Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

لکھنو: تاراج ہوتی تہذیب! – ڈاکٹر لال خان

by مارچ 27, 2017 مہمان کالم
لکھنو: تاراج ہوتی تہذیب! – ڈاکٹر لال خان
Print Friendly, PDF & Email
برصغیر جنوبی ایشیا میں قدیم ثقافت اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ کبھی لکھنو ہوا کرتا تھا۔ کسی بھی تہذیب کا جہاں سب سے ٹھوس اور طویل المدت اظہار اس کا فن تعمیر ہوا کرتا ہے وہاں اس تہذیب و تمدن کی نفاست یا پسماندگی کا اندازہ اس کی زبان، ثقافت، فنون، غذائوں اور خورونوش کے انداز اور ان کے کھانوں کے معیار سے لگایا جاتا ہے۔ ایک صدی سے زائد عرصے تک لکھنوکے بارے میں یہ مشہور تھا کہ جس کسی نے بھی لکھنو جا کر ”ٹُنڈے کے کبابوں‘‘ کا مزہ نہیں لیا وہ کبھی اصل لکھنو گیا ہی نہیں۔ لیکن ایک سو بارہ سال بعد 23 مارچ کو پہلی مرتبہ اس ٹُنڈے کے کباب ان کے رسیائوں کو ملنا اچانک بند ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اتر پردیش کے نئے ہندو بنیاد پرست پجاری یوگی ادیتیا ناتھ نے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد پہلاحکم نامہ یہ جاری کیا کہ اتر پردیش کی پوری ریاست میں گوشت کی دکانوں اور ذبح خانوں کو بند کر دیا جائے۔ اس روز یہ دکان ہی بند ہو گئی۔ لکھنو کے اکبری گیٹ پر تحسین کنندہ مسجد کے پہلو میں قدیم اندرون شہر لکھنو کی اس دکان میں یہ کباب 1905ء میں بننا شروع ہوئے تھے۔ اس کو بنانے والے باورچی کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا اس لیے یہ ”ٹنڈے‘‘ کے کباب کے نام سے مشہور ہوئے تھے۔ ان کبابوں کو لکھنو اور ادوھ کے شاہی دستر خوان کا سب سے لذیذ کھانا مانا جاتا تھا۔ لیکن عام لوگوں کو بھی اس کی رسائی حاصل تھی۔ اس دکان کو چلانے والے محمد عثمان نے پوچھنے والوں کو بتایا کہ اس کے پڑدادا نے یہ دکان شروع کی تھی اور یہ کباب جن میں 160 مسالہ جات پڑتے تھے صرف بھینس کے گوشت سے ہی بن سکتے تھے۔ اس باورچی خاندان نے یہ نسخہ کبھی کسی کو نہیں دیا تھا اور اس چھوٹی سے دکان سے ہی نسل در نسل لوگوں کو اس لذت سے محظوظ کرتے رہے۔ عثمان نے یہ بھی بتایا کہ ان کبابوں کو چکھنے کے لیے دنیا بھر سے عام لوگ اور سیاح لکھنو آتے تھے اور اس تاریخی ثقافتی شہر کی سیاحت اس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جاتی تھی جب تک ان کبابوں کا مزہ نہ لیں۔
یہ بظاہر ایک عام سا واقعہ اس سیاسی، سماجی اور معاشی عمل کی عکاسی کرتا ہے جس میں آج کا لکھنو، اتر پردیش اور بھارت مبتلا ہو رہا ہے۔ یوگی ادیتیا ناتھ، بی جے پی اور اس کی سرکار بہت واضح انداز میں ظاہر کرتے ہیں کہ نریندر مودی کا اصل ناٹک اور رجعتی کردار کیا ہے۔ یوگی ادیتیا ناتھ اتر پردیش کے ضلع گورکھ پور سے بی جے پی کا ممبر ریاستی اسمبلی ہے۔ وہ اب تک بلوے، مذہبی فسادات، اقدام قتل، قبرستان کی بے حرمتی، عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ اور دوسری کئی پرتشدد وارداتوں کے مقدمات میں ملزم ہے۔ اس سادھو کا ایک اپنا نجی مسلح جتھوں کا منظم گروہ اور تنظیم ”ہندویووا واہینی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یوگی ادیتیا ناتھ نے حالیہ دور میں زیادہ شہرت اپنی ”لَو جہاد‘‘ مہم سے پائی ہے۔ اس لَو جہاد کی فسطائی مہم کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان جوان ہندو لڑکیوں کو محبت کا ناٹک کرکے پھانستے ہیں اور پھر ان کو ہوس کا نشانہ بنا کر مذہب تبدیل کرواتے ہیں تاکہ ان سے مزید بچے پیدا کرکے بھارت میں مذہبی پس منظر سے تعلق رکھنے والی آبادیوں کے تناسب بدل سکیں۔ اس سے زیادہ بھیانک تعصبانہ اور منافرتیں پھیلانے والا زہر اور کون سا ہو سکتا ہے؟ یوگی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس لَو جہادکے لیے پولیس کے ”اینٹی رومیو‘‘ نامی جتھے تیار کئے گئے ہیں‘ جن کا کام اتر پردیش کے شہروں کے بڑے مالز، پارکوں اور دیگر جگہوں پر بیٹھے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو تنگ کرنا، انکے کارڈ چیک کرنا اور ان کو گرفتار کرنا ہے۔ یوگی ادیتیا ناتھ کے نام محمد اخلاق نامی اتر پردیش کے ایک شہری کا قتل تھا‘ جس کے بارے
میں عید کے موقع پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ اس نے گائے کا گوشت کاٹا اور استعمال کیا ہے۔ اس کے اندوہناک قتل کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس کے گھر کے فریج میں جو گوشت پڑا ہوا تھا‘ وہ گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا تھا۔ اسی طرح ضلع مظفر نگر کے دیہاتوں سے ایک لاکھ مسلمانوں کا جبراً انخلا کروانے میں اس مذہبی پیشوا کا نام آتا ہے۔ اسی طرح اتر پردیش میں شاید ہی کوئی ایسا وحشت کا اقدام ہو جس میں سرغنہ یوگی ادیتیا ناتھ نہ ہو۔ کئی سالوں سے گورکھ پور کے پورے ضلع میں بی جے پی کے غنڈے یہ نعرہ لگاتے رہے ہیں کہ ”گورکھ پور میں رہنا ہے تو۔۔۔ یوگی یوگی کہنا ہو گا!‘‘ اس کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد کے ارادے اس بیان سے ظاہر ہیں کہ ”جب (ریاستی ادارے) ”کارسیوکوں‘‘ (ہندو جنونی غنڈے) کو بابری مسجد کو گرانے سے نہیں روک سکے تو اب وہ ہمیں (آیودھیا میں رام) مندر بنانے سے بھلا کیسے روکیں گے؟‘‘ برطانوی اخبار گارڈین نے بھارت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اپنے اداریے میں لکھا” کبھی یہ کہا جاتا تھا کہ یہ قوم دیوتائوں کے باوجود کامیابی اور ترقی کرے گی۔ اب انہی کی وجہ سے پستی میں واپس گر رہی ہے‘‘۔ لیکن صورتحال اتنی سادہ اور سیدھی بھی نہیں۔
غالب نے ایک مرتبہ کہا تھا: ؎
بے خودی بے سبب نہیں ہے غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
اس مذہبی جنونیت کے پیچھے بھارت کے شدید داخلی اور اقتصادی بحران کی وہ شدت ہے جس کو حکمران طبقات اب مذہبی فرقہ واریت اور منافرتوں کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں سے زائل کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کی شرح نمو اس سال 7.6 فیصد سے گر کر 6.6 فیصد ہو رہی ہے۔ دو سال بعد یہ نمو کی شرح پھر چین کی شرح نمو سے پیچھے رہ گئی ہے۔ لیکن شرح نمو اور صنعتی ترقی سے بھی کام کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ مودی سرکاری کے آنے پر بھارت میں ہر ماہ ایک کروڑ بیروزگاروں کا محنت کی منڈی میں اضافے ہو رہا تھا۔ اب سے تین سال بعد یہ مقدار ایک کروڑ 20 لاکھ ماہانہ ہو گئی ہے۔ اگر ہندوستان میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا ناٹک پیش کیا جاتا ہے تو یہاں دنیا کی سب سے بڑی غربت بھی پائی جاتی ہے۔ اور اتر پردیش کی ریاست اس دنیا کے سب سے بڑے غریب ملک کی غریب ترین ریاستوں میں آتی ہے۔ اتر پردیش میں دوسرے اعدادوشمار کو چھوڑ دیں صرف اس پر غور کریں کہ 60 فیصد بچے نامکمل جسمانی و ذہنی نشوونما کا شکار ہیں۔ 
لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں کی حزب اختلاف کی پارٹیاں کانگریس سے لے کر سماج وادی پارٹی تک اور مایا وتی سے لے کر نتیش کمار اور لالو پرشاد یادو کی پارٹیوں تک سبھی اس سرمایہ دارانہ جبر و استحصال سے جنم لینے والی غربت محرومی اور ذلت کے خلاف، اس نظام کے خلاف، کوئی براہِ راست جدوجہد کرنے سے گریزاں ہیں۔ سبھی اس نظام کی بالادست پرتوں کے مختلف دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مودی اور بی جے پی نے ان پارٹیوں کے سیکولرازم، جمہوریت پسندی اور لبرل ازم کو پرے کرتے ہوئے، امیری، غریبی اور ترقی (وکاس) سب کے ساتھ کا ناٹک رچایا ہوا ہے۔ لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ اپنی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی اور بھارتی سرمایہ داری کے بحران کی شدت نے اندر سے مودی اور بی جے پی کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ شاید اس سے گھبرا کر امیت شاہ اور مودی کی ٹھگوں کی جوڑی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہندو اکثریت والے ملک میں ہندوئوں کو ہی مظلوم بنا کر اور مذہبی منافرتوں کو بھڑکا کر 2019ء کے قومی انتخابات کی جانب جایا جائے اور اس مذہبی جنون اور قوم پرستی کے شائونزم کو شدید سے شدید تر کرکے اگلی سرکار بنانے کا عمل بنایا جائے۔
لیکن جہاں ہندوستان میں اس مذہبی تنائو کے زہریلے تضادات ابھر رہے ہیں وہاں خصوصاً برصغیر کے دوسرے ممالک میں مختلف مذاہب کے بیوپاری جنونی اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندو جنونیت کے ردعمل میں دوسری مذہبی انتہا پسندی کو ہی فروغ ملتا ہے۔ ان مذہبی، قومی، لسانی اور فرقہ وارانہ نورا کشتیوں میں صرف غریب ہی چت اور پامال ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیکولرازم، مالیاتی جمہوریت اور لبرل ازم کی ناکامی نے وہ خلا پیدا کیا جس میں یہ مذہبیت ابھری ہے۔ لیکن مسئلہ صرف سیاسی اور ریاستی ڈھانچوں کے گل سڑ جانے کا نہیں ہے۔ ان کی اقتصادی اور سماجی بنیادیں اتنی بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ ان میں کسی قسم کا معاشرتی استحکام اور خوشحالی ممکن نہیں ہے۔ یہ نظام اتنا متروک ہو چکا ہے کہ اس میں یو گی ادتییا ناتھ جیسے درندے ہی اقتدار میں آتے ہیں۔ یہ بربریت اب انسانی تہذیب اور تمدن کے لیے ہولناک خطرہ بنا چکی ہے۔ اس کی اقتصادی اور سماجی بنیادوںکو یکسر بدلے بغیر اس کی وحشیانہ جارحیت کو شکست فاش نہیں دی جا سکتی۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
299
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   نئے آغاز کا امکان | ایاز امیر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: