Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اسیر خواب

by جولائی 3, 2016 افسانہ
اسیر خواب
Print Friendly, PDF & Email

mayaتحریر: مایا مریم ۔ کراچی
آج بھی وہی ہوا ۔۔۔ میرے گلے لگتے ہی اس کا جسم ہلکا ہو کر ہوا میں جھول گیا ۔ گڑیا جیسا اس کا وجود میری باہوں کے حصار میں تھا اور میں اس سے جیسے دل چاہ رہا تھا ، کھیل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے چھو رہا تھا اور بہک رہا تھا ۔۔۔ اس کے ہلکے پھلکے وجود میں لہریں سی ڈوب ابھر رہی تھیں ۔۔ جن کو میرا انگ انگ محسوس کر رہا تھا۔۔۔مقناطیسی انداز میں میرے لب اس کے لبوں سےمل گئے ۔ میں ان سے اپنے خشک ہونٹوں کی پیاس بجھاتا رہا ۔۔ ۔۔۔۔ وہ ہولے ہولے سسک رہی تھی ۔۔۔پھر وہ موم بن کر میرے ہاتھوں کی پوروں سے پگھلنے لگی ۔۔ اس کی آنکھیں بند تھیں ۔ وہ نشے اور لذت کی آخری حدوں پر تھی ۔ مجھے بھی اپنا جسم ہلکا ہوکر ہوا میں تحلیل ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔۔ وہ میرے وجود کو بھینچ کر کراہی۔۔۔ ۔۔۔ میرے سر کے بالوں میں اس کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا ۔میرے اندر جیسے کوئی بچہ بیدار ہو گیا ۔۔۔۔۔ جو اپنا من پسند کھیل ، کھیلتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہے ۔۔ اور۔۔۔۔ پھر ہم دونوں ایک ہو گئے ۔ نہ اس کا کچھ اس کا رہا ۔۔۔۔ نہ میرا کچھ میرا ۔۔۔ ۔۔ .. ایک سرشاری سے بھرپور احساس ۔۔رات گویا نشے کے عالم میں جھوم جھوم کر گزری ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہو گئی ۔۔ ۔ میری آنکھ کھلی ۔ تو میں اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا ۔۔ ۔۔ یہ خواب میری زندگی تھا ۔یہ ایسا خمار بھرا خواب تھا ۔ جس کو میں 15 برس سے جی رہا تھا ۔۔۔ اور 5 برس سے اس کا معاوضہ بھی ادا کر رہا تھا ۔۔ جی ہاں خواب دیکھنے کا۔۔۔۔۔۔ اس کے خمار میں رہنے کا معاوضہ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت ہی عجیب و غریب قسم کا انسان ہوں ۔۔۔ یہ جملہ اپنے بارے میں اکثر سنتا ہوں ۔۔اپنی نظر میں تو میں بہت عام سا ہوں ۔۔ درمیانہ قد ہے ۔ کبھی باڈی بلڈنگ نہیں کی ۔ اوپر سے نیچے تک ایک ہی بناوٹ میں جسم ہے ۔ داڑھی مونچھیں کبھی پالی نہیں ۔۔ بس ناک نقشہ گزارے لائق ہے ۔ آنکھیں بہت دور تک اور گہرائی تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں مگر یہ کوئی نئی بات نہیں سارے مرد گہری نگاہ رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ مجھے بچپن سے لکھنے اور پڑھنے کا شوق تھا ۔۔یہ صلاحیت بڑے ہو کر روزگار کا ذریعہ بنے گی ، سو چا نہیں تھا ۔۔۔
اسی طرح یہ بھی کبھی نہ سوچا تھا کہ ایک لڑکی کی زندگی میں نہ آنے کے باوجود اس کے اخراجات کی ذمے داری میرے اوپر آجائے گی ۔
وہ لڑکی میرے گھر کے نیچے کمپاؤنڈ میں بنے چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی ۔ اس کے گھر والوں پر پتا نہیں کیا افتاد ٹوٹی تھی ۔جو وہ فیملی سمیت یہاں آگئے تھے ۔۔۔ میں نے جاننا نہیں چاہا، اس نے بتانا نہیں چاہا ۔۔ بس آنکھوں ہی آنکھوں میں نہ جانے کیا طے ہوا.. کہ کسی کو کچھ بولنے کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوئی ۔
مجھے اس کی آنکھیں بے حد پسند تھیں ۔۔
اس کی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔ آنکھوں میں بے پناہ معصومیت اور کبھی انتہا کا درد۔۔۔ کبھی ہنسی ۔۔۔ کبھی خاموشی ۔۔۔ کبھی یہ آنکھیں بہت شوخ ہو جاتیں اور بولنے لگتیں ۔ یہ آنکھیں مجھے آتے جاتے دیکھتی رہتیں ۔۔۔ ان آنکھوں نے بلاشبہ مجھ پر جادو کر دیا تھا ۔۔ میں ان سے باتیں کرتا رہتا اور خیالوں میں انہیں چومتا رہتا ۔ ان سے آنسو گرتے تو انہیں پی لیتا ۔
پھر یوں ہونے لگا کہ جب میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنے گھر جاتا تو وہ میرے راستے میں آ کھڑی ہوتی ۔ ہم گھنٹوں ساتھ ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھے رہتے ۔۔۔ وہ مجھے اپنے غم سناتی رہتی ، میں اس کی باتیں سنتا ہی نہیں ، دیکھا کرتا تھا ۔۔ اس کے لبوں کی جنبش ۔ اس کا بالوں کو ایک طرف کر کے جھٹکنا ، سانسوں کے اتار چڑھاؤ سے اس کے سینے کا زیروبم ۔ میری نگاہوں کی تاب نہ لا کر اس کا اپنے آنچل کو سنبھالنا اور اپنے سڈول گھٹنوں پر سر رکھ دینا ۔ پھر عجیب ملتجائی نظروں سے مجھے دیکھنا ، کبھی ہنس دینا ۔۔ کبھی تیوری چڑھانا ۔۔۔ وہ باتیں کرتی تو میں سنی ان سنی کیے بس اسے سر سے پیر تک دیکھتا رہتا ۔اور اس کی ہر اک ادا اپنے دل میں اتارتا رہتا تھا ۔ پھر اس نے مجھ سے چھوٹی چھوٹی فرمائشیں کرنی شروع کر دیں ۔ جو اس کی ضرورت کی چیزیں ہوتیں یا چھوٹی چھوٹی رقم ۔ وہ مجھ سے صرف پیسے نہیں مانگتی تھی ،مجھ سے جیسے میری جان مانگ لیا کرتی تھی ۔۔۔ میں نے اس کے لئے دن رات محنت کی ۔ پیسے کمائے یہاں تک کہ گھر بھی بس کے بجائے پیدل آتا ، تاکہ کرائے کے بھی پیسے بچا کر اسے دے دوں ۔۔
۔۔
پھر ایک دن وہ حادثہ بھی رونما ہو گیا جس کی وجہ سے میری زندگی ہی ویران ہو گئی ۔۔ اس کی شادی ہو گئی ۔ اور وہ مجھے سیڑھیوں پر اکیلا چھوڑ کر چلی گئی ۔۔
مگر وہ چلی نہیں گئی ، اس کے بعد تو وہ میرے پاس آگئی ۔۔۔ اب اس بات کی وضاحت کیا کروں کہ وہ کیسے آگئی ۔ وہ میرے خواب میں آگئی ، سراپا میری بن کر ۔۔۔ اس کو میرے خواب میں میرے سوا کوئی دوسرا نہیں دیکھتا تھا ، نہ اسے خواب میں چھوتے ہوئے مجھے کوئی جھجک ہوتی تھی ۔ وہ مکمل میری ہوتی تھی ۔ میں اسے چومتا تھا اور دیوانہ وار گلے لگاتا تھا ۔ اس کے جسم کا لمس مجھے محسوس ہوتا تھا ، میرا رواں رواں اس کے لمس سے سرور اٹھاتا تھا ۔۔۔ میں ایسا سرشار رہنے لگا تھا کہ اپنے ارد گرد کی دنیاوی تبدیلیوں کا ہوش ہی نہیں رہتا تھا ۔۔۔
میری شادی ہوگئی ۔ بچے ہو گئے اور زندگی کی گاڑی کھینچتے کھینچتے میں ملک سے باہر آگیا ۔۔۔ یہاں میں بالکل تنہا تھا ۔۔۔ مگر اس کا نازک بدن ، ہر رات میرے ساتھ ہوتا تھا ۔۔۔ وہ ہی خمار بھرا خواب ۔ وہ ہی لمس اور ویسی ہی لذتیں ، سرشاری۔اور مدہوشی ۔۔۔ میری تنہائی میں وصل تھا ۔۔
ایک دن مجھے اس کا میسج ملا ۔۔۔۔ اس نے مجھے کسی طرح سوشل میڈیا سے ڈھونڈھ نکالا تھا ۔ اس میسج میں اس نے اپنے حالات کا رونا اور ضروریات زندگی پوری نہ ہونے کی باتیں کی تھیں ۔۔۔
"میں جلد پاکستان آنے والا ہوں ـ” میں نے اسے جواب دیا ۔
"مجھے ملنا ہے تم سے اکیلے میں ۔۔ ویسے ہی جیسے ہم پہلے ملا کرتے تھے ۔ ”
اسے آج بھی اس دھڑکتے دل کی خبر نہ تھی جو اس کی ایک ذرا سی بات پر بے قابو ہو جاتا تھا۔
ہم کیسے ملیں گے ۔۔ خواب کی لذت روز میری زبان پر اپنے نت نئے ذائقے محسوس کرواتی رہتی تھی ۔۔ کیف وسرور کی لہریں میرے انگ انگ کو گدگداتی تھیں ۔۔ اس کے حقیقی وصل کے خیال ہی سے مجھ پر سرشاری طاری ہو جاتی تھی۔ اور پھر میں دیار غیر سے اپنے وطن چھٹیوں پر آگیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔وہ میرے سامنے تھی ۔۔۔ مگر وہ میرے سامنے تھی ہی نہیں ، وہ تو پتا نہیں کون تھی ۔۔۔وہ ایک عورت کا بے دردی سے استعمال شدہ جسم تھا ۔۔
اس کا جسم جو کبھی بہت کسا ہوا تھا اب لٹک گیا تھا ۔ چہرے کی تابندگی کہیں کھو گئی تھی ۔ معصومیت کی ہلکی سی رمق بھی باقی نہ رہی تھی ۔۔ آنکھوں میں کھنڈرات بسے تھے ۔۔ جنہیں اس نے میک اپ سے چھپانے کی کوشش کی تھی ۔۔ اتنا گہرا میک اپ اس پر بالکل بھی نہ جچ رہا تھا۔ اور جب اس کے سوکھے ، بے رونق اور لپ اسٹک ذدہ لب ہلے تو میں نے اس کی آواز میں صدیوں کی تھکن محسوس کی تھی ۔
میرا دل اسے اس حالت میں قبول کرنے کو تیار نہیں تھا ، اسے دیکھ کر سینے میں سانسیں بند ہونے کے قریب تھیں ۔۔
چشم تصور میں ، مجھے اپنی نازک اندام محبوبہ کا سراپا نظر آرہا تھا ۔۔ جسے میک اپ کی ضرورت ہی نہیں تھی ، جس کے گلابی بھیگے بھیگے ہونٹوں کو میں صرف ہلتے ہوئے دیکھتا تھا تو ان کا رس میرے منہ میں گھلنے لگتا تھا ۔۔۔۔
اس کا موجودہ روپ دیکھ کر مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس کے میں آج تک خواب دیکھتا آ رہا تھا ۔
میں چاہتا تھا کہ وہ جلد سے جلد میرے سامنے سے ہٹ جائے ۔۔ میں نے اس سے نظریں پھیر لیں ۔
میں اپنی نازک اندام محبوبہ کا وہ سراپا کھونا نہیں چاہتا تھا ۔ جو سالوں سے میرے دل و دماغ میں بسا ہوا تھا ۔ وہ پتا نہیں کون تھی اور کیوں میرے سامنے آگئی تھی ۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مجھ سے میرا من پسند خواب چھینا جا رہا ہو۔ وہ خواب جو میرا سب کچھ تھا ،میں اس خواب کے سہارے ہی تو جیتا تھا اور وہ ہی تو میری زندگی کا حاصل تھا ۔
وہ میری محبوبہ ہرگز نہیں تھی ۔۔۔ وہ بھوکے ترستے ، بچوں کی مجبور ماں تھی ۔ ایک غریب مزدور کی بیوی تھی ۔
وہ ضرورت مند تھی ۔۔ مجھ سے محبت کی بھیک مانگ رہی تھی ۔۔ وہ محبت جو اس کے لیے تھی ہی نہیں ۔
وہ میرے بے حد نزدیک آگئی ۔۔
"میں حاضر ہوں میرے محبوب ۔ آؤ اس محبت کی تکمیل کر لیں جو برسوں پہلے ادھوری رہ گئی تھی ۔
اس نے اپنی چادر اتار کر ایک طرف رکھ دی اور اپنے بال کھول کر کاندھوں پر بکھیر دئیے۔ میں کچھ دیر خاموشی سے اس کی خود سپردگی دیکھتا رہا ۔
پھر آہستہ سے جھکا ۔۔ فرش سے چادر اٹھا کراسے اوڑھائی اور پھر قریبی میز کی دراز سے نوٹوں کی ایک گڈی اٹھا کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
” یہ رکھ لو ۔ اور اپنے گھر چلی جاؤ ۔ میں ہر ماہ تمھیں پیسے بھیج دیا کروں گا ، بس اب کبھی دوبارہ میرے سامنے نہ آنا ۔۔ ”
بشکریہ عالمی افسانہ فورم

Views All Time
Views All Time
484
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اپنے حصے کا چراغ جلاتے جانا | شازیہ مفتی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: