کیا نیا انقلاب ناگزیر ہے؟

Print Friendly, PDF & Email
پچھلے آٹھ سال سے مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا میں ایک غارت گری جاری ہے۔2011ء میں ابھرنے والا عرب انقلاب‘ جو فرانس میں طلبہ اور مزدوروں کی تحریک سے پہلے تیونس میں پھٹ پڑا تھا‘ نے بحر اوقیانوس کے ساحلوں سے لے کر بحر ہند تک پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ تیونس میں زین العابدین بن علی جیسے آمر کا تختہ الٹ دیا گیا تھا اور اس کی بیگم بھاری سونے سمیت اس کے ساتھ سعودی عرب فرار ہو گئی تھی۔ مصر میں حسنی مبارک کی 33 سالہ طویل آمریت گر گئی تھی۔ لیبیا میں قذافی حکومت کے ساتھ وہاں کی ریاست بھی انہدام کا شکار ہو کر ایک انارکی کی کھائی میں ابھی تک خلفشار کا شکار ہے۔ اس بغاوت میں دہشت گردی کی شمولیت سے شام میں بشارالاسد کے خلاف تحریک ایک خونیں خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی۔ سامراجی جارحیت‘ دہشت گردی اور فوجی جبر نے شام کے سماج کو تاراج کر دیا ہے۔ عراق میں 2003ء میں سامراجیوں کے فوجی حملے اور قبضے کے بعد دہشت گردی اور فرقہ وارانہ خونریزی نے ملک کے ہی ٹکڑ ے ٹکرے کر دیے ہیں۔ یمن میں عبداللہ صالح کی حکومت کو آخر کار ٹوٹنا ہی پڑا کیونکہ عوامی بغاوت کے بعد کے مسلسل ریلے تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
حوثیوں کے ابھار اور اس خانہ جنگی میں اتحادیوں کی مداخلت نے یمن کی تہذیب کو ہی نیست و نابودکرنا شروع کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت یمن میں دنیا کا بد ترین انسانی بحران (Humanitarian Crisis) پیدا ہو گیا ہے۔ مراکش میں بغاوتوں کے ابھار نے بادشاہت کو بڑی اصلاحات اور رعایتیں دینے پر مجبور کر دیا تھا۔ فلسطین میں بد ترین صہیونی بربریت کے باوجود فلسطینی عوام کی مزاحمت اور جدوجہد ہار ماننے سے بار بار انکار کر رہی ہے۔ ہر حملے کے بعد غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے مظاہرے ہوتے ہیں۔ ہر دفعہ کئی فلسطینی (زیادہ تر نوجوان) سیدھی فائرنگ سے مارے جاتے ہیں لیکن پھر ایک نئی پرت اپنی جانوں کے نذرانے سے اس جدوجہد کی آگ کو ٹھنڈا نہیں ہونے دے رہی۔ دنیا کی بڑی بڑی انسانی حقوق کی ٹھیکیدار مغربی سامراجی عالمی طاقتیں اور بعض مسلم حکمران بے پروائی اور سفاکانہ خاموشی سے اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اردن میں اس بغاوت کے طوفان کے سامنے بادشاہت جھک گئی تھی اور بہت سی رعایتوں کے علاوہ تحریک کے قائدین کو بہت سی سہولیات دے کر کسی نہ کسی طرح اس بغاوت کے ہاتھوں معزول ہونے سے بچ گئی تھی۔
سامراجیوں نے اقوام متحدہ اور سوڈانی لیڈروں کی فرقہ واریت کو استعمال کرتے ہوئے سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے انقلابی سرکشی سے بچایا تھا۔ خلیجی بادشاہتوں نے بے پناہ چھوٹ اور سبسڈی کی سہولیات پر اربوں ڈالر صرف کر کے مقامی آبادی کی ہلچل کو سہل کرنے کی کوشش کی۔ بعض خلیجی ریاستوں میں معاشرے کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہاں محنت کشوں کی وسیع تر اکثریت پاکستان سمیت جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک سے آئی ہوئی ہے‘ اور انہیں جس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ اس کی وجہ سے نکالے جانے کی تلوار مسلسل ان کے سروں پر لٹکتی رہتی ہے۔ ایسے میں ہڑتالیں کرنا اور تحریکیں چلانا پردیس میں مشقت کرنے والوں کے لئے نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہاں کے مزدوروں نے کٹھن ترین حالات میں بہت سی ہڑتالیں کی ہیں۔ ان میں سے بہت سی کامیاب بھی ہوئی ہیں۔
اگست 2011ء میں اسرائیل کے نوجوانوں اور مزدوروں نے ایک بغاوت کے ذریعے اپنے آپ کو عرب انقلاب کی لہر میں شامل کیا تھا جو ایک غیر معمولی اور تاریخی واقعہ ہے۔
غرضیکہ ایک لہر ابھری‘ تخت گرائے گئے لیکن کوئی متبادل نظام اور موجودہ معاشی اور سماجی حالت کو یکسر بدلنے کا لائحہ عمل اور نظریہ رکھنے والی کوئی پارٹی یا قیادت نہیں تھی‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ انقلاب پسپائی اور ذلت کا شکار ہوا۔ ہر انقلابی کی پسپائی کے بعد یہ نظام ان معاشروں کے عام انسانوں کو انتقام کا شکار بناتا ہے۔ چونکہ جس معاشی اور سماجی بحران سے تنگ آ کر تیونس کے نوجوان ‘بوعزیزی‘ نے خود سوزی کی تھی اور اس سے پورے خطے میں ایک انقلابی طوفان برپا ہو گیا تھا ‘ وہ نظام پھر بھی موجود رہا۔ نہ اس میں بہتری آئی اور نہ ہی عوام کے مسائل حل ہوئے۔ موجودہ خانہ جنگی، غارت گری اور خونریزی کی بربادیاں ایک طرف ہیں لیکن دوسری طرف ان معاشروں میں بیروزگاری، غربت، بھوک، افلاس، مہنگائی اور سماجی گھٹن شدید سے شدید تر ہوتے گئے ہیں۔ اب بہت سے عرب ماہرین اور اس نظام کے سکالر بھی اس خطے میں ایک نئے عرب انقلاب کے آثار کی نشاندہی کرنے لگے ہیں۔
اتوار 29 اپریل کو قطر کے دارالحکومت دوہا میں ہونے والی ایک کانفرنس میں ان ماہرین نے ایک ایسی نئی بغاوت کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کی یونیورسٹی کے سوشل سائنسز کے پروفیسر محمد محجوب ہارون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” تیزی سے پھیلتی ہوئی بے ہنگم شہری آبادی اور روزگار کی منڈیوں پر شدت سے بڑھتا ہوا دبائو جیسے عوامل ایسی امیدوں کو ابھار رہے ہیں جو ایک نئے انقلابی طوفان کی صورت میں پھٹ سکتی ہیں‘‘۔ انہوں نے معاشی جمود، بے ہنگم شہری پھیلائو اور منڈی کی قوتوں (سرمایہ داری) کے عنوان سے تین ایسی وجوہات بیان کیں جو 2011ء کی وسیع بغاوت کا باعث بنی تھیں اور ایک نئی انقلابی لہر کے ابھار کی وجہ بھی بن سکتی ہیں۔ عرب دنیا میں 40 کروڑ آبادی 25 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح ریاستی جبر اور ثقافتی تسلط سے بغاوت کی شورش بھڑک رہی ہے۔ قطر یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے پروفیسر حمود اولجات نے ہارون سے اتفاق کرتے ہوئے نئے عرب انقلاب کی پیشین گوئی کی ہے۔ لیکن انہوں نے اضافہ کیا کہ اگر اس مرتبہ ان کو کوئی تبدیلی اور آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہ ملا تو نوجوان اور تحریک‘ دونوں پُرتشدد بھی ہو سکتے ہیں۔ اس طرف اشارہ کیا گیا کہ پہلے عرب حکمرانوں نے اس انقلاب کے غیظ و غضب سے بچنے اور اپنی حاکمیت کے تحفظ کے لئے اصلاحات کی تھیں‘ اب معاشی بحران کی وجہ سے ان کو واپس لیا جا رہا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی دبائو اور خفیہ اداروں کا متحرک اور باشعور کارکنان پر نگرانی اور جبر بہت بڑھ گیا ہے۔ اولجات نے کہا کہ ”جب ایک مرتبہ معاشرے کے خوف کے بندھن ٹوٹ چکے ہوتے ہیں اور عوام ریاست کی طاقت کو شکست دے چکے ہوتے ہیں تو ردِ انقلابی قوتوں کے شدید دبائو کے باوجود نئی انقلابی بغاوتیں زیادہ شدت سے پھٹتی ہیں‘‘۔
لیکن ایک شاہی حاکمیت میں ہونے والی اس کانفرنس میں پھر حل تو حکمرانوں کے نظام کے اندر ہی دیا جانا تھا۔ مسائل کا حل یہ دیا گیا کہ سیاسی اور سماجی اصلاحات کا آغاز کیا جائے کیونکہ اگر یہ اصلاحات نہ کئی گئیں تو پھر ان حاکمیتوں کو انقلابی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان جید سکالروں اور دانشوروں کے مشوروں پر حکمران عمل کرنا تو ضرور چاہتے ہوں گے۔ آخر وہ ان سرکاری یونیورسٹیوں کے سرکاری سکالروں کی تشکیل پر اتنے بھاری اخراجات اسی لیے تو کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ نہیں کہ وہ یہ اصلاحات کرنا نہیں چاہتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کر نہیں سکتے۔ اگر کریں گے تو پھر جیسے رہ رہے ہیں ویسے رہ نہیں سکیں گے۔ ان کی ترجیحات عیاشیوں کے ساتھ ساتھ سامراجی اور مقامی دولت مندوں کے مفادات اور زیادہ سے زیادہ شرح منافع اور دولت کے اجتماع کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ لیکن پھر یہ دولت عام انسانوں کو محروم کر کے ہی لوٹی جا سکتی ہے۔ اور یہی محرومی پھر بغاوتوں اور 2011 ء جیسے انقلابات کو جنم دیتی ہے۔ ان عرب ماہرین کا تجزیہ اور تناظر درست ہے‘ انقلاب ابھرے گا ضرور! لیکن 2011ء کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انقلاب کی کامیابی کے لئے پارٹی اور مارکسی قیادت درکار ہے، اس کی تعمیر اور تشکیل وہ تاریخی فریضہ ہے جو ان خطوں کے عوام کی تقدیر بدل سکتا ہے اور یہاں سے خونریزی، دہشت گردی، سامراجی وحشت اور غربت و ذلت اور محرومی کا یکسر خاتمہ کر سکتا ہے.
بشکریہ دنیا نیوز
Views All Time
Views All Time
112
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ​معصوم رضیہ کو چور بنانے والے کون؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: