Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اقتصادی راہداری منصوبہ…. بھارت اور ایران

by جون 11, 2016 کالم
اقتصادی راہداری منصوبہ…. بھارت اور ایران
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikhعالمی سیاسی اور اقتصادی مافیا کی توجہ اور ترجیحات کا مرکز جنوبی ایشیا ہے جس میں بھارت کو اولیت حاصل ہے جس کا ادراک بھارت کے حکمران طبقوں کو بھی ہے یہی وہ پس منظر ہے جس میں وہ ایک طرف تو سیاسی جمہوری نظام اور سیکولر معاشرے کی تشہیر کر کے فوائد حاصل کرتا ہے۔ دوم آبادی کی اکثریت اور مڈل کلاس کی موجودگی کو کنزیومر سوسائٹی کا جوہر بنا کر پیش کرتا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عالمی مالیاتی اداروں کو راغب کرتا ہے۔ سوم وہ اپنی اقتصادی اور صنعتی ترقی کے جواز پر علاقے کے دیگر ممالک پر بالادستی کے خوابوں کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ بنگلہ دیش آبادی کے لحاظ سے جنوبی ایشیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جس کی آبادی سولہ کروڑ ہے اور وہاں سالانہ ترقی کی شرح بھی پاکستان سے زائد ہے بھارت کی نظر اس کی مارکیٹ پر بھی ہے۔ لیکن اس کی اصل توجہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے ممالک اور ان کی مارکیٹوں پر ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے وہاں پچھلے بیس سالوں سے سرمایہ کاری شروع کر رکھی ہے حال ہی میں ”چاہ بہار“ بندرگاہ کی تعمیر کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی امداد کے ساتھ افغانستان میں مواصلاتی انفراسٹرکچر کے لیے پندرہ کروڑ ڈالر کے تعاون کا عندیہ بھی دیا ہے۔ لیکن…. اس بات کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں کہ بھارتی ادارے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔ خصوصاً بلوچستان، قبائلی علاقہ جات اور سوات سے ابھرنے والی بغاوت کو عملی اور مالی تعاون فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد پاکستان میں بدامنی، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے تاثر کو نمایاں کرنا اور بین الاقوامی سیاسی اور اقتصادی مافیاز کو پاکستان سے دور رکھنا تھا تا کہ…. یہاں صنعتی ترقی کے امکانات مسدود رہیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری نہ وہ سکے۔ ہواں بھی ہوں، بلکہ دلچسپ بات ہے کہ جب افغانستان پر قبصہ کی جنگ ہوئی پاکستان نے فرنٹ مین کا کردار ادا کیا تو اس تعاون کے بدلہ میں پاکستان فرینڈز کے نام سے ایک عالمی تنظیم بھی بنی اس کے چند اجلاس بھی ہوئے مگر ان دوستوں کی طرف سے کوئی سرمایہ کاری سامنے نہیں آئی بلکہ ”مافیاز“ کی طرف سے ”ڈو مور“ کا مطالبہ ہی سامنے آتا رہا۔ اور یہ الزام بھی عائد ہوتا رہا کہ…. پاکستان دہرا کردار ادا کر رہا ہے تعاون بھی کر رہا ہے اور مختلف جنگجو تنظیموں کی سرپرستی بھی کر رہا ہے۔ حالانکہ ایسے محرکات بھی سامنے آتے رہے کہ افغانستان اور بھارت کے خفیہ ادارے پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث ہیں جن کا بنیادی مقصد پاکستان کے معاشرتی، معاشی اور سیاسی ماحول میں عدم استحکام تھا…. یہ اسی کا ہی نتیجہ تھا کہ پاکستان میں ایک طرف تو بین الاقوامی سرمایہ کاری بند ہو گئی تو دوسری طرف پاکستانی سرمایہ دار بھی اپنی صنعتوں کے ساتھ بیرونِ ملک منتقل ہو گئے۔ جس سے اقتصادی ترقی زاویہءمعکوس میں سفر کرنے لگی۔
یہ وہ صورت حالات تھی جس میں پاکستان کی سیاسی قیادت اور عسکری حلقوں نے تجزیاتی جائزے لیے اور متبادل ذرائع کی طرف توجہ مرکوز کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ گذشتہ دور میں صدر آصف زرداری نے سب سے زیادہ دورے چین کے کیے اور چینی حکام سے تعلقات کی ازسرنو ترجیحات مرتب کیں اور روس کے ساتھ تعلقات کو بھی نئے سرے سے مرتب کیا لیکن افسوس کہ وہ چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان آمد پر آمادہ نہیں کر سکے۔ اس تناظر میں تلخ حقیقت ہے کہ سابق آرمی چیف پرویز کیانی دہشت گردی کے خلاف جن کے لیے واضح مؤقف اختیار کر سکے اور نہ ہی کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرنے کو تیار ہوئے تا کہ بدامنی اور دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو۔ اس پس منظر میں ایک نقطہ نظر یہ بھی تھا کہ اس وقت تک وہ مکتبہ فکر زیادہ مؤثر تھا جو ابھی تک جنرل ضیاءالحق کی پالیسیوں کے تسلسل میں ہی فلاح کی امید رکھتا تھا لیکن پھر وہ لوگ اکثریت میں آ گئے جو دہشت گردی اور انتہاپسندی سے براہ راست متاثر ہوئے تھے انھوں نے بدلے ہوئے علاقائی سیاسی اور اقتصادی حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا اور ملک و قوم کو ماضی سے نکال کر مستقبل کی راہ پر گامزن کرنے کا فیصلہ کیا۔ نئی علاقائی اقتصادی اور سیاسی قوتوں کے ساتھ اشتراک عمل کو اولین ترجیح بھی بنایا اور یہ فیصلہ بھی کیا کہ…. دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ ہی ملک اور قوم کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اپریشن ضرب عضب ناگزیر ہے۔ اور یہی وہ راستے ہے جس سے اقتصادی راہدری کا دروازہ کھل سکتا ہے جو پاکستان کو ترقی اور تحفظ کی منزل سے آشنا کر سکتا ہے…. ظاہر ہے کہ اس ے لیے پرانے دوستوں کو نظرانداز کرنا بھی لازم تھا اور نئے حلیفوں کی تلاش بھی ضروری تھی جس کی ایک مثال الطاف بھائی کی ایم کیو ایم بھی ہے جس کے بارے پرانے اور نئے تمام حقائق و شواہد اداروں کے سامنے تھے جن کی راے عامہ ہموار کرنے کی تشہیر بھی ہوئی اور اس میں سے متبادل قیادت بھی تلاش کی گئی مزید یہ کہ انتہاپسند دینی سیاسی جماعتوں کو بھی پس منظر میں دھکیلا گیا جس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔ اپریشن ضرب عضب کی وہ مزاحمت اندرونی صورت حالات میں سامنے نہیں آئی بل کہ بیرونی مداخلت زیادہ واضح ہوئی۔ عوام کی اپریشن ضرب عضب کے ساتھ حمایت واضح اور مؤثر ہوئی اور وہ اندرونی عناصر جو انتہاپسندی کی سرپرستی کے ساتھ اس میں پناہ کے داعی تھے وہ بھی اپنے عمل اور کردار پر نظرثانی کرنے کو مجبور ہو گئے۔ آج وہ محض کاغذی بیانات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ان کا دائرئہ کار بھی حلقہ احباب میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ…. طویل سرپرستی کے سائبان کو ہٹانا اور گرانا کچھ زیادہ مشکل بھی نہیں تھا مگر اصل کام تو اس ذہنیت کا خاتمہ ہے جسے نظریاتی تحفظ اور بقا کا ضامن بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے لیے محض اخباری اشتہارات کافی نہیں تعلیم و تدریس اور ذہنی تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے یہ کام منظم اور مربوط طریقے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے یہ ذمہ داری محض ایک ادارے کی نہیں تمام سیاسی اور غیر سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی اداروں کی ہے اور اس کے لیے مکمل اتفاق راے لازم ہے۔
آمدم بر سر مطلب، اپریشن ضرب عضب، امید ہے کہ بیونی مداخلت کے دروازے بند کرنے کے ساتھ اندرونی عدم استحکام کے امکانات کو واضح کرنے کے مقاصد میں بھی مددگار ہو گا ایسی کوششوں کی نشاندہی بھی ہو رہی ہے لیکن ابھی بیرونی سازشوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا بل کہ اب اس میں کچھ نئے اتحاد بھی سامنے آ گئے ہیں جن میں بھارت نئے علاقائی سیاسی اور اقتصادی کردار کے ساتھ کھل کر سامنے آ گیا ہے اور اس کا بنیادی ہدف پاکستان اور اقتصادی راہداری منصوبہ ہے جس کو وہ ہر صورت میں سبو تاژ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے برادر ایران ملک بھی مفادات کی اسیری میں نئے اتحاد میں شامل ہو گیا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاست میں کوئی دوستی ہوتی ہے نہ بھائی چارہ۔ مفادات کی دنیا میں صرف مفادات کی غلامی ہوتی ہے۔ وہی سیاستدان قومی ہیرو ہوتا ہے جو اپنے ملک اور قوم کے مفادات کی نگرانی اور تحفظ کو یقینی بناتا ہے وہی سیاسی جماعت جمہوری عمل میں شامل رہتی ہے جو ان اصولوں کو اپنی سیاست کا حصہ بناتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی دوسری بار اقتدار تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تو عالمی مافیاز کی سرپرستی اپنی جگہ لیکن اس نے حکمران طبقوں اور ان کے مفادات کی وسعت اور علاقائی مارکیٹوں تک رسائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ حال آں کہ اس پر انتہاپسندی اور اقلیتوں کے خلاف غاصبانہ اور ظالمانہ رویہ اختیار کرنے کے الزامات تھے۔ پھر بھی اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ اس کو سرپرستی فراہم کرکے اس کی مثبت ساکھ کو نمایاں کیا گیا۔ وگرنہ پاکستان اور مسلم دشمنی اس کی سیاست کا بنیادی اور اہم حصہ تھا۔ لیک حکمران طبقوں کے مفادات کو عملی شکل دینا مقد تھا تو اسی بنا پر نریندر سنگھ مودی تمام تر تحفظات کے باوجود وزیراعظم پاکستان کی نواسی کی شادی میں شرکت کے لیے ’لاہور آئے‘ حال آں کہ کابل سے روانگی کے وقت بھارتی وزیراعط نے افغان صدر کے ساتھ ملاقات میں اپنے عزائم واضح کر دیے گھے…. مگر!!
یہ تلخ حقیقت ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبہ واضع ہونے پر پاکستان کی طرف سے ہندوستان کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی اور وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں تک رسائی میں کچھ سہولتیں اور مراعات دینے کا عندیہ بھی دیا گیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ معاملہ صرف بھارت کا ان مارکیٹوں تک رسائی کا مسئلہ تھا اور نہ ہے۔ اصل مسئلہ تو امریکا اور اس کے دیگر یورپی سرمایہ دار ملکوں کا ہے جو ایک طویل عرصہ سے افغانستان کی جنگوں اور جنگجو گروہوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اور وہ وسطی ایشیا کے تیل اور گیس کے ذخائر کو جنوبی ایشیا کی وسیع مارکیٹ کے علاوہ دیگر مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک لے جانا چاہتے تھے۔ وہ کاشغر سے گوادر تک اقتصادی راہداری، اور گوادر کے تجارتی اور کاروباری مرکز بننے کو دیرینہ منصبوہ بندی کی نفی سمجھتے ہیں اور اس کا برملا انھوں نے اظہار بھی کر دیا ہے جس سے پاکستان کے مستقبل میں سیاسی اور اقتصادی خطرات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے یہ تو خوش آیند ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف اقتصادی راہداری کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کی ہوئی ہے بلکہ وہ اس کو ہر حال میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے آرمی چیف ایک سے زیادہ بار کہہ چکے ہیں کہ وہ سازشوں سے آگاہ ہیں اور یہ ہر صورت میں مکمل ہو گا۔ بل کہ انھوں نے گوادر ایئر پورٹ مکمل کرنے کی بھی درخواست کر دی ہے گویا اس تجارتی مرکز سے ہوائی جہازوں کے ذریعے بھی سامان کی بین الاقوامی مارکیٹوں سے آمد و رفت بھی ہو گی۔ اور اس کے ثمرات ایشیا، افریقا اور یورپ کے تین ارب افراد تک پہنچیں گے۔ اور پاکستان کے عوام کو اس کے نتائج محصولات کی مد میں ترقی اور خوشحالی کی شکل میں حاصل ہوں گے۔ یہ معروضی صورت حالات بھارت کے لیے سودمند ہے اور نہ ہی امریکا کے لیے۔ اس لیے وہ ہر صورت اس منصوب کو سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
حرف آخر…. ایک اور صداقت بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ امریکا کے معاشی بحران نے اسے اپنے بین الاقوامی پروگرام پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے اس منظر میں ہی اس نے برطانیہ کے دفاعی اخراجات میں کمی اور افغانستان میں موجود کردار میں کمی کو پسند نہیں کیا۔ دوسرا یہ کہ بحر ہند کی ذمہ داری بھی وہ انڈونیشیا سے خلیج فارس تک اپنے نئے اتحادی بھارت کے سپرد کرنا چاہتا ہے جس کے بعد وہ اپنی بحریہ کو بحر ہند کی نگرانی کا جواز بھی دے گا اور اس کا رابطہ براہ راست ممبئی سے بھی ہو گا۔ اس تناظر میں چاہ بہار کی نئی اور جدید بندرگاہ کی موجودگی نئے کردار کی سمت متعین کرے گی…. تو ادھر ایران جو عربی اور عجمی کی روایتی جنگ میں الجھ چکا ہے شام اور عراق میں مخصوص حمایت کی بنا پر اس کی معیشت بری طرح متاثر ہو چکی ہے وہ تیل کی برآمدات میں اضافہ کرکے اسے نئی طاقت دینا چاہتا ہے۔ اس نے افغانستان تک 800 کلو میٹر کی سڑکیں بھی تعمیر کر رکھی ہیں جن سے فوائد حاصل نہیں ہوئے اور اب ان کے ذریعے محصولات کی شکل میں نیا ذریعہ بن رہا ہے تو وہ اسے جلد از جلد قابل استعمال بنانا چاہتا ہے…. بہ ہرحال
مفادات کی دنیا میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں ان میں بھارت سے تو کسی خیر کی توقع نہیں البتہ ایران کے نئے علاقائی کردار سے پاکستان میں بھی تشویش کی لہر نمایاں ہے لیکن پھر بھی یہ امید ہے کہ ایران تمام تحفظات کے باوجود بھارت جیسے پاکستان دشمن کردار پر تیار نہیں ہو گا۔ کیوں کہ بلوچستان اور ایران کی سرحدی صورت حالات نئے عوامل میں بہت تبدیل ہو گئی ہے۔ احتیاط تو بہ ہرحال لازم ہے۔

Views All Time
Views All Time
595
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جمہوریت اور دستور کے دشمن سمجھتے کیوں نہیں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: