟؟؟ آج بھی ہم اپنے بچوں کو چار زبانوں کے چنگل میں الجھائے ہوئے ہیں نتیجہ ” کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا ” کہ مصداق انہیں اپنی مادری زبان تک پر عبور حاصل نہیں ہو پاتا، ہم نے اپنے نظام تعلیم کو بارہ مسالے کی چاٹ بنایا ہوا ہے۔ اسکے علاوہ ہمارے یہاں تعلیمی شعبے کو طبقاتی چھاپ کی بدترین شکل کہا جا سکتا ہے۔

ایک ہی ملک میں مختلف نظام تعلیم اور طریقہ تعلیم رائج ہیں۔ تعلیم کے نام پر کی جانیوالی اصلاحات محض سیاسی نعروں کی حیثیت رکھتی ہیں جو صاحب اقتدار طبقہ اپنی نام نہاد شہرت میں اضافے کیلئے بلند کرتا رہتا ہے۔

ہمارے ملک میں تین قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں۔ ہر اسکول اپنی پسند سے بلکہ باقاعدہ کمیشنڈ کتابوں پر مشتمل نصاب منتخب کرتا ہے۔ سرکاری اسکولوں کے نصاب کے تو کیا ہی کہنے!!!!!!! ماشاء اللہ !!!!!!! اس قدر قدامت پسندی کہ نسل در نسل ایک ہی سبق کا باقاعدہ رٹا لگوایا جاتا ہے۔ یہ سرکاری اسکول غریب طبقے کیلئے مخصوص ہیں جہاں تعلیمی ماحول، صحت مند سرگرمیاں اور صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع مفقود ہیں۔

یہ امر بھی قابل افسوس ہے کہ حکومت کے زیر اثر سرکاری اسکولوں کی حالت قابل رحم ہے۔ بیشمار اسکول ایسے ہیں جن کا اندراج سرکاری کاغذات میں تو بحیثیت اسکول کے موجود ہے مگر ان میں سے کوئی اسکول کسی جاگیردار کا باڑا ہے تو کوئی اسکول کسی وڈیرے کا ڈیرہ، تو کوئی اسکول کسی زمیندار کی اوطاق، عمارت، فرنیچر، بیت الخلائ، پینے کا پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ان اسکولوں کو تو اسکول کہنا ہی عجیب لگتا ہے۔ یہ قانونا جرم قرار دیا جانا چاہیے اور ان اسکولوں کی حالت زار بہتر ہونے کی کوئی امید بھی ہمیں نظر نہیں آتی۔ کیونکہ یہ نام نہاد سرکاری اسکول تو صرف غربت کی چکی میں پسے ہوئے غریب لوگوں کیلئے ہیں۔ کاش!!!! ان اسکولوں میں کوئی بلاول، بختاور، مریم، حمزہ، مونس، افضائ، نفیسہ ‘ نے بھی پڑھا ہوتا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ذرا کچھ بات ہو جائے نام نہاد ” انگلش میڈیم ” اسکولوں کی تو قصہ کچھ یوں ہے کہ جب مڈل کلاس لوگ سرکاری اسکولوں کی حالت زار سے بیزار ہو گئے اور یہ سمجھنے لگے کہ ان کے بچوں کے روشن مستقبل کیلئے یہ اسکول مناسب نہیں ہیں تو اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر کاروباری ذہنیت رکھنے والے افراد میدان میں آئے اور انہوں نے معمولی سرمایہ لگا کر ” انگلش میڈیم ” کے لیبل سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا، اور اب ہر گلی میں دو تین انگلش میڈیم اسکول نظر آ جاتے ہیں۔

ان اسکولوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان اسکولوں کے ہی فارغ التحصیل طلباء کو چن سو روپوں کے عوض استاد رکھ کر بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کی مکمل آزادی دے دی جاتی ہے گو ذریعہ تعلیم انگریزی ہے مگر نتائج ان ” قابل ” اساتذہ کی مہربانی سے حوصلہ افزاء نتائج سامنے نہیں آتے۔

ان اسکولوں میں تعلیم کی کیا صورتحال ہے یہ جاننے کیلئے کسی فعال نظام کا سرے سے وجود ہی نظر نہیں آتا۔

اب ڈالتے ہیں ان اسکولوں کی کارکردگی پر ایک نظر، جہاں قوم کی کل آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم بچے تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ ان اسکولوں کی انتظامیہ اعلیٰ تعلیم اور وسیع تجربے کی حامل ہوتی ہے۔ جدید سہولتوں سے مزین ان اسکولوں میں بچوں کی ذہنی، جسمانی، فکری، نفسیاتی، تقاضوں کے پیش نظر ایک صحتمند تعلیمی ماحول تشکیل دیا جاتا ہے ۔

ان اداروں سے فارغ التحصیل طلباء اعلیٰ ملازمتوں کے اہل قرار پاتے ہیں مگر یہ مہنگے ترین اسکول صرف قوم کے ” بلاول، بختاور، مریم، حمزہ، مونس، افضائ، نفیسہ ‘ جیسے بچوں کیلئے ہیں ان اداروں میں غریب بچوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

ماضی میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کیلئے تجاویز پیش کی جاتی رہی ہیں مگر ان تجاویز پر حکمرانوں اور سیاسی اشرافیہ کی جانب سے عملدرآمد ہوا نہ ہی کرنے دیا گیا کیونکہ جاگیر دارانہ، وڈیرانہ، سرمایہ دارانہ ذہنیت رکھنے والا یہ 2 فیصد حکمران طبقہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ ملک کی کثیر آبادی اعلیٰ تعلیم اور شعور سے بہرہ مند ہو کر انکی اجارہ داری کو چیلنج کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ان جاگیرداروں، سرمایہ داروں، وڈیرہ شاہی اور زمین دار طبقات نے عوام کو کھوکھلے نعرے ضرور دیے مگر عملی اقدامات سے ہمیشہ ہی گریز کیا۔

آجکل بھی حکمرانوں کی جانب سے ” تعلیم عام ” کرنے کیلئے دانش اسکول، مفت کتابوں کی فراہمی، لیپ ٹاپ تقسیم کرنے جیسی اسکیمیں اور کھوکھلے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی شاہانہ تقریب کا احوال ملاحظہ فرمائیں۔
تین کروڑ کا خرچہ، ڈیڑھ کروڑ کیٹرنگ کی مد میں ، پچاس لاکھ کے بینرز، بیس لاکھ کا ساؤنڈ سسٹم، پونے تین لاکھ بیجز، بروشرز، چھ لاکھ میوزک پر خرچ کیے گئے!!! جبکہ اتنی رقم میں کم از کم 750 سے 800 لیپ ٹاپ مزید لیے جا سکتے تھے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس طرح کے فضول خرچے کر کے تعلیم عام کرینگے؟؟؟ اور اسطرح تعلیم عام کی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کیا کتابیں مفت تقسیم کرنے کا ڈھونگ رچانے سے غریب بچے اعلیٰ تعلیم ، معیاری نصاب اور باسہولت درسگاہوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟؟؟ لہٰذا یہ کہنا بالکل بھی بے جا نہ ہوگا کہ ہمارے یہاں تعلیم ” برائے فروخت ” چیز بن کر رہ گئی ہے اور اسطرح تعلیم ”” عام ”” تو نہیں البتہ ”” آم ”” ضرور ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!

Views All Time
Views All Time
159
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: