چنگاری

Print Friendly, PDF & Email

پچھلے کئی مہینوں سے کراچی میں محنت کشوں کی مختلف پرتیں سراپا احتجاج ہیں۔ چند دن پہلے سندھ میں شوگر ملز مافیا کے ہاتھوں استحصال کے خلاف کسانوں نے مظاہرے کیے۔ پھر اساتذہ کی کئی ماہ سے چلنے والی تحریک کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ اساتذہ نے اپنی عارضی ملازمتوں کو پکا کروانے کے لئے مارچ کیا۔ درخواست دینے کی غرض سے جب وہ آگے بڑھے تو پولیس نے ان پر ایسا بہیمانہ تشدد ڈھایا کہ اس کے مناظر دل دہلا دینے والے تھے۔ یہ واقعہ روس میں جنوری 1905ء میں ہونے والے اس مظاہرے سے کسی حد تک مشابہت رکھتا ہے جب پیٹروگراڈ کے مزدور زار نکولاس دوئم کے سرما محل کی جانب ایسی ہی ایک پٹیشن لے کر ایک جلوس کی صورت میں جا رہے تھے۔ پادری ‘فادر گپون‘ کی قیادت میں ان مظاہرین کو زار کے دستوں نے گولیوں سے لہولہان کر دیا گیا تھا، البتہ یہاں براجمان حاکمیت کی شاید ابھی اتنی جرات نہیں تھی۔ اپنی نااہلی پر سندھ کے حکمرانوں کے بیانات کافی مضحکہ خیز ہیں۔ پہلے تو سندھ کے وزیر تعلیم جام مہتاب ڈاھر نے یہ بیان دے دیا کہ ”مظاہرین‘ اساتذہ نہیں کوئی اور لوگ ہیں، اساتذہ کے مطالبات تو پہلے ہی تسلیم کر لیے گئے ہیں‘‘۔ پھر آصف زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یہ بیان داغے کہ اس (ظالمانہ تشدد) میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ انہوں نے پولیس کی اس ‘بربریت‘ کی شدید مذمت فرمائی۔ حسب روایت ایک پولیس افسر کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ پُرفریب بیانات سے عیاں ہے کہ حکمران محنت کش عوام کو اتنا بے وقوف سمجھتے ہیں کہ وہ اس بیان بازی پر یقین کرکے ان کو بے قصور تسلیم کرلیں گے۔ ابھی تک اس کھلواڑ میں حکمرانوں نے پُراسرار اور معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ چند ہفتے قبل ایک بااثر خاتون نے پی پی کے سینیٹرز اور اراکین اسمبلی کو حکم دیا تھا کہ آپ ٹیلی وژن ٹاک شوز میں شوگر مل مالکان کے حق میں بات چیت کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں 19 شوگر ملوں کا مالک حکمران خاندان ہے۔ لیکن مسلم لیگیوں سے لے کر تحریک انصاف تک کی قیادتیں بھی تو شوگر ملوں کے مالکان پر مبنی ہیں۔ ملی بھگت سے شوگر ملز مالکان ملک بھر میں کرشنگ اور گنے کی خریداری میں تاخیر اور رکاوٹیں پیدا کرکے کاشتکاروں کو ‘مڈل مین‘ کو گنا کوڑیوں کے بھائو بیچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

کاشتکار سردی کی تاریک راتوں میں سڑکوں پر طویل قطاروں، حادثات، ذلت سے بھرے سفر اور انتظار سے چھٹکارے کے لئے طے شدہ قیمت سے کم پر گَنا بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ‘مل مالکان‘ حکومتوں سے گنے کی خریداری‘ اور چینی برآمد کرنے کی بھاری سبسڈیاں لے رہے ہیں۔ اس لوٹ مار کے باوجود اور مزدوروں کی اجرتوں، کسانوں کی فصلوں اور کاشتکاروں سے ان کی روزی چھین کر بھی ان کی دولت کی پیاس نہیں بجھتی۔ اس دولت سے وہ سیاسی پارٹیوں میں کلیدی مقام، اختیارات اور اقتدار تک رسائی حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے لوٹ مار کے اس کھلواڑ کو جاری و ساری رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھئے:   نئے صوبے کے کچھ گمنام ہیروز

دوسری جانب صحت اور تعلیمی شعبوں کا مافیا بھی اس سیاسی اشرافیہ کا بہت بڑا حصہ بن چکا ہے۔ چند دھائیوں سے سرکاری سکولوں اور دوسرے تعلیمی اداروں کو کہیں این جی اوز اور کہیں کاروباریوں کو دینے کی واردات ہی ‘تعلیمی پالیسی‘ ہے۔ یہ پالیسی مارگریٹ تھیچر کی عوام دشمن نجکاری کی پالیسیوں کی نقالی ہے، جس کو ‘پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس مزدور دشمن پالیسی کا آغاز 1988ء کی پیپلز پارٹی حکومت کے تحت کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس کی پیروی تمام حکومتوں نے کی۔ ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے قومیائے کچھ تعلیمی اداروں کو دوبارہ پرائیویٹائز کیا تھا، لیکن اس میں تیزی سویلین حکومتوں کے آنے سے پیدا ہوئی۔ 1990ء میں نجی شعبے میں تعلیمی اداروں کی تعداد 32 ہزار تھی‘ جبکہ 2016ء میں یہ تعداد 60,000 سے تجاوز کر چکی تھی۔ نجکاری سے جہاں تعلیم عام گھرانوں کے بچوں کے لئے مہنگی ہوئی وہاں نجی شعبے کے اساتذہ کی اجرتیں شرمناک حد تک کم ہی رہیں۔ سرکاری شعبے میں کنٹریکٹ ٹیچر کی بھرتیاں کی گئیں، ان علم دینے والے مزدوروں کو کم ترین اجرتیں دی گئیں اور ان کو مستقل ملازمین والی سہولیات سے محروم کر دیا گیا۔ یہ عارضی اور ٹھیکیداری نظام کے تحت ذلتوں اور رسوائیوں کے شکار اساتذہ ہی تھے جو کراچی میں اپنی ملازمتیں پکی کروانے، چھینی گئی ملازمتوں اور اجرتوںکی بحالی کے لئے مارچ کرنے جا رہے تھے۔ یہ استاد ملازمت کیلئے ‘این ٹی ایس‘ ٹیسٹ پاس کیے ہوئے تھے اور ان میں سے بیشتر اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کے حامل تھے۔ تشدد کے چند گھنٹے بعد ہی سندھ حکومت نے ”تمام مطالبات ماننے‘‘ کا اعلان کر دیا۔ یہ پھر ایک دھوکہ تھا جو حکمران بار بار ان مزدوروں کو دیتے آ رہے ہیں۔ جب بنیادی پالیسی ہی سرکاری تعلیمی اداروں کی نیم یا مکمل نجکاری پر مبنی اور جاری ہے تو یہ مطالبات بہ امر مجبوری تسلیم تو کیے جا سکتے ہیں‘ مگر ان پر عمل درآمد ناممکن بنا دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نجکاری سے نہ صرف معیار تعلیم گرا ہے بلکہ ‘تعلیم کی مہنگائی‘ سے پاکستان دنیا کے کم ترین خواندگی والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ سرکار کا تعلیم اور علاج کے شعبوں سے یہ فرار کوئی حادثاتی عمل نہیں ہے بلکہ اس ‘فرار‘ سے ان کے فنانسروں کو منافعوںکے نئے راستے اور ذرائع حاصل ہوتے ہیں۔ یہی ‘فرار‘ تعلیمی اداروں کے پھلتے پھولتے ‘نیٹ ورک‘ کا بھی ذمہ دار ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں جیسی تعلیم اور تربیت دی جاتی ہے، اس کا احوال اور نتیجہ سارا سماج بھگت رہا ہے۔ ستم یہ ہے کہ ان مدرسوں کو کنٹرول کرنا تو درکنار‘ الٹا ہر پارٹی کی حکومت جب اپنی لوٹ مار کی پالیسیوں سے کسی عوامی مزاحمت کا خطرہ محسوس کرتی ہے تو پھر مذہبی پیشوائوں کا سہارا لینے کے لئے ایسے تعلیمی اداروں کو مزید فروع دیتی ہے۔ یہی کچھ تمام صوبوں میں علاج اور صحت کے شعبوں میں ہو رہا ہے۔ جہاں سرکاری ہسپتالوں اور مفت علاج کا اتنا واویلا اور تشہیر ہے وہاں زمینی حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں علاج کے شعبے پر اب نجی سرمایہ دار حاوی ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پارٹی عوام کو مفت اور مکمل علاج و تعلیم کا وعدہ تک کرنے سے گریزاں ہے۔ ایمرجنسی تک کا کام اب نجی فلاحی اداروں کو منتقل ہو چکا ہے۔ سرکاری سہولیات بہت محدود ہیں۔ اگر حکمرانی پر فائز یہ ‘لیڈر‘ مفت اور مکمل علاج و تعلیم دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو ان کو ایسا کرنے کیلئے نجی شعبے کے اداروں کو نیشنلائز کرنا پڑ ے گا۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ 1973 سے 77 کی پی پی حکومت نے جو تھوڑے بہت صحت اور تعلیم کے ادارے قومی تحویل میں لیے تھے، بعد ازاں وزیر اعظم گیلانی نے اس پارٹی پالیسی کی بھرپور مذمت بھی کی تھی۔ آج پیپلز پارٹی قیادت کی اتنی جرأت ہی نہیں ہے کہ کسی شعبے کو قومی تحویل میں لینے کی بات بھی منہ پر لا سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عوام اس محرومی اور مظلومی کو کب تک برداشت کریں گے۔ کراچی میں سندھ کے اساتذہ‘ کسان اور دوسرے شعبوں کے محنت کش تو آ کر مظاہرے کر رہے ہیں، لیکن کراچی کا دیوہیکل صنعتی پرولتاریہ ابھی تک خاموش اور جمود کا شکار ہے۔ وہ ذلتوں کو بس برداشت ہی کرتا چلا جا رہا ہے۔ مگر وہ اس درد کو کب تک برداشت کرتا رہے گا جو مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ یہ مظاہرے ایسی چنگاریاں ہیں‘ جو کراچی میں پھیلے ہوئے ذلت کے ایندھن تک پہنچ کر اس کو بغاوت کے ایسے شعلوں میں بدل دیں گی جو ہوس پر مبنی اس پورے نظام کو راکھ کر دیں۔ کراچی کا مزدور اگر اپنے جمود کی زنجیروں کو توڑ کر نکل پڑا تو پھر پولیس تو کیا پوری حکومت کی طاقت بھی اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکے گا۔

یہ بھی پڑھئے:   آزادیٔ صحافت، کل اور آج | حیدر جاوید سید

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
171
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: