عظمتیں تجھ پہ قربان ایدھی

Print Friendly, PDF & Email

rasheed angviانسانیت کا عاشق و دیوانہ رزم گاہِ حیات سے کامیاب وکامران اپنے مالک سے انعام لینے روانہ ہوگیا ۔ انسانوں سے بے لوث محبت کرنے والا ضرورت مندوں معذوروں مصیبت کے ماروں کا غم خوار خدمت گزار ایدھی اللہ کا بندہ اپنے مالک کے بندوں کی خدمت کرتے کرتے جنت پہنچ گیا(انشا ء اللہ )۔ہر گھر میں ماتم برپا ہےٗ ہر گھر کا محبوب انسان داغِ مفارقت دے گیا۔ایک سچا مسلمان انسان دوست ہستی اب ہم میں نہیں رہی ۔قرآنی زبان میں یہ وہ تجارت ہے جس میں خسارہ ہوتا ہی نہیں ۔ انسانی خدمت کا کوہِ گراں دعاؤں و محبتوں میں جنت کی راہوں پر روانہ ہوگیا۔ جس پر کسی انسان کا سایہ نہ تھا اُس پر ایدھی کا سایہ موجود تھا۔ انسانی مظالم سے ستائے لوگوں کے لیے اُن کے دامنِ عفو میں بے پناہ وسعتیں تھیں۔وہ اعلیٰ ترین انسانیت کا معیار تھے۔دنیا نے اُن کو مسیحا کہا ۔ محض انسانی رشتہ اُن کے ہاں اہم تھا۔انہوں نے بلاتفریق مذہب وملت زبان ونسل انسانی خدمت کی۔ انہیں انسانوں کا اعتماد حاصل ہوا۔وہ انسانی عظمتوں کا مینار تھے۔صدیوں بلکہ ہزاروں سال بعد فلک ایسے انسانوں کا نظارہ کرتا ہے۔ اہلِ کراچی بہت دکھوں سے گزرتے رہے۔انسانی قصابوں اوربوری بند لاشوں کے گناہ آلود ناپاک تذکرے بھی رہے ظلم وستم کا کون سا روپ ہے منافقتوں کا کون ساماڈل ہے جو اہلِ کراچی نے دیکھا نہیں مگر حکیم سعید کو بھی پیچھے چھوڑدینے والا ایدھی بھی تو کراچی کے حصے میں آیا۔ملک میں جہاں کوئی آفت آئی کوئی بڑا حادثہ ہوا ایدھی کی محبت وشفقت کے دھارے وہاں پہنچے ،’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ‘‘جیسے مصرعے ایسے ہی عوام دوست اوردردِدل رکھنے والوں کے وصال پر تخلیق ہوتے ہیں۔حقیقی انسانی رہبر اورمثالی رہنما کیسے ہوتے ہیں اِس کا معیار ایدھی نے چھوڑا ہے ۔ 88سالہ زندگی سراپا مینارِ خدمت ومحبت ہے۔عربی اشعار کا ترجمہ ہے ’’اے وہ شخص کہ جس کو تیری ماں نے اِس حالت میں جنا تھا کہ تُو رو رہا تھا اورلوگ خوشی سے ہنس رہے تھے ٗ تُو اپنی زندگی میں اتنے اچھے کام کر کہ لوگ تیرے غم میں رو رہے ہوں اورتُو ہنسی خوشی سفرِ آخرت کا پرجارہا ہو‘‘۔زمانے اُن کی عظمتوں کو سلام پیش کرتے رہیں گے ۔ سیاستدانوں کے لشکرِ جرار میں عمران خان میں اُن کی جھلک موجود ہے تاہم جغادری پارٹی سیاست دانوں نے اُن کا امیج بگاڑا ہوا ہے۔ایدھی نے انسان پرور زندگی بسر کی۔وہ انسانیت کے جہان کے عظیم مجاہد تھے۔پوری قوم اُن سے محبت کرتی ہے ۔ اُن کی سچائی کا اقرارکرتی ہے۔وہ اِ س شعر کا حقیقی مصداق تھے، ’’مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہئے ۔ کہ دانا خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے‘‘۔سراپا عمل انسان ٗ سادگی کا نمونہ ٗ اپنی صداقت کو آخری سانس تک قائم رکھنے والا۔ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ایدھی صاحب کا تذکرہ نصابی کتابوں میں شامل ہو۔ افسوس انسانی خدمت ومحبت کے رموز اپنے ایثار وعمل سے سمجھانے والا انسان رخصت ہوگیا ۔ اُن کی زندگی بذاتِ خودانسانی زندگی کا ایک مکمل نصاب ہے ۔ آنے والے زمانے اُن کا تذکرہ کرکے اپنے لیے راہ نما اصول بنائیں گے۔جوکام ریاستیں نہ کرسکیں وہ انہوں نے کردکھایا۔انہوں نے ثابت کیا کہ ڈگریاں اورتمغے نہیں بلکہ اخلاق ٗ سچائی ٗ ایثار اور امامت وقیادت کی صفات ہیں۔آج خادمِ انسانیت کو حاکم عقیدت سے رخصت کررہے ہیں۔ ان حکمرانوں کے لیے سبق ہے کہ اصل حکمرانی دلوں پر ہوتی ہے۔88سالہ ایدھی صاحب خوش بختی اور اُن کی صداقت کہ حکومتوں کی نااہلیوں کی تلافی ایک سعادت کی صورت ہے جو ہمیں نصیب ہوئی۔کچھ شک نہیں کہ بے مثل زندگی بسر کرکے ایدھی نے زندگی کے اصول ورموز سمجھا دیئے۔ہزاروں لاوارثوں کو پال پو س کربندہ پروری کی مثال قائم کی۔”Live for others”کا سلوگن ایک معروف جملہ ہے مگر اس کی عملی تفسیر ایدھی کی زندگی ہے۔وطنِ پاک میں قحط الرجال کا یہ عالم ہے کہ معاشرہ بڑے انسانوں سے خالی ہوچکا ہے مگر ایدھی نے ثابت کیا کہ ’’بڑا انسان کیسا ہوتا ہے۔ ہاں ٗ واقعی وہ بڑے انسان تھے۔آہ، آج بے سہاروں ٗ بیواؤں ٗ بے آسراؤں کا آسراچلا گیا۔ عبدالستار ایدھی سادگی ٗ سچائی ٗ امانت ودیانت ٗالفت و محبت کا مرقع تھے۔ایدھی ٗعلامہ اقبال کے عطا کردہ معیار ’’یقین محکم ٗ عمل پیہم ٗ محبت فاتح عالم ‘‘کا عملی نمونہ بن کر انسانی تاریخ پر لازوال نقوش رقم کرگیا۔وہ انسانی تاریخ کا عجیب وغریب وبے مثل ہیرو ہے جس کی عظمت کردار کی کرنیں صدیوں تک تاریخ کو حُسن بخشتی رہیں گی۔’’ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا ‘‘ کانمونہ پیش کرکے نوجوانوں کے سامنے عمل سے گواہی دی کہ کبھی مایوس وناامید نہ ہونا بلکہ عزم وہمت کا راستہ اختیار کریں۔لوگ ریاضتوں اورعبادتوں کے تصور سے آگاہ ہیں مگرخدمت انسانیت کے جذبوں سے سرشار ایدھی نے اپنی ذاتی خواہشات وایجنڈے پر جفاکشی اورسیلف کنٹرول کا مظاہر ہ کرکے زندگی بھر کا روزہ رکھا۔ایدھی نے جس رب کی بندگی کے تحت زندگی بسر کی اسی کے پاس حاضر ہوئے ہیں۔ان کا انعام جنت الفردوس کی صورت میں ان کا رب اُن کو عطاکرے گا۔وہ دنیاوی انعامات واعزازات سے اب بہت بلند ہوچکے ہیں اوریہ سامراجی گڑیا جیسے ایجنٹوں کو نصیب ہوں۔نوبیل انعامات جیسے تمغے ان کے پاؤں کی دھول سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ظالم ٗ ڈاکو ٗ بے وفا ٗ جھوٹے اورغاصب حکمرانوں کے مظالم سے عوام مایوس نہ ہوں۔ربِّ کریم اِن بے رحم حکمرانوں اورعالمی وحشی صفت مغربی ویٹووبرداروں کے مقابلے میں اپنی رضا کے طلب گار ایدھی کی صورت میں اپنی رحمت کے سائے سب کے لیے پھیلا دیئے۔ حکمران ملک کو لوٹ لوٹ کر دنیا کے بینکوں ٗ بازاروں اورعیش کدوں کی مثالیں قائم کرتے رہے اورانسانوں کے دلوں کا بادشاہ جھولیاں پھیلا کر دکھی لوگوں کے غم بانٹتا رہا۔پاکستان کا قومی منظر عجب ہے کہ ’’اتنی بلندی اتنی پستی ‘‘کے نظارے عام ہیں۔ہر دور کے جھوٹے حکمران اورہر دور کے سچے انسان کے مقابلے کاموازنہ ہر ذی ہوش کر سکتا ہے۔ایدھی کے نقش حیات پر ہر ٹی وی چینل انہیں اعزازدے رہا ہے کوئی خادم اعظم کہتا ہے ٗکوئی بابائے خدمت توکوئی بابائے انسانیت کہتا ہے ۔یہ سب ٹھیک اوراپنے اپنے انداز میں اظہارِ حقیقت ہے ۔نیشنل سٹیڈیم میں سول ملٹری قیادت نے انہیں قومی اعزاز اوردعاؤں کے ساتھ الوداع کیا۔فیصل ایدھی ٗ صدر پاکستان اورچیف آف آرمی سٹاف نے ان کے درمیان کھڑے ہوئے۔ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ عمران خان اوروزیر اعلیٰ خٹک کی غیر حاضری کو راقم نے افسوس کے ساتھ نوٹ کیا۔ان کی پارٹی قیادت بے شک حاضر تھی مگر ان دوکی کمی پوری نہیں ہوسکتی۔عمران خان کی کوئی بھی مصروفیت جنازے میں شرکت کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئے تھی۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کو بھی آنا چاہئے تھا۔سوشل سروس میں ایدھی صاحب تو خان صاحب کے رول ماڈل اور امام کاا درجہ رکھتے ہیں۔یہ شعر شاید ایدھی کے لیے لکھا گیا تھا :’’دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ۔ ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوِ بیان ‘‘۔لاریب کہ عبدالستار صرف پاکستان کے ہی نہیں عالم انسانیت کا قیمتی اثاثہ تھے اوران کا نام انسانی تاریخ کے عظیم انسانوں کے باب میں چمکتا دمکتا رہے گا۔ ان کا وجود ایک معجزہ بھی تھا اورنعمت غیر مترقبہ بھی۔قوم کی ذمہ داری ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کی پہلے سے بڑھ کر خدمت اورسرپرستی کرے تاکہ انسانی خدمت کا یہ عظیم الشان ادارہ اطمینان سے اپنے پروگرام جاری رکھ سکے۔یہ ایدھی کی امانت ہے جس کی آبیاری ہر صاحب حیثیت کی ذمہ داری ہے ۔ ’’عظمتیں تجھ پہ قربان ایدھی۔ تجھ سا کوئی فرشتہ نہ انسان ایدھی‘‘۔

Views All Time
Views All Time
404
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   تیز ہوتی دھڑکنیں اور پی ایس ایل فائنل-شیخ خالد زاہد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: