Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آہستہ بولو

آہستہ بولو
Print Friendly, PDF & Email

با ادب سے بے ادب ہونے میں پہلا فرق آواز کا بلند ہونا ہے۔ بے ادب وہ نہیں ٗ جو ادب کرنا جانتا نہ ہو‘ بے ادب وہ ہوتا ہے جو ادب کرنا ترک کر دے۔ ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ گفتار میں آواز کا مدھم رکھنا آدابِ محفل بھی ہے اور آدابِ زیست بھی! بلند آواز سماعت ہی پر نہیں‘ دل پر بھی گراں گذرتی ہے اور یہیں سے ادب سے محروم ہونے والا نصیب سے بھی محروم ہونے لگتا ہے۔ بانصیب ہونا دراصل خوش نصیب ہونا ہے ۔ بد نصیب تو وہ ہوتا ہے جس کے نصیب پھوٹ جائیں۔ خوش نصیبی کسی خوش نصیب کی معیت حاصل ہونے کا نام ہے۔ جو معیت میں ہوتا ہے‘ اسے بھلا اپنی آواز بلند کرنے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے!! بڑی بھاری دلیل بھی آواز کے بلند ہونے پر اپنا وزن کھو دیتی ہے۔ اگر آپ جانتے ہیں تو یہ بتانا ضروری نہیں کہ آپ جانتے ہیں۔ جواب ہمیشہ سوال کی دریافت ہوتا ہے۔ مسافرتیز رفتار بھی ہو‘ تو گفتار میں مدھم آواز ہوتا ہے کیونکہ اسے راستہ لینا ہے۔ سفر اِذن سے شروع ہوتا ہے حکم سے طے ہوتا ہےاور اَمر پر تمام ہوتا ہے۔ حکم لینے کیلئے زبان سے زیادہ کان کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آنکھیں بھی کھل سکیں!!

انسان کے علاوہ شاید ہی کوئی اور مخلوق ہو‘ جو سرگوشی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو جی ہاں! جانور اپنی آواز کو دھیما رکھنے کا اختیار نہیں رکھتے اس لئے جتنے بھی بلند قامت ہوں ‘ پست شمار ہوتے ہیں!! انسان اس لئے بھی انسان ہے کہ وہ خود پر اختیار رکھتا ہے۔ محبت کے علاوہ انسان اگر کہیں اور بے اختیار ہو جائے تو شرفِ انسانیت سے معزول کر دیا جاتا ہے۔ جسے محبت بے اختیار نہیں کرتی ‘ اسے جبلت بے اختیار کردیتی ہے  اور جبلتوں کے جنگل میں رہنے والے جانورہوتے ہیں  ان کی چھاگل میں پانی نہیں ہوتا دوسروں کیلئے!! گدھوں کا ہینکنا، گھوڑوں کا ہنہنانا، سانپوں کا پھنکارنا، بندروں کا خوخیانا، ہاتھیوں کا چنگھاڑنا، اور شیروں کا دھاڑنا بالعموم ایک ہی والیوم پر ہوتے ہیں۔ یہ حضرتِ انسان ہے جو اپنی آواز کا قد قدرے کم کر سکتا ہے اِس کی قدر اِسی میں ہے!!

آہستہ ہونا شائستہ ہونا ہے۔ گفتار اور رفتار میں آہستہ روی ایک باوقار شخصیت کی نشانی ہوتی ہے۔ کردار اور اعتماد دونوں سے محروم‘ میانہ روی سے بھی محروم ہوتا ہے۔ تیز بولنا ‘اتنا نقصان نہیں کرتا جتنا اونچی آواز میں بولنا۔ تیز بولنا صرف رابطوں کو کمزورکرتا ہے لیکن اونچی آواز میں کلام کرنے والا خود کو ناپسندیدہِ جہاں بھی بنا لیتا ہے۔ دھیما مزاج رکھنے والا حادثے کا شکار نہیں ہوتا۔ حادثہ صرف وہی نہیں ‘جو سڑک پر ہوتا ہے حادثہ تعلقات کی دنیا میں بھی رونما ہوتا ہے اور اسے سانحہ کہتے ہیں!

اونچی آواز باالعموم کسی ردّ ِعمل کا مظاہرہ ہے  اور ردِّ عمل ایک ردّی عمل ہوتا ہے۔ کسی عمل میں مصروف انسان کے پاس ردِّ ِعمل میں بولنے کا نہ مزاج ہوتا ہے‘ نہ فرصت ! بامعنی عمل وہ ہوتا ہے جو کسی ردّ عمل میں نہ ہو!! ردِّ عمل میں مبتلا شخص دراصل ابتلا میں ہے اس کی مصروفیت کا کوئی مصرف نہیں ہوتا!

یہ بھی پڑھئے:   جو مشال کے ساتھ ہوا تو آپ کیا کریں گے؟-محمد حنیف

غصہ ایک بارُود ہےاونچی آواز اسے آگ لگا دیتی ہے۔ گلا پھاڑتی ہوئی آواز کانوں  کو بھی  پھاڑتی ہے۔ غصہ ایک زہر ہے اوراس کا تریاق خاموشی ہے!! دنیا میں کون ہے‘ جسے غصہ نہیں آتا مگر پکڑمیں وہی آتا ہے جو اونچی آواز میں اس کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ تہذیب کی عمارت کو تعمیر کرنے میں صدیوں اور نسلوں کی محنت درکار ہوتی ہے، غصے کا ایک ڈائنامایٹ اسے پل بھر میں زمیں بوس کر دیتا ہے۔ غصے کا اظہار بغیرآوازکے بھی ہو جاتا ہے یہ ایسا پتھر ہے جوگدلے جذبات کی لہروں پر سفر کرتا ہے، مزاج کے دائروں کو درہم برہم کرتا ہے اور کسی کثیف کیفیت کی دلدل میں دھنس کرغائب ہو جاتا ہے۔ غصہ چہرے سے بھی عیاں ہو جاتا ہے۔ ہم پڑھ لکھ کر لکھنا پڑھنا بھول گئےدوسروں کے چہروں پر لکھا ہوا کچھ بھی نہیں پڑھ پاتے نہ سوالات‘ نہ لکیریں!! انسانوں کی بستی میں جاہل تو وہی ہے جو جذبات کی زبان نہیں جانتا!! جو چہرے پڑھنا جانتا ہے‘ اسے اپنی آواز کو بلند نہیں کرنا پڑتا۔ عورت کی آواز اور مرد کا ہاتھ بلند نہ ہو‘ تو گھروں میں سکون کا راج ہے!! گھر میں سکون کا راج ہونے کیلئے کسی کا راج کماری ہونا ضروری نہیں۔ دست درازی کا تعلق زبان درازی سے ہوتا ہے۔ گھروں میں دھیمی آواز میں بولنے کا چلن عام ہو جائے تو ماحول خوشگوار ہو جائے۔ طبی اعتبار سے بھی سردرد کی ایک بنیادی وجہ اونچی آواز میں بولنا اور سننا ہے!! اونچا سننااونچا بولنے سے بہتر ہے۔ بعض آوازیں سماعت خراش بھی ہوتی ہیںاور دِل خراش بھی!! دل کی آواز کبھی دلخراش نہیں ہوتی!!

مدھم آواز مدھر ہوتی ہے موسیقی کے زیادہ قریب ہوتی ہےاونچی آواز شور کی ہم آواز ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ شور کی بجائے شعور کے قریب رہنا پسند کرتا ہے۔ شعور مترنم ہوتا ہے  شور بے ہنگم ہوتا ہے۔ اونچے سُر بھی اونچے نہیں ہوتے۔ مدھم اور مدھر آوازوں کو چھوڑ کر کرخت اور اونچی آوازوں کا راستہ اختیار کرنا انسانی فطرت کا ایک سفرِ معکوس ہےسفرِ معکوس غیر فطری راستوں پر ہوتا ہے!!

گفتگو میں آواز مدھم ہوتی ہے، جھگڑے میں آواز بلند ہوجاتی ہے۔ کسی جگہ دو اشخاص اونچی آواز میں بول رہے ہوں تو سننے والے کو شبہ پڑتا ہے کہ شاید وہ جھگڑ رہے ہیں۔ محبت آواز سے کھرج چھین لیتی ہے۔ محبت کرنے والوں کی آوازیں لوچ اور دھیمے پن سے پہچانی جاتی ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ محبت کے بغیر انسان کو یہی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کس سے سننا چاہتا ہے اور کسے سنانا چاہتا ہے وہ فرد کی بجائے مجمعے کو سنانا شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے لاؤڈ اسپیکر پر بولنا پڑتا ہے۔ دُور کی آواز کو دُور تک پہنچانے کیلئے لاؤڈ اسپیکر نہیں‘ اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل کبھی بھی دُور نہیں ہوتے۔ بس! ہم دلوں کی بجائے سماعتوں سے ٹکراتے رہتے ہیں‘ اس لیے ہاتھ میں لٹھ اور لاؤڈ اسپیکر کی ضروت محسوس کرتے ہیں۔ سماعتوں میں رس گھولنے والے کلمات دھیمے اور مدھر لہجے میں سنائے جاتے ہیں!! لاؤڈ اسپیکر کے بغیر بھی لاؤڈ  نہیں ہونا چاہیے! اونچی آواز بالعموم کرخت آواز ہوتی ہے۔ طعن و تشنیع اور طنز زیرِ لب بھی ہو‘ تو آواز کے اونچا ہونے سے تعبیر ہوگی!! اپنی آواز کو بلند کرنے کیلئے بلند آواز ہونا ضروری نہیں!!

یہ بھی پڑھئے:   اسلام آباد پر چڑھائی اور لانگ مارچ کی تڑی - انور عباس انور

اونچی آواز میں بولنا یقیناً کوئی معاشرتی جرم ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم میں آوازوں کو قاعدہ سکھانے کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا ہے۔ آواز اونچی ہو جائے تو قاعدے سے باہر ہو جاتی ہے۔ سورة لقمان میں فرمایا گیا کہ سب سے بُری آواز گدھے کی ہے، سورة مائدہ میں بتایا گیا کہ اللہ اونچی آواز کو پسند نہیں کرتا  اور جو بات اللہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا‘ اپنے حبیب ﷺ کیلئے بھی پسند نہیں فرماتا۔ سورة الحجرات میں اللہ نے اپنے حبیبﷺ کے سامنے بلند آواز میں بات کرنے کی تعظیماً ہی نہیں حکماً بھی ممانعت کر دی یہاں تک تنبیہ کر دی کہ ان ﷺ کے حضور بلند آواز نہ ہوجاؤاللہ کے نبیﷺ کو ایسے نہ پکارو ‘ جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہوکہیں ایسا نہ ہو‘ کہ تمہارے سب اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعورتک نہ ہوگویا شعورکا سلب ہونا جس جرم کی سزا ہے ‘ وہ اللہ کے حبیبﷺ کے حضور اپنی آواز کو بلند کرنا ہے۔ اللہ کے رسولﷺکے لائے ہوئے دین میں آئے دن اپنی من پسند تشریح و توضیع شامل کرنا الہامی کلام میں ذہنی تصرف کرنا بھی اللہ کے رسول ﷺ کے ادب کے باب میں تقدم تصور ہوگابعد میں آنے والوں کیلئے اونچی آواز میں بولنے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے۔ اسی سورة میں اللہ کریم نے دلوں کا تقویٰ اپنے حبیبﷺ کے حضورادب سے منسلک کر دیا۔ یہاں تقوٰی کا ایک مفہوم تکریمِ نبیﷺ ہے !! قلوب کا امتحان جس بارگاہِ ادب میں ہوتا ہے‘ وہ بارگاہِ نبویﷺ ہے!!

ادب گاہِیست زیرِ آسمان از عرش نازک تر

نفَس گم کردہ می آید جنید وبایزید اینج

(آسمان کے نیچے یہ ایسی ادب گاہ ہے جو عرش سے بھی زیادہ حساس ہے، یہاں تو جنیدؒ اور بایزید بھی ( ادب میں ) اپنا سانس گم کر لیتے ہیں۔ )

 حضرت جنید بغدادی ؒ راہِ سلوک کے سرخیل ہیں اور حضرت بایزید بسطامیؒ وادیِ جذب کے شہسوار ہیں۔ بارگاہِ نبویؐ میں جذب و سلوک دونوں ادب سے سرنگوں ہیں۔ گویا یہاں جذب بھی سانس روکے ہوئے ہے اور سلوک بھی اپنے پاس و انفاس سمیٹ کر خاموش ‘ باادب کھڑا ہے۔ صاحب ِ حال مرشدی واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں:

آپﷺ کی ذاتِ گرامی ہر بلندی سے بلند

پست ہر آواز کا قد آپﷺ کی آواز سے

Views All Time
Views All Time
132
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: