Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قلم کار حقیقت میں‌بدلا خواب

by مئی 24, 2016 بلاگ
قلم کار حقیقت میں‌بدلا خواب
Print Friendly, PDF & Email

Sudaif Gillaniخواب وہ نہیں ہوتا جو انسان سوئے ہوئے دیکھتا رہے بلکہ خواب وہ ہے جو انسان کو سونے نہ دے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے ’غریب وہ نہیں جس کے پاس مال نہ ہو بلکہ غریب وہ ہے جس کا مخلص دوست نہ ہو ‘پرانی کہاوت ہے ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے زمانے کو گالی دینے والے کبھی بصیرت کو بحال کرو تو اس پرآشوب دور میں مخلص دوست بھی مل جاتے ہیں۔انہی مخلص دوستوں کو حال سناتا ہوں ۔میں ایک دن رضوان گورمانی کے پاس گیا کمرے کے اندر داخل نہ ہوا تھا حکم ہوا مرشد میں نے اورقمر عباس اعوان نے اپنی وئب سائٹ بنانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے ۔آپ کا ساتھ چاہئے ،میں اس بے تکلفی پہ ہنسا تو رضوان اس وقت کال پہ قمر کے ساتھ بات کر رہا تھا میری بات کروائی ،میں نے لوازمات کا پوچھا تو قمر نے بتایا سارے کام ہو گئے ہیں ۔آپ ہمارا ہاتھ بٹاو ۔میری اس وقت قمر سے ملاقات نہ ہوئی تھی ۔میں نے کہا حاضر دوست خوابوں کوحقیقت میں بدلنے کیلئے ہوتے ہیں اور مشکل میں سہارا ۔بسم اللہ کرو ۔پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کے جوائنٹ سیکریڑی ہونے کے ناطے یونین کے کالم نگاروں سے رابطہ میرے ذمے لگا ۔اور چند بڑے نام بھی رابطے کیلئے ہم نے بانٹ لئے ۔قمر خود ایک اچھا لکھاری اورکہانی نویس ہے ۔کافی ایکٹیو ہے وزیراعلیٰ پنجاب کی ایک کمیٹی کا میڈیا کوارڈینٹر بھی ہے ۔رضوان گورمانی ایک سال سے روزنامہ خبریں میں کالم لکھ رہا ہے ۔اس سے پہلے چار سال تک سوشل سیکٹرمیں کام کرتا رہا ہے ۔اس لئے غریبوں کا دکھ اور امراء طبقے کی حقیقت سے واقف ہونے کے ناطے پردرد اور خوبصورت کالم لکھتا ہے۔ سینئرصحافی حیدر جاوید سید نے ایڈیٹر کی ذمہ داری سنبھالی تو سر سے بوجھ ہلکا ہوتا محسوس ہوا کیوں کہ ۔44سال کی صحافت کا تجربہ اور 35کتابوں کا مصنف آپ کا رہبر ہو تو اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہو گی۔عامر حسینی انٹرنیشل جریدے سے وابستہ ہیں اور ان کی ایک کتاب بھی زیر طبع ہے وہ ہمارے ایڈیٹوریل بورڈ کے ہیڈ ہیں۔
ہمارا خواب یہی ہے ہر لکھاری کو موقع ملے اگر صاحب علم اور کتاب دوست ہے اس کو اخبار کے سہارے نہیں چھوڑا جا سکتا ۔سب قلم کار ملک و قوم کا سرمایہ ہیں ۔ہم صرف ان کو آگے لے کر آنا چاہتے ہیں ۔پاکستان کا المیہ ہے یہاں کا ادیب آج بھی اپنا مقام ڈھونڈ رہا ہے ۔سید فضل گیلانی نے خوب کہا ہے
شائد اس طور سکوں کی کوئی صورت نکلے
میں تیرے عالم فانی سے نکل جاتا ہوں
اپنے حصے کی شمع جلائی ہے ۔اس اجالے کو قائم رکھنے کیلئے قلم کار دوستوں کا منتظر ہوں ۔

Views All Time
Views All Time
413
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شہباز کرے پرواز - محمد حنیف
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: