Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چاند پر موت-ڈاکٹر بلند اقبال

by اپریل 19, 2017 افسانہ, صفحہ اول
چاند پر موت-ڈاکٹر بلند اقبال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس تھوڑی ہی دیر کیلئے زمین کا دل کانپا تھا اور پھر اسکا سینہ چھلنی ہوتا چلا گیا۔
فضا بے بسی سے زمین کو کٹتے دیکھنے لگی۔ آگ اور دھویں کا ایک طوفان تھا جو اس کے چٹان جیسے سینے سے نکل کر اردگرد کی فضا کا دم گھونٹ رہا تھا۔ آگ کی لپٹیں زمین کو تہہ درتہہ جلا رہی تھیں۔ اسکی کوکھ جو کھربوں، اربوں سالوں سے سکون وآشتی کا سمندر چھپائے بیٹھی تھی لمحے بھر میں ایک ان دیکھے عذاب کا نشانہ بن گئی اور اب ایک ایسی بانجھ کوکھ کی شکل میں ڈھل گئی تھی جسے جنم جنم سکون کی خواہش میں جلنا تھا۔ زندگی موت کی بھی تو ہوتی ہے۔ روتی ہوئی فضا نے زمین کو بلکتے دیکھ کر دلاسہ دیا اور پھر ہوا کی شکل میں بکھرنے لگی۔ زمین نے پہلی بار وقت کا مزا چکھا اور لامتناہی سے متناہی ہونے لگی، پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسکے دامن میں صدیاں سمٹنے لگی۔

یہ کہہ کر دادا نے ایک گہری سانس لی اور بادلوں کو تکنے لگا پھر کچھ ہی لمحوں بعد اپنی ڈبڈبائی آنکھوں سے آسمان پر چاند کو ڈھونڈنے لگا مگر بادل کچھ اسطرح تہہ درتہہ ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے تھے جیسے وہ چاند رات نہیں بلکہ اماوس کی رات ہو۔

چاند کو نہ پا کر دادا نے مایوسی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ایکبار پھر کھوئے ہوئے منظر سے خود کو جوڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ چارپائی کے بان بوڑھے دادا کے بوجھ سے پل بھر کیلئے چرچرائے اور اپنی کھوئی ہوئی نیند ڈھونڈنے لگے مگر چارپائی کے بانوں کی آواز سن کر دادا کا پوتا کسمسا سا گیا اور پھر دادا کا دامن کھینچ کر پوچھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” دادا پھر زمین کا کیا بنا؟”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا ہوا میں ڈھلی، پہلے پہل تو بہت ہی بھڑکی اور اپنی آگ میں خوب ہی جلی مگر پھر زمین کے کرب میں اشکبار ہوتی چلی گئی اور بالآخر پانی پانی ہونے لگی۔
آگ جو ٹھنڈی ہوئی۔ زمین کی کوکھ پھر سے ہری ہونے لگی۔ ہر طرف سبزہ اگنے لگا پھر اس میں مور بھی ناچنے لگے۔ چپکے چپکے زمین کا سینہ دودھ سے بھرنے لگا۔

ممتا کی ماری اپنا کرب بھول کر سانپوں کو دودھ پلانے لگی۔ بانجھ کوکھ سے، کرب پیدا ہوتا ہے، امن و سکون نہیں،’ فضا نے زمین کو تنبیہ کی مگر جیسے شکاری کے جال میں کسی بے بس پرندے کیطرح وہ تخلیق اور ممتا کے درمیان محض پھڑپھڑا کر رہ گئی۔ دوسری طرف زمین آستینوں کے سانپ پیدا کرنے لگی جو انسانوں کی شکل میں تھے اور اپنے پوٹوں میں زہر چھپائے بیٹھے تھے۔

یہ سن کر پوتے نے اپنی دونوں آستینوں سے ہاتھ نکال لیے اور دادا کے دامن کو اپنی مٹھیوں میں بھینچ لیا۔ دادا نے پیار سے پوتے کو سہلایا اور دھیمے سے دلاسا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے تم مجھ سے جڑے ہو میرے پوتے، گزرے اور آنیوالے وقتوں کیطرح دامن بھی آستینوں سے سلے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک لمحے کیلئے امید کی کوئی انجانی کرن پوتے کی خوابیدہ آنکھوں میں چمکی مگر پھر اماوس کے گہرے اندھیرے میں ڈوبتی چلی گئی کیونکہ دادا کی پلکوں کا آنسو جو چاند کیطرح چمک رہا تھا وہ اصل میں چاند نہیں تھا۔ چاند تو واقعی تہہ درتہہ بادلوں تلے چھپا ہوا تھا۔ پوتے نے غضبناک آواز میں دادا سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا پھر زمین کا کیا بنا؟

فضا زہریلی ہواؤں سے بھرنے لگی۔ زمین کے آستین کے سانپ اسے ڈسنے لگے اور اسکی کوکھ کو سانپوں سے بھرنے لگے۔ ان کے زہر سے فضا ایسی آلودہ ہوئی کہ خود اسکے لیے بھی سانس لینا مشکل ہوتا چلا گیا۔ ان آستین کے سانپوں نے زمین کے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور پھر وہ ایکدوسرے کے بچوں کو کھانے کیلئے اپنے قد سے بڑے ناگ اور اژدھے بنانے لگے جو اپنے منہ سے ہر رنگ کی آگ پھینکتے تھے اور لمحے بھر میں کھربوں اربوں زندگیوں کو موت سے بدل دیتے تھے۔ زمین کے سینے کو آگ سے بھر دیتے تھے اور اسکی کوکھ سے وہ نفرت پیدا کرتے کہ زمین بانجھ کوکھ کی خواہش میں رونے لگتی تھی۔

بوڑھا دادا یہ کہہ کر بلک بلک کر رونے لگا اور پھر آسمان کیطرف دیکھ کر سسکیاں بھرنے لگا۔ اچانک پوتے کو لگا جیسے دادا کے آنسوؤں میں چاند چمک رہا ہو۔ پوتے نے بیتابی سے دادا کا دامن کھینچا اور کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دادا چاند نکل آیا۔ بوڑھے دادا نے سر اٹھا کر چاند کو دیکھا تو اسکا چہرہ خوف سے فق ہو گیا۔ زمین کا ایک ناگ چاند کے سینے کو چہر رہا تھا۔

لمحے بھر کیلئے چاند کا دل کانپا اور پھر اسکا سینہ بھی چھلنی ہوتا چلا گیا۔

چاند پر کے بادل ایک کے پیچھے ایک چھپ رہے تھے۔ آگ اور دھویں کا ایک طوفان تھا جو اسکے چٹان جیسے سینے سے نکل کر آس پاس کے بادلوں کا دم گھونٹ رہا تھا۔ آگ کی لپٹیں اسکو تہہ درتہہ جلا رہی تھیں۔

Views All Time
Views All Time
339
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: