اداریہ

Print Friendly, PDF & Email

"قلم کار” جذبوں کی پرواز کی خواہش ہے۔جاگتی آنکھوں کا خواب نہیں لیکن خوابوں کی تعبیر پانے کی پرعزم جدوجہدکا آغاز ہے۔دائیں، بائیں، لبرلز وکمرشل لبرلز، ہمیں کسی سے کوئی بیر ہے نا لینا دینا۔ سچ ۔ وہ بھی پورا سچ۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔علم و ادب ، تاریخ ، تصوف و حکمت، ادیانِ عالم، تاریخ ساز شخصیات سب موضوعات ہیں ہمارے۔آپ بھی لکھیئے۔ بس یہ ذہن نشین رکھیئے کہ بات دلیل سے ہو۔ بھد نہ اڑائی جائے۔ہم مکالمے کے حامی ہیں اور مناظرے سے بیزار۔ انسانی سماج کی تعمیرو ترقی میں ہمیشہ علم و مکالمے کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔مناظروں نے نفرتوں کے سوا کچھ بھی نہیں دیا۔اس عہد نفساں میں ایک نیا دروازہ کھولنے جا رہے ہیں ہم۔ ہماری خواہش ہے کہ اس کے در کے کھلنے سےسرانڈ نہیں تازہ ہوا کا جھونکا فرحت بخش احساس سے دوچار کرے ۔ مدعی، وکیل اور منصف نہیں ہم نا فتوؤں کی چاند ماری کے شوقین۔ یہ خواہش ہے کہ جو بات بھی ہو پوری ہودلیل اور حوالہ جات کے ساتھ۔کسی سے مقابلہ ہے ناراضگی نہ کسی کے لیے چیلنچ۔ نیا راستہ بنانے کی خواہش ہے تاکہ صاحبانِ علم کی پیروی میں نئے لکھنے والےاستقامت کے ساتھ چلتے ہوئےآگے بڑھیں۔دعوتِ عام ہے۔ آپ بھی لکھیں۔ سیاسیات، تاریخ ، فلسفہ و حکمت، تصوف، ادیانِ عالم، تاریخ ساز شخصیات پر۔ شاعری کیجیئے۔ افسانہ لکھیئے۔ اپنی فہم سے اپنی شناخت بنائیے۔کامل و اکمل کوئی نہیں۔ سب طالب علم ہیں۔ہم بھی اور آپ بھی۔ سو طالبانہ مزاج و انداز ہی آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔
ہم حاضر ہیں آپ کی نگارشات کے منتظر۔ ربِ ارض وسماں ہمیں علم وادب کی خدمت کی توفیق دےاور ہم لکھنے والوں کے ساتھ پڑھنے والوں کی توقعات پر پورا اتریں۔ آمین
حیدر جاوید سید
(ایڈیٹر)

Views All Time
Views All Time
1179
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ

3 thoughts on “اداریہ

  • 12/05/2016 at 5:06 صبح
    Permalink

    حیدر جاوید سید ، خوش آمدید کہوں ، ہوا کا تازہ جھونکا کہوں ، سمجھ نہیں آ رہی کیا کہوں … ہاں بزبان اقبال یہ کہہ دیتا ہوں

    لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
    ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی !
    سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات
    ہو نہ روشن ، تو سخن مرگ دوام اے ساقی
    تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
    ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی !

    Reply
  • 12/05/2016 at 12:12 شام
    Permalink

    how can we get the writings published? the "rabta karain” tab is not showing any contents

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: