Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مفادات کی جنگ جاری ہے | ابراہیمو ہزارہ

by مئی 28, 2017 بلاگ
مفادات کی جنگ جاری ہے | ابراہیمو ہزارہ

سیاست بھی عجیب شے کا نام ہے۔
اپنےمفادات کی خاطر کسی وقت کچھ بھی ممکن ہے۔ایران نے کئی سالوں سے اپنے چاہنے والوں کو پوری زندگی بس ایک ہی درس دیتا آیا ہےکہ مرگ بر امریکہ۔امریکہ شیطان بزرگ ہے مگر اسی ایران  نے پابندیوں سے تنگ آکر امریکی حکومت کے ساتھ جوہری ڈیل کردی۔اس معاہدے کے نتیجےمیں ایران کی تنہائی کے امکانات کم ہونے لگے اور عالمی منڈی میں داخل ہونے کا دوبارہ موقع مل گیا۔
اب ،ایرانی انتخابات کا آپ نے ضرور مشاہدہ کیا ہوگا جس میں حسن روحانی نے ایک بار پھر خامنہ ای کے حمایت یافتہ امیدوار کو بری طرح شکست سے دو چار کرکے صدر منتخب ہوئے،اس انتخابات کو ایرانی عوام کی جانب سے سخت اسلام پسندوں کے خلاف رائے سمجھتا ہوں۔اس طرح اسکا دو ٹوک مطلب یہ ہے کہ عوام نے خصوصا نوجوانوں نے خامنہ ای اور اس کے سخت گیر اسلامی نظام کو دوسری بار شکست دے کر یہ پیغام دیا یے۔ کہ وہ خامنہ ای کے نظام کے برعکس ایک معتدل نظام کے خواہاں ہے
اسی طرح سعودی عرب بھی تمام ملکوں میں اپنے عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو فنڈنگ کرکے فسادی پیدا کرتے رہے ہیں۔جس کی وجہ سے پچھلے سترہ اٹھارہ سالوں سے تقریبا ستر ہزار پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا آج یہ سزا بھگت رہی ہے۔

یہی مفادات ہی ہیں جن کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا پہلا پرنور دورہ سعودی عرب سےکیاہے سعودی عرب کا امریکہ سے 110 عرب ڈالر کا اسلحہ و جنگی سازوسامان کا معاہدہ کرنا اور 39 اسلامی ملکوں اتحاد بنانا اس لیے بھی ضروری ہو گیا تھا کیونکہ ایران نے اب شام اور عراق میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔اسی طرح حزب اللہ،حماس،اورحوثیوں کے پشت پر بھی کھڑا ہے۔جس سے ان کی علاقائی حیثیت میں اور اضافہ ہوا ہے۔جس سےاسرائیل اور سعوری عرب کی تشویش مزید بڑھ گئی۔
لیکن تاریخ گواہ ہے یہ دونوں ممالک اپنے ملک کے اندر کبھی بھی کوئی ایڈونچر نہیں کیا کرتے اور نہ ہی آمنے سامنے ایک دوسرے سے لڑنے کی جرات کرتے ہیں۔ بلکہ ہمیشہ اپنی پراکیسز کے ذریعے دوسرے ممالک میں اپنے مفادات کی جنگ لڑتے آرہے ہیں۔
امریکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر دراصل اسرائیل کو سیف کرنا چاہتی ہے اسی لیے فلسطین،عراق،شام میں کروڑوں انسانوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں مروا کر خود تماشا دیکھ رہی ہے۔اور ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ان گروپس کو فسادی قرار دیا جس سے اسرائیل کو براہ راست خطرہ ہے۔مگر امریکی اخبارات نے ٹرمپ کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ 9/11 کو حملہ کرنے والوں کا تعلق بھی سعودی عرب سے تھا اور داعش،بوکوحرام،اور القاعدہ جیسے خطرناک تنظیموں کو بھی فنڈنگ سعودی عرب سے ہوتی ہے۔
یہ عبرت کا مقام ہےکہ سعودی عرب اور ایران مسلسل اپنے مفادات کی خاطر عوام کو گمراہ کرکے یہ خونی کھیل کھیل ریے ہیں اوراب تو دوسرے ممالک بھی اپنے مفادات کی خاطر اور حصہ لینے کےلیے اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں۔حالانکہ اپنی عوام بے روزگاری کا شکار ہیں ،مسلم دنیا میں غربت کی انتہا ہے لیکن کھربوں ڈالر امریکہ کو بطور رشوت اس لیے دیئے جارہے ہیں کہ صرف اور صرف اپنی بادشاہت کے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔

Views All Time
Views All Time
1159
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: