Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تعلیمی اداروں کی نجکاری اور اس کے نقصانات

by مئی 24, 2016 کالم
تعلیمی اداروں کی نجکاری اور اس کے نقصانات
Print Friendly, PDF & Email

school privatizationیونکیسو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 27 ملین ایسے بچے ہیں جن کی عمر سکول جانے کی ہے اور وہ سکول نہیں جاپاتے-بہت کم طالبعلم کالجز کی سطح تک پہنچ پاتے ہیں اور صرف 2 فیصد نوجوان یونیورسٹی لیول تک جا پاتے ہیں-پاکستان تعلیم کے شعبے پر خرچ کرنے واےممالک کی فہرست میں 134 ویں نمبر پر آتا ہے-یونیورسٹیوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہے-
پاکستان ان بدقسمت ترین ممالک میں سے ایک ہےجہاں حقیقی ترقی کے سب سے بنیادی ستون تعلیم کا سالانہ بجٹ کل جی ڈی پی کا 2فیصد ہےجو کرپشن کے جال سے ہوتا ہوا حقیقی طور پر اور بهی کم خرچ ہو پاتاہےکیونکہ ملک کی ترقی کے ضمن میں موجودہ حکومت کا رویہ مستریوں کا سا ہےجہاں حکمران میٹروبسوں اور اورنج لائن ٹرینوں کی مد میں تو قوم کا پیسہ کهربوں کے حساب سے خرچ کررہے ہیں اور تعلیم کا شعبہ ہے کہ اس کی نجکاری کی جارہی ہے جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ تعلیم کی حیثیت ‘بکاو مال’کی سی ہو جائے گی اور شرح خواندگی اور گرجائے گی-یہ پاکستان کی64 فیصد غربت زدہ آبادی کے خلاف ایک گہری سازش ہے-جس کو کمر توڑ مہنگائی،بجلی کے بلوں اور کرپشن کے ناسور نے پہلے ہی بے حال کر رکها ہے-اور اب تعلیمی اداروں کی نجکاری اس ملک کی دو تہائی آبادی کو سستی تعلیم سے محروم کرکے ہمیشہ کے لیے جہالت کی تاریکیوں میں دهکیل دے گی-
حکومت پنجاب نے پہلے مرحلے میں سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کے بعد اب دوسرے مرحلے میں "پڑهو پنجاب،بڑهو پنجاب” کے فروغ تعلیم کے نعرے کو عملی شکل دینے کے لیے مڈل اور ہائی سکولوں کو بهی نجی شعبے کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی ہےاور موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مڈل اور ہائی سکولوں کی بهی نجکاری شروع کردی جائےگی-
ماضی میں سرکاری سکولوں کی حالت اتنی دگرگوں نہ تهی جب تک ان اداروں میں اشرافیہ کے بچے زیرتعلیم رہے تب تک تعلیم کا معیار اس قدر پست نہ تها اور ساته ہی نامور شخصیات بهی ان اداروں سے ابهریں- اب گزشتہ دس سالوں میں سرکاری تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم اتنا گر گیا ہے کہ عام آدمی بهی اب ان اداروں میں اپنے بچے بهجنے کا حوصلہ نہیں کرپاتااور دوسری جانب نجی تعلیمی اداروں میں فیس کی شرح اس حد تک زیادہ ہے کہ غریب آدمی اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وه اپنے بچوں کا پیٹ پالے یا مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائے-اب تعلیمی اداروں کی نجکاری سے تعلیم جیسے بنیادی انسانی حق تک غریب کی رسائی بالکل ہی ناممکن ہو جائے گی کیونکہ ایک سروے کے مطابق مختلف "سکول سسٹمز” کی موجوده ماہانہ فیس 6،5 ہزار سے کر 80 ہزار تک ہے اور اب اس فیصلے کو عملی شکل دینے سے اسی طرز کے کالجوں کی شرح فیس 15 ہزار سے لے کر 1 لاکه 20 ہزار سالانہ ہو جائے گی جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بچے مساوی تعلیم سے محروم ہو جائیں گے-
کسی بهی ریاست میں حکومت تعلیم اور صحت کے شعبے خود بناتی اور چلاتی ہےجبکہ ہمارے ہاں ہر شعبے میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے کسی بهی مسئلے کے حل کے لیے گہری سوچ بچار اور دانشمدی ضروری ہوتی ہے جبکہ یہاں خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری کرکے اداروں سے متعلقہ افراد کے لیے مشکلات کهڑی کر دی جاتی ہیں-تعلیمی اداروں کی نجکاری کی بنیادی وجوہات ان سکولوں میں طلباءوطالبات کی کم تعداد اور ناقص شرح نتائج بتائی جارہی ہیں جبکہ اس کی اصل وجوہات تدریسی سٹاف کی کمی اور موجودہ سٹاف کی نااہلی ہے-پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں تعلیمی اداروں کی نجکاری کے نتائج بیروزگاری، غربت اور ناخواندگی مزید جہالت اور جرائم کی شرح میں اضافے کی شکل میں سامنے آئے گی-ماضی میں اسٹیل ملز،واپڈا اور پی ٹی سی ایل جیسے قومی اداروں کی نجکاری اس سے متعلقہ سٹاف کی ملازمت سے فراغت اور پنشن و میڈیکل الاونس جیسی سہولیات کے خاتمے جیسی مشکلات کا باعث بنی اور اب ایسا فیصلہ تعلیمی اداروں میں مقرر اساتذہ کی معاشی حالت کو پست کرکے ان کے سماجی رتبے کی کمی کا سبب بنے گی-جس سے اکیڈمیوں اور کوچنگ سنٹرز کے رجحان میں اضافہ ہوگا-پاکستان میں نجکاری کی پالیساں ہمیشہ سے ایسے لوگ بناتے آئے ہیں جن کا یہاں کے حقیقی ماحول سے دور دور تک کا تعلق نہیں ہوتا اس لیے بہتر یہی ہے کی ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹهے ہوئے ایسے افراد کے ہاتهوں میں پسے ہوئے پسماندہ عوام کی باگیں نہ تهمائی جائیں تاکہ وہ اپنے اندهے فیصلوں سے یہاں کے لوگوں کے روشن مستقبل کی امیدوں کو نہ توڑ سکیں-
تعلیمی اداروں کی نجکاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پرامن اجتماعی احتجاج سے اس اژدها کا سر کچل دیا جائے تاکہ حکومت اس امر سے باز رہے-سرکاری تعلیمی اداروں کے ڈهانچے کو بہتر بنایا جائے-اساتذہ کو پہلے تو پیشہ ورانہ مہارت میں طاق کیا جائے تاکہ ان کی استعدکار بڑهے اور پهر ان کی مانٹیرنگ اسی طرز پر کی جائے کہ سالانہ نتائج میں حوصلہ افزا بہتری آئے-اساتذہ کی تنحواہوں کی شرح مناسب رکهی جائےتاکہ اکیڈمیوں اور کوچنگ کا جنجهٹ حتم ہونے سے اساتذہ پرکام کا بوجه کم ہو سکے-غریب عوام اپنے بچوں کو باآسانی تعلیم دلواسکیں اور معاشرتی درجہ بندی کا ممکنہ حد خاتمہ ہو-

Views All Time
Views All Time
770
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں۔۔۔؟
Previous
Next

One commentcomments

  1. Shabbir Ahmad Khan

    امیر غریب کی تعلیم پہلے ہی جدا جدا تےی اب غریب کی تعلیم سرے سے ہی ختم کی جاری ہے تاکہ سرمایہ کاروں کیلئ سستی ترین لیبر مہیّا کی جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: