عقل دلیل اور عقیدہ

Print Friendly, PDF & Email

اٹھارویں صدی عیسوی میں ایک فرانسیسی مفکر تھامس پین نے یہ کلیشے گھڑ دیا تھا کہ مردہ لوگوں کو زندہ لوگوں پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ کلیشے اتنا مشہور ہوا کہ امریکی صدر تھامس جیفرسن نے اپنی صدارتی تقریر میں اس کا یہی جملہ دہرایا۔ تھامس پین فرانس سے جلاوطن ہوا اور باقی عمر امریکہ میں روشن خیالی کی تحریک آگے بڑھاتا رہا۔ یہ وہی روشن خیال مفکر ہے جس کا مقولہ ہے کہ عقل اور دلیل کو عقیدے پر فوقیت حاصل ہے۔ تھامس پین کے یہی دو جملے آج کی تمام تر روشن خیالی کی بائبل ہیں۔ روشن خیالی کی تحریک کوئی نئی دریافت نہیں، یہ بہت پرانی کہانی ہے۔ انبیا و رسل کو جھٹلانے والے اسی طرزِ فکر کے اسیر تھے کفار اس زمانے میں بھی یہی کہا کرتے تھے کہ انبیا کی تعلیمات اساطیر الاولین ہیں، گئے گزرے لوگوں کی کہانیاں ہیں.آج کے روشن خیال دور میں ہم ان کہانیوں پر کیوں کان دھریں۔ سو! روشن خیالی کامعیار جو کل تھا وہی آج ہے. یعنی خدا، رسول اور آخرت کا انکار ، پیغام ِ رسل کے سامنے اپنی عقل کو فوقیت دینا، الہامی کلام کو پہلے وقتوں کی کہانیاں سمجھنا، دین کی تعلیم کو اندیشہ ِ نقصِ امن قرار دینا۔ پیغام ِ رسالتﷺ پرسردارانِ کفارِ مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر یہ تعلیم عام ہو گئی تو معاشرے کا توازن equilibrium بگڑ جائے گا، غلام اور آقا ایک دسترخوان پر بیٹھ جائیں گے۔

اس روشن خیالی میں نہ روشنی ہے نہ خیال روشنی تو خیال کی ہوتی ہے.اور خیال میں روشنی جس شمع سے میسر ہوتی وہ شمع ماضی میں فروزاں ہوتی ہے۔خیال اور روشنی میسر ہو تو کوئی ماضی دفن نہیں ہوتا، کوئی مستقبل تاریک نہیں ہوتا۔ تاریکی صرف مایوسی میں” نظر” آتی ہے۔ امید ہمیشہ روشن ہوتی ہے۔ اور مستقبل کو روشن تر کرنے کیلئے جگائی جاتی ہے۔ دراصل مایوسی اسباب کی دنیا میں حسابی کلئے فیل ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ آسمانی کلام اور الہامی پیغام میں ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو مایوس ہوکر خود کشی نہیں کرنے دیتا۔ الہامی کلام انسان کے خیال کو اس قدر وسعت سے ہمکنار کر دیتا ہے کہ یہ دنیا اسے منزل نہیں ‘ گزرگاہ دکھائی دیتی ہے۔ زندگی منزل نہیں ‘راستہ ہے۔ یہ خوبصورت خیال اسی ایمان کا حصہ ہے جس کی بنیاد وہ ہستیﷺ ہے جس پر وحی نازل کی جاتی ہے۔ جس کا پیغام اتنا زندہ ہو کہ مرد ہ کو زندہ کردے ‘ وہ خود کیا زندہ نہ ہوگا؟

افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے نزدیک زندگی کی تعریف ہی کچھ ایسی ہے کہ تعریف کئے جانے کے قابل نہیں۔ ہم ابھی تک چھٹی جماعت کی سائنس میں درج زندگی کی تعریف میں زندہ ہیں کہ ہر وہ چیز زندہ ہے ‘ جو کھائے ، پیے، حرکت کرے اور سانس لے ۔ زندگی اگر صرف جسم کی حرکت و حس کا نام ہے تو ایسی زندگی تو نہایت مختصر اور ناقابلِ اعتبارہے۔ جسے ہم قریب سے متحرک محسوس کرتے ہیں ‘ قدرے فاصلے سے دیکھیں تو بے حرکت و بے حس نظرآئے گا۔ گویائی سے واسطہ (میڈیم) چھین لیا جائے تو سکوت ہے۔ گویا زندگی کی تعریف وہی ہے جو تعریف کرنے والے نے کی ہے۔ زندگی کے معانی باہر سے متعین نہیں ہوتے ‘ بلکہ زندگی اپنے معانی اپنے ہی اندر دریافت کرتی ہے اور باہر پیدا کرتی ہے۔ باطن مقدم ہے ظاہر موخر لفظ سے معانی چھین لئے جائیں تو لفظ مردہ ہیں. معانی کی روح پھونک دی جائے تو لفظ حکومت کرنے لگتے ہیں انسانی شعور پر، انسانی افکار و کردار پر مردنی الفاظ میں نہیں‘ الفاظ بولنے والے کے فکر وشعور میں ہوتی ہے۔ زندگی ‘ زندگی ہی سے جنم لیتی ہے ۔ جب لفظ زندہ ہیں تو لفظ میں معانی کی روح پھونکنے والا کس طرح مردہ قرار پایا؟

یہ بھی پڑھئے:   اقبال اور عشق رسولﷺ | کامران غنی صباؔ (انڈیا) - قلم کار

آج کی روشن خیالی مردنی پیدا کر رہی ہے۔ یہ روشن خیالی زندہ رہنے کا عزم نہیں دیتی ‘ بلکہ خیام ِ زندگی کی طنابیں کاٹ رہی ہے۔ اجناس اور جنس ، دولت اور شہرت ، طاقت اور حکومت کی انہی بیساکھیوں کے جوڑے پر چلنے والی روشن خیالی صرف اور صرف مادّہ پرستی ہے۔ اس کا واحد منشور انسانیت کے نام پر دین سے بغاوت کرنا ہے۔ دین کی تعلیمات کو فرسودہ قرار دینا اس کی ترجیح ِ اوّل ہے۔ ہم لوگ آنکھیں بند کرکے اپنی قوم کا موازنہ مغرب سے کرتے ہیں، وہاں پاپائیت اور بادشاہت کے ملاپ سے جس عفریت نے جنم لیا تھا‘ وہ انسان کی آزادی فکر کو نگل چکا تھا۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں پاپائیت کا تصور نہیں۔ کوئی عالمِ دین یہاں اکیلا اور تن ِ تنہا دین کی ترجمانی کا دعویٰ نہیں کرسکتا.

اگر کوئی ایسا دعویٰ کرتا ہے تو عوام الناس کیلئے قابلِ قبول نہیں ٹھہرتا۔ اگر کوئی علامہ ، مولانا یا صوفی یہاں حکمرانوں کی گود میں بیٹھتا ہے تو اپنا قد چھوٹا کر لیتا ہے اورعوام کیلئے یک قلم ناقابلِ اعتبار ٹھہرتا ہے۔ تاریخ میں باٹا ریٹ کے مطابق تجزیہ نہیں چلتا۔ ہر معاشرے، خطے اور ثقافت کے اپنے ڈائینیمکس dynamics ہوتے ہیں، ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہر قوم کیلئے ایک ہی نسخہ تجویزنہیں کیا جاسکتا ہے۔ جس طرح ہر فرد کا ایک الگ مزاج اور جدا طبیعت ہے‘ اس طرح ہر قوم کی ایک الگ کیمسٹری ہوتی ہے۔ اس کا اداراک کئے بغیر سب کو ایک جیسا ہیٹ ، ہیلمٹ اور ٹائی باندھ دی جائے تو معاشرے کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ ترکی سے ڈالفن فورس کا تصور اس کی وردی سمیت درآمد کر لیا گیا ، ترکی کا ماحول سرد ہے، ان کی گرمیاں ہمارے فروری مارچ کے برابر ہیں، نتیجہ یہ نکلا کہ امپورٹڈ وردی پہنے ہوئے جوان یہاں گرمیوں میں بے ہوش ہونا شروع ہوگئے۔ یہی حال جمہوریت کا ہے۔

لیکن حال یہ ہے کہ جمہوریت کا تجزیہ کرنے لگیں تو آپ پر آمریت پسندی اور قدامت پسندی دونوں لیبل ایک ساتھ لگ جاتے ہیں اور آپ میڈیا کیلئے ایک شودر قرار دے دیے جاتے ہیں۔ مغرب میں جمہوریت بادشاہت کے مقابلے میں دریافت ہوئی تھی، یہاں جمہوریت کے پردے میں بادشاہتیں نافذ ہیں۔ یہاں کا انقلاب جمہوریت سے بغاوت ہوگی۔ اقبالؒ اس لیے خارج از بحث قرار پایا کہ جمہوریت کے خلاف بولتا ہے، بندوں کو گننے کی بجائے تولتا ہے، جغرافیائی سرحدوں سے بالا ہو کر وحدت ِ امت کا خواب دیکھتا ہے یوں تو ہرجا‘ وطن پرستی بجا لیکن وطن کا نام اگر پاکستان ہے تو یہ بنیاد پرستی ہے…. کیونکہ اس وطن کی بنیاد رنگ نسل اور زبان نہیں ‘ بلکہ کلمہ ہے.

اگر مرنے والا مرگیا ‘ اس کے افکار اس قابل نہیں کہ زندہ لوگوں کو تعلیم کئے جاسکیں تو آئین سٹائین کو آئیں بائیں شائیں کریں، ردر فورڈ کو ردّ ی کی ٹوکری میں ڈال دیں، نیل بوہر کے جوہر کو پھوہڑ قرار دیں اور صرف کسی زندہ سائنسدان کی تھیوری کو قابلِ عمل تصور کریں نہیں! سائینس، حساب اور فلسفہ اور تو ماضی سے لیا جا سکتا ہے لیکن دین ، اخلاق اور کردار نہیں. کیونکہ اس کیلئے ایک کڑوی گولی نگلنا ہوتی ہے اس میں ہمیں کسی انسان کوماننا پڑتا ہے. انسان کے سامنے اپنی انا کو سجدہ ریز کرنا پڑتا ہے۔ کسی سائینسدان کوماننے سے ہماری انا کا کچھ نہیں بگڑتا. کیونکہ سائنسی کلیہ ماننا دراصل اپنی ہی عقل و فہم کوماننے کے برابر ہے۔ سائینس جاننے کی چیز ہے …. دین ماننے کی جا ہے۔ جاننے کا عمل ذہن کی ربوبیت ہے، ماننا دل کی پرورش کا سامان ہے۔ انسان کو عقل کی آبیاری کے لئے سائنس سے رجوع کرنا چاہیے اور دل کی ٹھنڈک کیلئے دین کی طرف دین غیبی حقائق کا اعلان کرتا ہے، اور ان غیبی حقائق کی روشنی میں زندگی کی روش طے کرنے کا حکم دیتا ہے. ان آسمانی احکامات کا ذریعہ وحی ہے اور اس کیلئے الانسانﷺ کو ماننا ہوتا ہے کہ وحی ماننے کی چیز ہے ، جاننے کا کسی کو یارا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   بجلی چوری سے اجتناب-اقراء ضیاء

عجیب رویہ ہے کہ دین کے معاملے میں بھی انسان کو ماننا عظمتِ انسانی کے منافی سمجھ لیا گیا۔ سوال یہ اٹھایا گیا کہ انسان انسان کے سامنے کیوں جھکے. یہ انسان کی عظمت کے خلاف ہے۔ یہ عظمت ِ انسانی نہیں ‘ بلکہ خبطِ عظمت ہے۔ وگرنہ حقیقی عظمت توبلند تر عظمت کو پہچانتی ہے، ہر دانائی اپنے سے بڑی دانائی کے سامنے جھکنا جانتی ہے اور یہ دانائی کا تسلسل بھی ہے اور عظمت ِ انسانی کا اقرار بھی کلمہ اگر کلمے والے سے متصل رہے تو ماضی ، حال اور مستقبل ہر جا ایک سا معنی دے گا. اگر جدا کریں تو معانی انسانی عقل و فہم کے محتاج ہو جائیں گے. اور انسانی فہم و عقل تو رنگ نسل اور زبان کی طرح جدا جدا ہے۔ کلمے اور مہمل میں یہی فرق ہے.

اگر کلمہ زندہ ہے تو کلمے والا بھی زندہ ہے. اور اس کی اتباع میں آنے والا زندہ و جاوید مردہ وہ ہے ‘جو زندگی میں داخل ہونے سے انکار کر دے. ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی، وہ زندگی جس میں داخل ہونے والا مرتا ہے مگر اَمر ہونے کے لئے دلیل ماننے کیلئے کب مانگی جاتی ہے‘ دلیل تو رد ّ کرنے کیلئے طلب کی جاتی ہے۔ اگر دلیل ہی کو ماننا ہے تو کیوں نہ انسان کو مان لیا جائے. بلادلیل انسان کے کہے کو مان کر دیا جائے. بلاحجت پھر وہ بھی سمجھ میں آنے لگے گا جو دلیل سے نہیں آیا تھا.

Views All Time
Views All Time
190
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: