جہاد پرمحترم جاوید غامدی صاحب کے متضاد و متناقض افکار – ڈاکٹر سید خالد جامعی

Print Friendly, PDF & Email

غامدی صاحب کی پوری دین فہمی ہی تضادات، تناقضات ،ابہامات ،اشکالات، قیاسات ناقص تحقیقات ،تنازعات ،تسامحات اورنو بہ نو تفردات کا مجموعہ ہے ان کی کوئی بات ، کوئی قول کوئی اصول کوئی نظریہ کوئی عقیدہ محکم نہیں وہ سیماب کی طرح بدلتے رہتے ہیں مذہبی جبر فتنہ ظلم و عدوان ان کے خلاف و ہ قیامت تک جہاد کی اجازت دیتے ہیں مگرجب مسلمانوں پر کوئی مذہبی جبر کرے ان کو دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرے اس موقع پر جہاد کی اجازت اچانک منسوخ کردیتے ہیں حالانکہ وہ ظلم و عدوان اور مذہبی جبر کے خلاف قیامت تک جہاد ابدی جدوجہد کے قائل ہیں ان کے تناقضات ملاحظہ فرمائیے۔
فتنہ کی تعریف مذہبی جبر ہے:غامدی
فتنہ کے معنی کسی شخص کو ظلم و جبر کے ساتھ مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کے ہیں جسے انگریزی میں Persecution کہتے ہیں یہ قتل سے زیادہ سنگین جرم ہے اللہ نے انسانوں کو اس دنیا میں حق دیا ہے کہ وہ اپنے آزادانہ فیصلے سے جو دین اور جو نقطۂ نظر چاہیں اختیار کریں لہٰذا کوئی شخص یا گروہ اگر دوسروں کو بالجبر ان کا دین چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے تو یہ درحقیقت اس دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کی پوری اسکیم کے خلاف اعلان جنگ ہے فتنہ کی حالت ختم ہونے تک مسلمان تلوار اٹھائے رکھیں:غامدی میزان ۲۰۱۵ء، ص۵۹۲
مسلمان فتنہ کے خلاف قیامت تک جہاد کریں: غامدی
مسلمانوں کو صرف اور صرف ظلم و عدوان اور فتنہ کے خلاف قیامت تک جہاد و قتال کی اجازت ہے یہ شریعت کا ابدی حکم ہے : غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۷۷ ، ۵۹۲
مسلمان فتنہ کے خاتمے تک تلوار اٹھائیں اور برابر اٹھائے رکھیں یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے:غامدی:میزان،۲۰۱۵،ص۵۸۱
فتنہ کے خلاف جنگ کا حکم قیامت تک کے لیے باقی ہے اس میں شبہ نہیں کہ دوسروں کو بالجبر ان کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی روایت اب ختم ہوگئی ہے اللہ کی زمین پر جب بھی فتنہ سر اٹھائے مسلمان مظلوموں کی مدد کے لیے اٹھیں اور اللہ کی راہ میں جنگ کا اعلان کردیں:غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۹۳
مسلمان فتنہ کے جواب میں جہاد نہیں صبر کریں: غامدی
مسلمانوں کو فتنہ کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں فتنہ کے تشدد کا جواب تشدد سے دینے کے بجائے مسلمان صبر کریں:غامدی
اس اصول کی تقریر مقامات میں غامدی صاحب اس طرح کرتے ہیں۔
مسلمانوں کو مذہبی جبر Persecution کا نشانہ بنایا جائے تو وہ تشدد کے جواب میں تشدد کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے صبر کریں اور ممکن ہو تو اس جگہ کو چھوڑ کر کسی ایسے مقام کی طرف منتقل ہوجائیں جہاں وہ اعلانیہ اپنے دین پر عمل پیرا ہوسکیں اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلآءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا فَاُولٰٓءِکَ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَ سَآءَ تْ مَصِیْرًا[۴:۹۷]غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۶۹
قرآن نے سو رہ نساء کی آیت ۹۷ میں فتنہ کی جگہ سے مسلمانوں کو ہجرت کا حکم دیا ہے فتھا جرو اس کا ترجمہ غامدی صاحب نے جان بوجھ کر ہجرت کے بجائے’’ منتقل ہونا‘‘ کیا ہے۔
فتنہ کے بارے میں غامدی صاحب کے بیان کردہ اصول متناقض متضاد Oxymoron ہیں (۱)ایک جانب وہ قرآن سے ثابت کرتے ہیں کہ مسلمان صرف اور صرف فتنے کے خلاف جنگ کرسکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں (۲) وہ اجازت دیتے ہیں کہ دنیا میں جہاں کہیں فتنہ برپا ہو جہاں بھی کسی کو اس کے مذہب سے جبراً برگشتہ کیا جارہا ہو مسلمانوں کافرض ہے ہر ایسے فتنے کے خاتمے کے لیے جہاد کریں میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۹۳ مگر جب دنیا میں مسلمانوں کو جبراً دین چھوڑنے پر تیار کیا جارہا ہو انھیں مجبور کیا جارہا ہوکہ وہ اللہ کا نام نہ لیں تو اس وقت غامدی صاحب انہیں جہاد کے بجائے صرف صبر اور صرف وہاں سے منتقل ہونے کا حکم دیتے ہیں۔
قرآن کے ایک ہی حکم کے دو معانی بیان ان کے اصول قرآن کے تحت غلط ہے لہٰذا وہ لکھتے ہیں قرآن میں ایک سے زیادہ تاویلات کی ہر گز گنجائش نہیں :غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۲ مقامات کے مضمون قطعی الدلالۃ قطعی اور ظنی اور خاص اور عام میں انہوں نے واضح طور پر لکھاہے کہ قرآن قطعی الدلالۃ ہے اس کی کوئی آیت محتمل وجوہ نہیں اس کی ہر آیت کا ایک ہی مطلب ہے مگر اب غامدی صاحب اپنے اصولو ں کے خلاف ہی رائے پیش کررہے ہیں حالانکہ ان کا اصول یہ ہے کہ مجتہد کے لیے اپنے اجتہاد کی خلاف ورزی جائز نہیں چنانچہ قرآن نے اسے ضمیر کے ساتھ خیانت سے تعبیر کیا ہے غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۳۶۶

Views All Time
Views All Time
1117
Views Today
Views Today
4
یہ بھی پڑھئے:   کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا - ام رباب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: