حرفِ دُعا

Print Friendly, PDF & Email

دُعا ایک خاموش عبادت ہے۔ دُعا عبادت کی کمی کا مداوا بھی ہے اور نوافل کا متبادل بھی!! دُعا اپنی تمناؤں کو خدائی ضابطے میں لانے کا اہتمام بھی ہے اور خود کو ضبط ِ تسلیم میں لانے کا انتظام بھی!! یوں تو خواہشات انسان کو بے لگام کرتی ہیں لیکن اپنی خواہشات کے مضمون کو حرفِ دُعا کے ساتھ منضبط کرنے والا کبھی سرکش نہیں ہوتا۔ دُعا پائے قبولیت تک پہنچے یا نہ پہنچ پائے …. پائے ساقی تک پہنچا سکتی ہے. جب کتابِ زیست پر کوئی عبارت غلط ہو جائے تو حرفِ دُعا سے اِسے مٹایا جاتا ہے۔ اسی طرح اپنی کتابِ زندگی کی نامکمل عبارت کو دُعا کی مدد سے مکمل کیا جاتا ہے۔

گویا‘ دُعا ایک حرف ِ اَمربن کرہماری زندگی میں بہت کچھ درج بھی کرتی ہے اور بہت کچھ محو بھی!! ہماری دُعا ہمارے لیے اِتنی سازگار نہیں ہوتی‘جتنی کسی اور کی دُعا ہمارے لیے کارسازہوتی ہے۔ دراصل دُعا کرنے سے زیادہ دُعا لینے کی تدبیر کرنی چاہیے۔ دُعا دل سے نکلتی ہے‘ اور بے ساختہ نکلتی ہے….اور یہ دل اگر کسی اور کا ہو‘ تو کیا ہی خوب ہو….پس! ہمیں وہ ٹوٹنے اور روٹھنے والے دلوں کو تلاش کرتے رہنا چاہیے‘ جنہیں ہم مسرور کرتے رہیں اور وہ بے ساختہ ہمارے لیے دُعا کا سامان کرتے رہیں۔
؎ تُونے ہرایک دِل کیا زخمی
میں نے ہرایک سے دُعا لی ہے (واصفؔ)

دُعا کا مدعا مقبولیت نہیں‘ قبولیت ہے۔ دُعا خالق اور مخلوق کے درمیان ہم کلامی کی ایک صورت ہے۔ دُعا کبھی واسطہ اور وسیلہ ایجاد کرتی ہے اور کبھی سب وسیلوں کے جھمیلوں سے آزاد کرتی ہے…. کہ دُعا خالق اور مخلوق کے درمیان براہِ راست تعلق کی علامت بھی ہے۔ ہر پکارنے والا اُسے ہی پکارتا ہے، وہی سب کی سنتا ہے۔ دُعا کے باب میں عاصی اور متقی کی کوئی قید نہیں….اور بابِ قبولیت میں کسی مخصوص درجہِ تخصیص پر فائز ہونے کا دعویٰ کسی کو زیبا نہیں۔دُعا ایک درخواست ہے ….اِس ”در“ اور ”خواست“ میں عجب راز ہیں…. جس دَر کے سبھی سائل ہیں….اور سائل ہونے، قائل ہونے اور مائل ہونے کے درمیان بڑے جاں گزیں مراحل ہیں…. وہ دَرِ اِجابت چاہے تو سائل کو قریب کر لے، چاہے تو طالب کو دائرہِ قرب سے باہر رکھے …. وہ چاہے تو کسی رندِ خرابات کی صدا کو پل بھر میں شرفِ اِجابت بخشے، چاہے تو عمر بھر کی زہد و ریاضت کی ندا نظر انداز کر دے.

یہ بھی پڑھئے:   چوہے تیں تھیں اُتے

دُعا یقین کی علامت ہے۔ دُعا ایک رابطہ بھی ہے اور ربط بھی! دُعا کا اصل مدّعا تعلق ہے‘ حصول ِمقصد نہیں! اِلحاح و زاری‘ دُعا کی زینت ہے۔ دعا کو عبادت کا مغز کہا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عبادت قربِ حق کا ذریعہ ہے اور دُعا کے لمحات میں قرب‘ خواہ لمحاتی ہی کیوں نہ ہو‘ فوری حاصل ہوتا ہے۔ دُعا کی طرف متوجہ ہوتے ہی انسان یک گونہ ‘ قرب میں پہنچ جاتا ہے۔ہماری بہت سی دعائیں اصلاح طلب ہوتی ہے۔ دُعا سے دنیا طلب کرنا‘ دُعا کے دوران میں حاصل و موجود لمحاتِ قرب کو ضائع کرنا ہے۔ وہ چیزیں جو غیر مسلم صرف محنت سے حاصل کیے جا رہے ہیں‘ اُن کے حصول کیلئے دُعاؤں کا دَر کھٹکھٹاتے رہنا غور طلب ہے۔دُعا انسان کو اپنے رب کے رُو برو کرتی ہے…. دُعا پر یقین نہ رکھنے والا جلد یا بدیر ‘ دُوبدو ہو جاتا ہے۔ دُعا میں گم ہونا‘ مراقبے سے کم نہیں۔ دُعا کے الفاظ بقدرِ معرفت ہیں۔ سائل کی صدا اور ہے، طالب کی دُعا اور!! طالب بجز محبوب کے کچھ طلب کرے…. تو محجوب ٹھہرے!!مححوب ہونے میں اور معتوب ہونے میں چنداں فرق نہیں۔ضرورت کو دُعا بنانے سے کہیں بہتر ہے کہ دُعا کو ضرورت بنا لیا جائے/

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں کہ صاحب ِ دُعا صاحب ِ محبت ہوتا ہے۔ہمارے لیے آپؒ کا یہ فقرہ ایک روحانی تجربہ بھی تھا، کیونکہ ہم آپؒ کی دُعا اور محبت دونوں سے بقدرِ ظرف سیراب ہوتے رہے۔ اپنے حاضرین ِ محفل کیلئے دُعا بھی کی اور اُن کی دُعاؤں کی اصلاح بھی کی۔ آپؒ کے دیگر احسانات کی طرح ایک احسانِ عظیم یہ بھی ہے کہ آپؒ نے ہماری دُعاؤں کو خواہشوں کی تنگ ناؤں سے نکال دیا، اور انہیں دینی و آفاقی رنگ دے دیا…. دین ودنیا کی سلامتی کے باب میں دین کی سلامتی ترجیحِ اوّل قرار پائی….آپؒ نے ہمیں خواہش کی پازیب اُتار کر تمنا کا کنگن پہننے کا سلیقہ سکھایا۔ پازیب وجود کی زینت ہے ، کنگن کسی بندھن کی علامت ہے۔ خواہش ….دنیا اوراشیائے فانی سے متعلق ہوتی ہے۔تمناکا تعلق….احساس، خیال،دین ، عاقبت اور باقی رہ جانے والی باتوںسے ہے۔ آپؒ نے ہمیں اپنے رب کے فیصلوں پر راضی رہنے کے شعور سے روشناس کیا۔ رضا بہ قضا ہونے سے جہاں بابِ معرفت وا ہوتا ہے‘ وہاں دُعا کا رخ بھی بدل جاتا ہے۔ دعاؤں کا رخ بدل جائے ‘ تو ہواؤں کا رخ بدل جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   اقتصادی راہداری منصوبہ.... بھارت اور ایران

بے نیاز کے راستے پر چلنے والا دُعا سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ ہاں ! مسافر اور مقیم کی دعاؤں میں فرق ہوتا ہے۔ مقیم حاصل کی دعا میں مشغول ہوتا ہے اور مسافر ایسی دعا کے حاصل کو لاحاصل سمجھتا ہے۔ مال اور جان بچانے والا بچ کر نکل جانے کی دعا کرتا ہے، اور ایثار کرنے والا قربانی کے قبول ہونے کی دعا میں مصروف ہوتا ہے۔ الغرض‘ ہر مانگنے والے کی دعاؤں کے الفاظ اس کے مقصدِ زندگی اور درجہِ شعور کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہ واصفی فیض ہے کہ سالک کا دائرہِ شعور ایسی وسعتوں سے ہمکنار ہونے لگتا ہے کہ بے کنار ہونے کے قریب ہو جاتا ہے …. بے کنار ہونا‘ جذب کے جام کا کناروں تک پہنچنا ہے …. لیکن چھلکنے سے پہلے ہی ہماری دُعاؤں کے الفاظ و مفاہیم کو جامہِ قرب مل چکا ہوتا ہے!!جس نے ہمیں دعاؤں کا شعور دیا، ہماری دعاؤ ں کا رخ سوئے مدینہ و نجف کیا‘ اسے ہاتھ اٹھا کر ہم کیا پیش کر سکتے ہیں!! سو ‘ یہ ”حرف ِ دعا“ دراصل ایک حرف ِ سپاس ہے.

Views All Time
Views All Time
188
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: