Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

by اگست 28, 2016 بلاگ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
Print Friendly, PDF & Email

Sidra Saeedروز کے معمول کے مطابق کل بھی یونیورسٹی جانے کے لیے تیاری کرنے لگی،الماری کھولی کنگھی پونی لی اور بال کنگھی کرنے لگ گئی،ابھی بال سمیٹنے ہی تھے کہ باہر سے امی کے پکارنے کی آ واز آئی سدرہ،امی کی بات سنی اور دوبارہ سے بالوں کو سمیٹنے میں لگ گئی،جب سمیٹ چکی تو دیکھا کہ پونی دسترس میں نہیں،خیر میں نے الماری میں،میزپر،ٹی وی پر دیکھا تو کہیں نہ پائی اور بے چین ہو گئی کیونکہ جانے میں دیر ہو رہی تھی اور وقت قلیل تھا۔اکتاہٹ میں میں نے ہاتھ کونیچے کیا تو پونی قمیض کے بازو سے کلائی میں آگئی،امی پاس بیٹھیں تھیں اور کہتیں ہاتھ میں تو ہے، عین اٗسی وقت اٗسی لمحے اس گھڑی میں گہری سوچ میں ڈوب گئی۔۔۔۔ہاتھ میں تو ہے۔۔۔۔۔امی کہتیں کیا ہوا اور میں نے جواب میں کہا؛ واقعی امی جی’ ہاتھ میں تو ہے میرے‘۔۔۔۔۔۔یہاں ہاتھ میں ہونے سے مراد پونی ہونا نہیں کہا میں نے،بلکہ یہ کہ جس سوچ میں کھو گئی تھی اس کے لئے کہا تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے اپنی جاب کو لے کر پریشان تھی،کافی جگہ سی .وی دی پر لاحاصل،کہیں تجربہ مانگتے تو کہیں تنحواہ بہت کم تھی اور کبھی ٹیسٹ پاس نہ ہوتا،ٹیسٹ کلئیر کرتی توانٹرویو میں رہ جاتی۔ کافی مایوس اور نا امید ہوگئی تھی اوراس بات نے کہ ’’ہاتھ میں تو ہے‘‘ دل اور دماغ کودھچکا دیا ۔ایک کتاب پڑھی تھی میں نے’راز حیات‘ مولاناوحیدالدین کی تحریرکی ہوئی فی الفور اسکا ایک عنوان ذہن میں آیاجوکہ یہ تھا’’آگے سڑک بند ہے‘‘ پڑھنے پر یہ جانا کہ جب سڑک تعمیر کی جا رہی ہو تو ’سڑک بند ہے ‘کا بورڈ نصب کر دیا جاتا ہے لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتاکہ پوری کی پوری بند ہے لوگ راستہ نکال کر جا ہی رہے ہوتے ہیں اور ہماری زندگی کا بھی بلکل یہی معمہ ہے اگر ایک راستہ بلاک ہو جائے تو اسکا یہ مطلب قطعاََ نہیں کہ پوری زندگی بلاک ہو گئی ہے۔کوئی نہ کوئی راستہ ضرور کھلا ہوتا ہے ہم اکثر وسائل اور ذرائع کم ہونے یا نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں یا اپنی ناکامی کاالزام کسی نہ کسی پر ڈالتے ہیں یا کسی اور کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک شخصیت کے بارے میں جان کر اور سن کربہت ہمت ملی اور حوصلہ بلند ہوا’سر قاسم علی شاہ‘ انھوں نے اپنے ایک لیکچر میں ایک ایسے انسان کا ذکر کیا جو کہ کم ہی سننے کو اور جاننے کو ملتا ہے ایک خاکروب کا بیٹا جوکہ مقابلہ کے امتحان میں پاس ہوتا ہے،اس کا ذکر کرنے کا مقصد یہاں یہ ہے کہ کیا اس کے پاس بھی سب وسائل تھے ؟مہنگے ہوم ٹیوشنز کی فیس مہیا تھی؟ ،اور کیا اس نے بھی کوئی ہزاروں والی اکیڈمی جوائن کی ہوئی تھی؟ تو اس کا جواب ہے نہیں کیونکہ اسکی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی اور انکے بچوں کی پرانی کتابیں لا کر اپنے بیٹے کو دے دیتی اور وہ بچہ اسی سے مستفید ہوتا رہا اور آج یہ مقام پا لیا۔ کامیاب ہونے ،ترقی کرنے اور اعلی مقام پانے کیلیے وسائل کی کم اور عزم،ہمت اور مستقل مزاجی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے،افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب آپ کو کم ہی کہیں دینے والے ملیں گے،نہ ٹیوشن میں،نہ اکیڈمی اور نہ ہی کوئی انسٹیٹیوٹ میں۔ہمت ،عزم،ارادہ،جوش و جذبہ،مستقل مزاجی آپ کو خود ہی قائم کرنا ہو گا۔ علامہ اقبال کا شعر اسی خیال کو یوں بیان کرتا ہے کہ
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
جتنے لوگ بھی آج کامیاب ہیں وہ ناکامی کا سامنا کر کے ہی اس مقام پر پہنچے ہیں اور یہ بھی کہ وہ کوئی ڈاکٹر،انجینیئر،سائنسدان کے بچے نہیں تھے وہ بھی معمولی لوگ تھے لیکن انھوں نے دنیا میں اپنا نام کمایا۔پھر ہم کیسے سوچ سکتے ہیں کہ پہلی بار میں ترقی مل جائے گی۔اگر ہمیں ناکامی ہوئی ہے تو اوربھی لوگ ناکام ہوتے ہیں،ہم واحد تو نہیں۔
نہیں نو امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اوپر جس بات کا ذکر کیا کہ ’ہاتھ میں تو ہے‘اس کا مطلب مجھے اب سمجھ میں آیا کہ’ قلم کی طاقت‘ جسے کوئی ہرا نہیں سکتا،چھین نہیں سکتا اور نہ ہی چرا سکتا ہے۔ہر انسان میں کوئی نہ کوئی قابلیت ہوتی ہے وہ اسے رد نہیں کر سکتا ہا ں وہ پہچاننے میں میری طرح دیر ضرور کر سکتا ہے،اسی لیے اپنی اندر کی قابلیت کو پہچانیں جو کہ اللہ کی دین ہے کسی کی جائیداد نہیں،جب چاہا، جیسے چاہا استعمال کیا۔اور کسی کام کو حقیر نہ سمجھیں،جو بھی کریں سچے اور خلوص دل سے کریں۔ناکامی ہے تو کامیابی بر حق ہے،اندھیرا ہے تو اجالا ہو گا،رات ہے تو دن بھی ہے،خزاں آتی ہے تو بہارکا پیغام لیکر۔
دل مردہ دل نہیں ہے،اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
مولانا طارق جمیل نے ایک بیان میں فرمایا کہ آجکل ادارے طلبہ و طالبات کوڈگری کے ذریعے پیسے کمانا سکھا رہے ہیں ،علم برائے شعور،علم برائے بصیرت کا کوئی تصور نہیں رہا اب اپنی ذات کو لے کر سوچوں تو یہ بات سو فیصد سچ لگتی ہے،کہ ہاں ایسا ہی ہے ہمیں پیسہ تو چاہیے پربصیرت نہیں،اب کوئی حق بات کرے تو گریبان پکڑتے ہیں،بیوقوف کہے جاتے ہیں اور ایک بات کہ یہ تو اب چلتا ہے یہ پانے کیلیے یہ کام کرنا پڑے گا وغیرہ وغیرہ۔کچھ اس لیے بھی ہمیں اپنی ناکامی محسوس ہوتی ہے کہ وہ تو کر گیا،چاہے جیسے بھی،میں کیوں نہیں کرسکا یاسکی۔

Views All Time
Views All Time
1233
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   شہید بے نظیر بھٹو بنام نواز شریف
Previous
Next

One commentcomments2

  1. So beautifully described.what Allah says in Quran "insan k liya wohi khuch ha jis ki wo koshish karta ha”.And He also says "Allah ki rehmat as mayoos na ho”. So there are two things to get what you want first is to try and second is hope.Life never ends if u fail even u get chances to improve through these failures n hurdles.May all of us get ease ameen.

  2. Khush amdeed sidra sahiba bht achy topic to touch kiya hai ap ne, or bht achy andaz mn pesh kiya hai. Keep it up

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: