رزق ، برکت اور بابرکت

Print Friendly, PDF & Email

رزق کا تعلق لذات اور حسیات سے نہیں بلکہ رزق احساسات اور پرورش و پرداخت کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ لذات اپنی اصل میں مادّی ہیں۔ جبکہ احساس اپنی کنہ میں روحانی ہوتا ہے۔ رزق کا مفہوم اس وقت تک دائرہِ تفہیم میں نہیں آتا جب تک بندہ اپنے رب کی صفت ِ ربوبیت کی خو بو سے آشنا نہ ہوجائے۔ رب اپنے مربوب کی ربوبیت کا سامان جن اسباب و علل سے کرتا ہے۔ وہ تمام کے تمام ابواب ِ رزق ہیں۔ وقت وجود اور وسائل سے لے کر تعلقات تک سب کے سب اسبابِ رزق ہیں۔

رزق اشیا کے انبارر، وسائل کی بھرمار اور حصول و وصول کی طومار کا نام نہیں۔ بلکہ رزق کامفہوم اشیا پیدا کرنے والے کی منشا سے آگہی یاکم از کم آگاہی کی تمنا کے ساتھ کھلتا ہے۔ اپنی زندگی میں ایک خالق ، مالک اور رازق ذات کااحساس بیدار ہوتے ہی انسان کو اس ذات کی منشا کی تلاش لاحق ہوجاتی ہے۔ جب تک احساس بیدار نہ ہو۔ رزق کہیں نظر نہیں آتا۔ بس اپنے ارد گرداشیا نظر آتی ہیں۔ یاپھر ان اشیا کے گردحصول اشیاء کی دوڑ دکھائی دیتی ہے۔

ظاہر پرست آنکھ مال و دولت کو رزق تصور کرتی ہے۔ حالانکہ رزق میں وہ سب چیزیں شامل ہیں جو دولت سے نہیں خریدی جاسکتیں۔ مثلاً معاشرے میں عزت، گھر میں سکون، بچوں کا باادب ہونا، بزرگوں کا مہربان ہونا، ماتحتوں کا وفادار ہونا ، زندگی میں مخلص دوستوں کامیسر آنا۔ یہ سب کی سب وہ مہربانیاں اور آسانیاں ہیں جن کے دام پیسوں سے نہیں چکا ئے جا سکتے۔

دراصل ہر وہ چیز رزق ہے جس سے زندگی میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ آسانیاں تقسیم کرنے سے مزید آسانیاں میسرآتی ہیں۔اپنے وقت اور وسائل کے باب میں بخل سے کام لینے والااپنی زندگی میں ممکنہ طور پرکھلنے والے نئے امکانات کے دروازے اپنے ہاتھ سے مقفل کرلیتا ہے۔

اکثر اوقات انسان اپنے رزق کو اپنی کوشش کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ یوں رزق کی روحانی جہتوں سے ناآشنا رہتا ہے۔ بن مانگے ملنے والا اور بغیر کوشش کے حاصل ہونے والے اسباب ِ زیست کوانسان اپنا پیدائشی استحقاق سمجھتا ہے۔ حالانکہ اس کی پیدائش کا تعلق بھی اس کے استحقاق سے ہرگز نہیں۔ وہ تمام معاشی تصرفات اور معاشرتی تعلقات جو اس کی رزق کی پیدائش سے متعلق ہیں۔ اس کی کوشش کا نتیجہ نہیں۔ دراصل تعلق ایک دو طرفہ کہانی ہے، یک طرفہ کوشش تعلق کے کسی نخل کو ثمر بار نہیں کرسکتی۔

اپنے حاصل کو اپنی کوشش کا نتیجہ جاننے والا غرور میں مبتلا ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا۔ حضرت واصف علی واصفؒ کا فرمان ہے ” انسان کا ہر حاصل عطا ہے اور اس کا ہر دعویٰ خطا ہے“۔ اپنے حاصل اور عطا کو استحقاق تصور کرنے والا رزق کے تصور اورتاثیر سے محروم ہوتا ہے۔رب کی ذات کا احساس بندے کو اپنے تمام تردعووں سے لاتعلق کر دیتا ہے۔ وہ رزق کو اپنی کوشش اور اسباب سے متعلق جاننے کی بجائے اپنے رب کی منشا و مہربانی کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں دین اس کے شعور کی ربوبیت کرتا ہے۔ دین اسے بتاتا ہے کہ اس کااستحقاق اور فرائض کا میزانیہ کیا ہے، میزان میں خسارہ کیا ہے، خسارہ پانے والوں کا انجام کیا ہے۔ دین اسے وہ نعمتیں بھی باور کرواتا ہے۔ جو اس کی طلب سے پہلے ہی اسے عطا کر دی گئی ہیں۔ نعمت کے احساس کے ساتھ ہی منعم کی تلاش کا وارد ہو جانا شعور کا لازمہ ہے۔ نعمت سے منعم کی طرف رجوع نہ کیا جائے تو استکبار لازم آتا ہے۔ قرآنِ کریم میں درج ہے کہ قیامت کے روز نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ یہ آیت پڑھ کر حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے تھے کہ عاقبت اس دن کو کہتے ہیں جب محسن اپنی نوازشات کا حساب مانگ لے، برسبیل تذکرہ قارئین کو ربع صدی قبل لیے چلتا ہوں۔ ایک بار گلشن راوی میں گفتگو کی محفل برپا تھی۔ باہر زور دار بارش ہو رہی تھی۔ حاضرین میں سے کسی نے رزق کے بارے میں سوال کیا ۔ آپؒ نے الماری میں رکھی ہوئی ایک لغت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس میں دیکھ کر بتاﺅ رزق کے کیا معانی لکھے ہوئے ہیں۔ کھولنے والے نے کتاب کھولی اور رزق کے مطالب پڑھنے لگا۔ ان مطالب کی فہرست میں میں ایک مطلب درج تھا بارش کرامت نہ سہی یہ کشف ِ معنی ضرور تھا۔ بہر طور بارش کی طرح رزق بھی آسمان سے نازل کیا جاتا ہے۔ کبھی بلاواسطہ کبھی بالواسطہ۔ خوردنوش کادسترخوان ہو یا پھر مائدہ ِخیال….دونوں آسمانی نزول کے مرہونِ منت ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ورکنگ ویمن کو درپیش چیلنجز

رزق کو آسمانی عطا مان لیا جائے تو رزق کے ساتھ ساتھ برکت بھی نازل ہونے لگتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تورزق بھی علم کی طرح ہے۔ تقسیم کرنے سے بڑھتا ہے۔ رزق ذخیرہ نہیں کیاجاسکتا۔ بہتے ہوئے پانی کی طرح لگاتار بہتا ہوا، تقسیم درتقسیم ہوتا ہوا رزق صاف شفاف اور پاک رہتا ہے۔ ٹھہرا اور ذخیرہ کیا ہوا سڑانڈ دینے لگتا ہے۔ زندگی صرف اصول، وصول اور حصول کا نام نہیں۔ زندگی اِحساس، اِحسان اور ایثارکا نام بھی ہے۔ زندگی کامفہوم انہی ابواب سے گزرنے کے بعد کھلتا ہے۔ ان ابواب سے گزرنے والا برکت کی زمین میں داخل ہوجاتا ہے۔

مشینی اندازِ فکر سے زندگی کی کوئی گرہ نہیں کھلتی۔ بابرکت زندگی حسابی کتابی فارمولوں سے باہر ہوتی ہیں۔ فارمولہ زندگی کو فیل کر رہا ہوتا ہے اور بابرکت زندگی نامساعد حالات سے گزرنے کے باوجود شانت، شاد کام اور عافیت میں رہتی ہے۔ اپنے رزق کو بابرکت بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے کسی برکت والی نسبت سے منسلک کر لیا جائے۔ نسبت سے چیزیں بابرکت ہو جاتی ہیں۔ تمسک تبرک ہوتا ہے۔ ہر شئے تغیر کی زد میں ہے۔ ذات تغیرات سے پاک ہے۔ ذات سے نسبت رکھنے والا بھی تغیرات سے پاک ہوجاتا ہے۔ زمان و مکاں سے آزاد ہونے کا اذن صرف نسبت کو حاصل ہے۔ زمان و مکان کی بہتی ہوئی شوریدہ سر لہروں میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں ٹھہراﺅ پیدا ہوجاتا ہے، وقت رک جاتا ہے اور شورتھم جاتا ہے۔ ایسے مقامات بابرکت ہوتے ہیں۔ بابرکت زندگی وہ ہے۔ جو خیر اور شر کے فرقان کے ساتھ بسر ہو۔ اوراہل خیر کی ہمراہی میں بسر ہو۔ بابرکت مقامات، افراد اور ایام کی قدر کرنی چاہیے، ان کے ساتھ تمسک زندگی کو بابرکت کر دیتا ہے۔ تمسک نسبت کا ظاہری اظہار ہے۔ نسبت بابرکت ہوتی ہے۔ نسبتوں سے تعلق کامطلب یہ ہے انسان عقل کی تنگ نائے سے نکال کر دل کے عمیق قلزم میں داخل ہوگیا ہے۔ نسبتوں سے بے نیاز آدمی بڑا سنگ دل ہوتا ہے۔

برکت کا مفہوم یہ ہے کہ کم وسائل زیادہ مسائل کے لیے کافی ہو رہیں۔ بابرکت زندگی وسائل کی محتاج نہیں ہوتی۔ بابرکت زندگی ہمیشہ فیض رساں ہوتی ہے۔ فیض رساں ہونے کے لیے طاقتور ہونا ضروری نہیں، ہر شخص اپنی استعداد اور دائرہِ کار میں مخلوقِ خدا کے لیے منفعت بخش ہوسکتا ہے۔ منفعت بخش ہونے کا عمل ایک مسکراہٹ سے شروع ہو سکتا ہے۔

وقت میں برکت یہ ہے کہ کم وقت میں زیادہ کام ہو جائے۔ وقت کی تقسیم اس طرح ہوجائے کہ اپنے ذمے کوئی کام ایک دوسرے سے ضرب نہ کھائے ، یعنی کوئی کام کسی دوسرے کام کی زد میں آ کر رہ نہ جائے۔ ہر کام کا بروقت ہوجانا وقت میں برکت کی علامت ہے۔ طے فی الارض کی طرح طے فی الوقت بھی ایک روحانی تصرف ہے۔ جب وقت میں برکت حاصل ہوجائے تو وقت کی ترجیحات طے ہوجاتی ہیں۔ ترجیح اوّل کے لیے ہمارے پاس ہمیشہ وقت ہوتا ہے۔ ترجیح دوم کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے۔ دین ترجیح اوّل ہو جائے تو دنیا از خود ترجیح دوم ہوجاتی ہے۔ انسان اپنی ترجیحات سے پہچانا جاتا ہے، اس کا رویہ اخلاق اور کردار اس کی ترجیحات کاحال بیان کر رہا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   اسلام میں اعداد کا حیرت انگیز استعمال-عظیم الرحمن عثمانی

وقت میں بے برکتی یہ ہے کہ صبح سے شام ہوتی جائے اور زندگی یونہی تمام ہوتی جائے۔ کولہو کے بیل کی طرح انسان صبح سے شام تک کام کرتا رہے اور اہم کام تشنہ تکمیل رہ جائیں۔ لغو اور لہو ولعب میں وقت صرف کیا جائے تو باقی ماندہ وقت سے بھی برکت اٹھ جاتی ہے۔ وقت میں اطاعت نافذ کی جائے تو وقت بابرکت ہوجاتا ہے۔ حدود و قیود میں رہنے والی زندگی بابرکت ہوتی ہے۔ معصیت میں گھری ہوئی زندگی ظاہری وسائل کی بھرمار ہونے کے باوجود عافیت اور برکت دونوں سے محروم ہوتی ہے۔ عافیت برکت کا دیباچہ ہے۔ عافیت کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کسی ناگہانی افتاد کی زد سے محفوظ رہے۔ اطاعت برکت کا ذریعہ ہے، معصیت برکت ختم کر دیتی ہے۔ بے برکت زندگی میں محض مقدار رہ جاتی ہے اور معیار رخصت ہو جائے۔ اشیاء پر انحصار کرنے والی زندگی بہت جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے کیونکہ اشیا کا مقدر تغیر اورہلاکت ہے۔

رزق میں برکت نازل ہو جائے تو پیسوں کی گنتی ختم ہوجاتی ہے، بے حساب رزق وہ ہوتا جس کا حساب نہ کرنا پڑے ، نہ دینا پڑے۔ بے حساب رزق کا تعلق مقدار سے ہر گز نہیں، بڑے بڑے بینکوں ، کمپنیوں ،کارخانوں میں پیسوں کا حساب کرنے کے لیے باقاعدہ ملازم رکھے جاتے ہیں۔ جو مقدار گنتی میں آجائے وہ بے حساب نہیں ہوسکتی۔

سود برکت سے محروم کردے گا، صدقہ سیراب کرے گا۔ اپنے مال اور خیال سے دوسروں کو آسانی مہیا کی جائے تو انہیں پھل لگتا ہے۔ پھل دار درختوں پر کانٹے نہیں ہوتے۔ جس طرح مال پر زکوٰة فرض ہوتی ہے ‘ اس طرح اہل ِاحساس کے لیے ان کے ہر اثاثے پر زکوٰة ہے۔ ہمارے تعلقات، وسائل اور وقت ہمارے اثاثہ جات ہیں۔ ابواب رزق ہیں۔ ان کی زکوٰة بھی چاہیے ۔اپنے رزق میں سے جو حصہ ہم نکالتے ہیں۔ وہ برکت کی صورت میں فوراً اس میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ برکت کے حصول کے لیے دعا کرنی چاہیے اور دعا کے ساتھ ساتھ کسی صاحب ِ دعا کی جستجو بھی کرنی چاہیے۔

ہمیں اپنے وقت اور وسائل میں برکت کی طرح اپنی فہم میں برکت کی دعا بھی کرنا چاہیے ۔ فہم میں برکت کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی ذات کی تشہیر کی بجائے تعمیر کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ گوشہ ِ عافیت میں خود کو سمیٹ لینا‘ شہرت کی ہوا میں منتشر ہوکر بکھر جانے سے کہیں بہتر ہے۔

Views All Time
Views All Time
239
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: