برمزارِ اقبالؒ

Print Friendly, PDF & Email

ہر پیر کے روز مجھے میمونہ بیٹی کو پنجاب میڈیکل کالج‘ فیصل آباد روانہ کرنے کیلئے علی الصبح چار بجے بیدار ہونا پڑتا ہے۔ کل بھی نور پیر کے ویلے ‘ بیٹی کوڈائیو بس ٹرمینل کلمہ چوک سے روانہ کیا اورفجر کی نماز کیلئے داتاؒ دربارمسجد کا رُخ کیا۔ موسم ِ سرما میں رات کے دروانیے کی طوالت یہ اضافی فائدہ دیتی ہے کہ وہاں سے نکل کریہاں باجماعت نماز میں شامل ہونے کی سعادت مل جاتی ہے۔ بعد اَز نماز ‘بغرضِ دُعا مرقدِ اطہر سے ملحق غلام گردش میں کھڑے حالت ِ دعا میں ایک خیال رگ و پَے میں گردش کرنے لگا کہ آج مزارِ اقبال ؒ پر حاضری ہے۔ سو‘ اِسی خیال کی تکمیل کیلئے گاڑی کارخ اُدھر موڑ لیا جدھر پاکستان کا خواب دیکھنے والی شخصیت محوِ خواب تھی۔ میں نے کہیں پڑھا ‘ اقبالؒ سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں کیلئے الگ وطن کا خیال آپ ؒ کو کب اور کیسے آیا۔ حضرت ِ اقبال ؒ کا بیان تھا کہ ایک روز فجر کے بعد حضرت علی ہجویریؒ کے مزار ِ اقدس پر حاضری کے دوران اُن پر یہ خیال وارد ہوا۔ اس بات پرمجھے حضرت واصف علی واصفؒ کی یہ بات یاد آئی کہ بزرگوں کے مزارات خیال بھیجنے کے ٹیلیگراف آفس ہیں۔

نئی بننے والی سڑکوں کے جال نے دیکھنے میں راستے آسان کردیئے ہیں مگر ایک رخ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ راستے لمبے ہو گئے ہیں اور منزل دُور!! صبح سویرے ٹریفک نے ابھی اژدھام کا رُوپ نہیں دھارا تھا مگر پہنچنے میں سویر کی بجائے دیر ہوتی چلی گئی۔ بادشاہی مسجد اور مزارِ اقبال ؒ کی طرف جانے کیلئے پارکنگ منٹو پارک سے ملحق بنائی گئی ہے، پارکنگ سے بادشاہی مسجد تک پہنچے میں اتنی واک ہوئی کہ مارننگ واک بھول گئی۔ چہل قدمی کے دوران یہ خیال ہم رکاب رہاکہ ہم من الحیث القوم صبح سویرے اُٹھنے کا راستہ بھول گئے ہیں‘ ہمارے راستے دشوار تر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ ایک مسلمان کے دن کا آغاز ‘دن چڑھنے سے پہلے ہو جانا چاہیے۔ اللہ اکبر سے دِن کاآغاز ہوجائے تو راستے میں سبحان اللہ اور آخر کار الحمدللہ کا منظرضرور آتا ہے۔ درختوں اور کھمبوں پر اَورَ اد و تہلیل کے الفاظ کندہ کرنے کی زحمت عبث ہے۔ شجرو حجر توزبان ِ حال سے تسبیح پڑھیں اور حضرت ِ انساں صرف لفظوں سے!! کسی اِسم کا وِرد وظیفہ کرنے میں اور ذکر کرنے میں فرق ہوتا ہے۔انسان سے ذکر مطلوب ہے ‘ وظیفہ نہیں۔ ذکر ایک شعوری عمل کا نام ہے۔ ذکر لفظ کے ساتھ سفر کرنے کے نام ہے  یہاں تک کہ اس کے معانی قلب پر وراد ہوجائیں۔ ذکر ۔۔۔۔ اسم سے مسمیٰ تک ۔۔۔۔ اور صفت سے ذات تک۔۔۔۔ عازم ِ سفر ہونے کا نام ہے۔ اگر مذکور کی طرف دھیان نہیں‘ تو ذکر گیان نہیں دے گا۔ وظیفہ کسی مقصد کے حصول تک پہنچنے کی ترکیب ہے ‘ اس میں کسی فائدے کی ترغیب بھی ہے۔ ذکر بے لوث عبادت ہے، حاصلِ عبادت ہے۔۔۔۔ بلکہ مدعائے عبادت ہے۔ قرآن کریم میں ہدایت کی گئی ۔۔۔۔ اَقم الصّلوٰة لِذِکرِی۔۔۔۔ (نماز قائم کرو‘ میرے ذکر کیلئے!!)

کنگ ایڈورڈ میڈیکل میں میرے ایک کلاس فیلو ‘سعودی عرب کے ڈاکٹر عبدالباسط تھے ، ان کے والد مرحوم ڈاکٹرمعراج الحسن بھی مکہ مکرمہ کے معروف فزیشن تھے۔ مرحوم ( مدفون جنت المعلّی ) ‘ کہا کرتے تھے کہ ہماری عبادت عادت بن گئی ہے‘ اس لئے بے تاثیر ہوئی جاتی ہے۔ باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول یاد آرہا ہے ‘ فرمایا گیا ‘ اس عبادت کا کوئی فائدہ نہیں‘ جو تمہاری معرفت میں اضافہ نہ کرے۔ کشف المحجوب میں حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ المعروف داتا گنج بخش آیت ِ قرآنی ” وما خلقت الجن والانس الّا لیعبدون “کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ ”لیعبدون“سے مراد ”لیعرفون“ ہے۔ یعنی مدعائے عبادت معرفت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   سامراجی اشرافیہ کا دودھاری تلوار بجٹ | حیدر جاوید سید

بہر کیف چہل قدمی کے داران میں یہ خیال بدستور ہم قدم رہا کہ ہمارے روزمرّہ معلومات ِ زندگی کا آغاز فجر کے فوراً بعد ہوجانا چاہیے ۔۔۔۔ یقین جانئے ہمارے وقت اور وسائل میں بے پناہ برکت نازل ہوگی۔ جو لوگ انفرادی طور پر اِس اصول کے پابند ہیں ‘ انہیں اس برکت کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ برکت کا آسان مفہوم یہ ہے کہ ہمارے وسائل مسائل کیلئے کافی ہو جائیں۔۔۔۔ وسائل اور مسائل کے درمیان وہ خلیج نہ پیدا ہو جو انسان غرقاب ِ مذلت و خفت کر دے۔ ۔صبح پانچ بجے سے گیارہ بجے تک تقریباً پانچ گھنٹوں پر مشتمل ایک فل ورکنگ ڈے ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور ہم غفلت کی چادر اوڑھ کر یہ سارا”دن “ سو کر گزار دیتے ہیں۔اس بات پرمیرے ہمدم ِ دیرینہ یوسف یوسفی اَزراہ ِ تفنن کہتے ہیں ‘ سر! فل ورکنگ ڈے نہیں‘ فل سلیپنگ نائٹ۔۔۔۔ ہم سونے والوں سے کوئی پوچھے!!

تاجر لوگ بتاتے ہیں کہ چین میں لوگ علی الصبح چھ بجے اپنی دکانیں اوربازار کھول لیتے ہیں۔ جب دنیا آدھا دن گذار چکی ہوتی ہے‘ تب ہم صرف سو کر اٹھتے ہیں۔ ظاہر ہے‘ ایسی صورت میں کاروبار کا شٹر ڈاؤن ہونے کا اِمکان زیادہ ”روشن “ ہوتا ہے۔ جب کاروبار کاآغاز ہی دوپہر گزرنے کے بعد ہوگا توایسے میں ایک ہی کاروبار زیادہ پھلے پھولے گا ۔۔۔۔ ”کاروباری بندش کا علاج ۔۔۔۔ایک تعویز میں“ ۔ عجب کاروبارِ گلشن ہے ٗ ہم اپنا کاروبار خود بند کرنے کے بعد اِس کی بندش کا علاج ڈھونڈنے چل پڑتے ہیں۔ دراصل دیر سے اُٹھنے سے انسان بیدار نہیں ہوتا بلکہ مادی قوتیں اور ضرورتیں اُسے گھر سے باہر دھکیل دیتی ہیں۔ جو روحانی صدائے دل نشیں پر بیدار نہ ہو‘ اسے مادی چیخ چنگھاڑ جگاتی ہے۔ روحانی صدا میں کیف ، سرور اور شعور ہے، مادّی گڑگڑاہٹ میں بے کلی ، انقباض اور شور ہے۔ خود سے اٹھنے اور اٹھائے جانے میں بڑا فرق ہے۔ دیرتلک سوئے رہنے سے ہمارے اندر متعدد قسم کی نفسیاتی اُلجھنیں بیدار ہوجاتی ہیں‘ جو ہمیں دن بھر اُلجھائے رکھتی ہیں۔ میڈیکل سائنس کہتی ہے ہمارے جسم میں کارٹیسول ہارمون علی الصبح اپنی انتہائی سطح پر ہوتا ہے، کارٹیسول وہ ہارمون ہے جو ہمارے بدن میں ذہنی اور جسمانی قوت کی تحریک مہیا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے‘ صبح سویرے اٹھنے والے دن بھر ہشاش بشاش رہتے ہیں۔۔۔۔اس کے برعکس دیر سے بیدار ہونے کا نتیجہ ایک بے سبب قسم کی جھلّاہٹ ، اکتاہٹ اور بے وجہ چڑچڑا پن ہوتا ہے۔ سائیکاٹرسٹ لوگ بھی ڈیپریشن کے مریضوں کو صبح کی سیر کا مشورہ دیتے ہیں۔ چڑھتے ہوئے سورج کو دیکھنا ڈیپریشن کا ایک علاج ہے، اس وقت سورج میں کچھ ایسی شعائیں موجود ہوتی ہیں‘ جو ہمارے دماغ میں سیروٹونین لیول بڑھا دیتی ہیں۔ دراصل ہم رنگ و نور کی دنیا میں رہتے ہیں۔ رنگ دیکھنے کیلئے آنکھ اور نور کیلئے بینائی کی ضروررت ہوتی ہے۔ یہ ہماری ترجیحات ہیں کہ ترجیح اول میں ہم رنگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں یا نور کی طرف !۔۔۔۔ چڑھتا سورج مشاہدے کیلئے ہوتا ہے ‘ پوچا کیلئے نہیں!!

یہ بھی پڑھئے:   عیدالفطراورہماری غذائیں

وقت پر بیدار نہ ہونے والے دراصل وقت کو برباد کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اور وقت برباد کرنے والوں کو پھر وقت برباد کرتا ہے۔ دراصل وقت بھی دولت کی طرح ہمارے وسائل کا ایک اہم حصہ ہے۔ وقت، وجود اور وسائل کا اسراف گناہ میں شامل ہے ۔ اپنا وقت برباد کرنے والی قوم کے پاس اِس کے سوا اور کیا آپشن باقی بچتا ہے کہ وہ دوسری قوموں کی دی ہوئی روایت اور ہدایت پر چلے۔ جب ہم کوئی روایت قائم نہیں کرپاتے تو ہمیں دوسروں کی روایتوں کا اسیر ہونا پڑتا ہے۔ ضد، ہٹ دھرمی اور تعصب یہ ہے کہ انسان نہ سیکھنے والوں میں شامل ہو اور نہ سکھانے والوں میں۔ دوسروں کو سبق پڑھانے سے پہلے سبق پڑھنا لازم ہے ۔۔۔۔ وگرنہ انسان دوسروں کیلئے ایک سبق بن جاتا ہے۔ جو سبق سیکھتا نہیں ‘ اسے سبق سکھایا جاتا ہے۔۔۔۔ مگر سکھانے والا استاد پھر زمانہ ہوتا ہے۔۔۔۔ اور زمانہ شفیق استاد نہیں۔ صداقت ، شجاعت اور عدالت کا سبق مکمل کیے بغیر دنیا کی امامت کیلئے نکل پڑنے کی مہم جوئی ایک کارِ عبث ہے۔۔۔۔یہ کارِ رسوائی بھی ہے اور جگ ہنسائی بھی!!

سحر خیزی سے شروع ہونے والی بات فکر انگیزی تک جا پہنچی ۔ اقبال ؒ کی سحر خیزی ضرب المثل تھی۔ وہ سحر خیزی کو مکمل آداب کے ساتھ بجا لانے کے قائل تھے۔
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب ِ سحر خیزی

اقبالؒ سحرخیزی کو سحر گاہی میں تبدیل کردیتے ہیں۔۔اور وہ بھی مکمل آداب کے ساتھ!! آہ ِ سحر گاہی کے ساتھ ساتھ اقبالؒ کا سحری کے وقت قرآن ِ کریم کی با آوازِ بلند تلاوت بھی معروف روایت ہے۔ جب اقبال ؒ صاحب ِ فراش تھے تو حکیم صاحب کے خیریت دریافت کرنے پر اِس بندہِ خدا نے بس یہی "شکوہ” کیا کہ آواز بیٹھ گئی ہے ‘ اب تہجد کے وقت قرآن ِ پاک کی تلاوت نہیں ہوپاتی۔ دراصل آداب ِ سحر گاہی میں آہ ِ سحر گاہی شامل ہے۔ اسی طرح شب بیداری میں صبح خیزی شامل ہے۔ وہ شب بیداری جس میں صبح خیزی شاملِ حال نہ ہو‘ وہ روحانی نہیں بلکہ مادّی اور دنیاوی شعبہ ہے۔۔۔۔ آخرفیس بک ، انٹرنیٹ ، فلموں اور نوکریوں کی مصروفیت بھی توبعض لوگوں کو رات بھر جگائے رکھتی ہے۔

Views All Time
Views All Time
231
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: