Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سیاسی دباؤ قبول نہ کرنا

سیاسی دباؤ قبول نہ کرنا
Print Friendly, PDF & Email

Anwe Abbas Anwarسرکاری ملازمین کو سیاست کرنے،سیاستدانوں سے روابط قائم کرنے سے باز رکھنے کی کوششیں تو قیام پاکستان کے ساتھ ہی کردی گئی تھیں۔ اس کے لیے خود بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے متعدد بار اپنے خطاب میں واضع ذکر کیا اور سرلاری ملازمین کو تنبیہ بھی کی کہ وہ سرکاری فرائض کے بجا آوری میں کسی قسم کے سیاسی دباؤ کو قبول نہ کریں۔اس کے بعد بھی ہر آنے والی حکومت ( چاہے فوجی حکومت ہو یا سیاسی عوامی حکومت) نے بھی عوام کے خادم سرکاری ملازمین کو سیاست سے پاک رکھنے کی بظاہر بہت جتن کیے لیکن کوئی بھی حکومت اس کار خیر میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پائی ۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ حکومت کی کوششوں کے بار آور ہونے میں کیا رکاوٹ ہے ، اب بھی آئے دن سرکاری ملازمیں پر الزام تراشی کی جاتی ہے کہ وہ عوام کے خادم بننے کی بجائے حاکم بننے کو ترجیح دیتے ہیں، اور اپنی اوقات سے کہیں زہادہ پرتعیش زندگی بسر کرتے ہیں، ان پر یہ بھی الزام لگتا ہے کہ وہ سیاستدانوں کی جی حضوری اور خوشامد کرکے آوٹ آف ٹرن ترقیاں بھی لیتے ہیں اور من پسند پوسٹیں بھی ہتھیاتے ہیں اور پھر سیاستدان اور سرکاری ملازمین مل کر عوام کوان کے حقوق سے محروم کرتے ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے والے ترقیاتی فنڈز باہمی ملی بھگت سے خورد برد کرکے خود ہڑپ کرجاتے ہیں۔یہ الزامات محض الزامات نہیں ہیں بلکہ سو فیصد حقیقت ہیں۔بلوچستان کے سکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی کہانی اس باہمی لوٹ مار کی چشم کشا حقیقت ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہماری بیوروکریسی یا افسر شاہی کہہ لیں کو پنجاب حکومت غیر قانونی کاموں کی انجام دہی سے باز رکھنے میں کامیاب ہو پائے اور اپنے وزرائے کرام اور ارکان پارلیمنٹ کو بھی نکیل ڈالے کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے سرکاری افسران کو مجبور نہ کیا کریں اور نہ ہی ان پر سیاسی دباؤ ڈالیں۔۔۔اگر پنجاب حکومت ایک آدھ اپنے چہیتے رکن قومی و صوبائی اسمبلی کو سرکاری افسران کو غیر قانونی کام کرنے پر مجبور کرنے کی پاداش میں عبرت کا نشان بنادے تو باقیوں کو ’’کان ‘‘ہو جائیں گے۔
جہاں تک حکومت کے ان دعوؤں کا تعلق ہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت کی حدود میں سرکاری افسران پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے یہ حقائق کا منہ چڑانے والی بات ہے ، صرف لیسکو میں ہی ملازمین کی تقرو تبادلے کی فائلیں دیکھ لی جائیں تو پنجاب حکومت اور مسلم لیگ کے ایسے وزرا جو یہ دعوے کرتے ہیں منہ چھپاتے دکھائی دیں گے۔ویسے تو مسلم لیگ حکومت نے بجلی تقسیم کرنے والی آٹھوں کمپنیوں کے حصے بخرے کر دئیے ہیں کہ کون وزیر اور راہنماکس کمپنی سے رجوع کرسکتا ہے اور کس سے نہیں۔
دعوی سے کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے تمام پولیس افسران، ڈی سی او ، اے سی صاحبان، اور دیگر افسران کا تقرر و تبادلے ارکان اسمبلی کی سفارشوں اور خواہشات کے تابع ہوتے ہیں۔ افسران تو بہت دور کی بات ہے یہاں سکیل دو سے چودہ پندرہ کے ملازمین بھی اپنے پر س مین وفاقی وزرا کے سفارشی کارڈ اور فون نمبر رکھتے ہیں کسی افسر کی مجال ہے کہ وہ کارکردگی کی بنیاد پر کسی کو ادھر سے ادھر کرنے کی ہمت و جرات کرسکے۔اسے کہتے ہیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ، اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔
اس ماہ کے دوسرے ہفتہ کے آغاز پر حکومت پنجاب کی جانب سے پنجاب کے تمام ڈی سی اوز، ایس پیز اور دیگر سرکاری ملازمین کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’’ اگر کوئی سیاستدان ناجائز کام کے لیے پریشر ڈالے تواس حوالے سے سپریم کورٹ اور نیب کو آگاہ کیا جائے اور پنجاب حکومت کے افسران کسی بھی ایسی چیز کا حصہ نہ بنیں جس سے ناجائز فائدہ پہنچے خط میں وزیروں اور مشیروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری افسروں پر دباؤ نہ ڈالیں اس کے ساتھ سرکاری افسران سے بھی کہا گیا ہے کہ سرکاری افسر غلط کام کے لیے کوئی دباؤ قبول نہ کریں خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں اور سرکاری ملازمین کا گٹھ جوڑ میرٹ کی تباہی کا باعث ہے اس لیے اس سے گریز کیا جائے‘‘ اگر پنجاب حکومت کے خط کو پنجاب حکومت کی دلی خواہش سمجھا جائے تو پھر ارکان پارلیمنٹ منتخب ہونے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنے کا کیا فائدہ؟ کہ اگر منتخب ہوکر ضلع اور تحصیل میں ،تھانے اور کچہری میں اپنے من پسند سرکاری اہلکار ہی تعینات نہیں کرواسکنے ۔۔۔ پتا نہیں پنجاب حکومت نے یہ خط کس کو ’’قابو‘‘ کرنے اور کس کو خوش کرنے کے لیے تحریر کیا ہے۔
پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور دیہات میں موجود سرکاری دفاتر میں برسراقتدار جماعت مسلم لیگ نواز کے کارکنوں اور ارکان پارلیمنٹ کی سفارشی پرچیوں اور مداخلت ،سیاسی دباؤ کے مناظر بخوبی ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ جس افسر یا اہلکار نے سفارشی پرچی ،یا ٹیلی فون پر دئیے گئے احکامات کی تعمیل میں چوں چرا کی تو اسکا جینا حرام ہوجاتا ہے یا کردیا جاتا ہے۔ڈسٹرکٹ کوارڈی نیشن افسر کا تقرر ہو یا ضلعی پولیس افسر کی تعیناتی کا معاملہ ہو حتی کہ تحصیلدار اور پٹواری سے لیکر سکول ٹیچر تک کی تعیناتی ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کی منشا ء پر عمل میں آتی ہے بلکہ کئی اضلاع تو وفاقی اور صوبائی وزرا ،ارکان اسمبلی کی صوابدید پر چھوڑ دئیے گئے ہیں ، پولیس تھانوں میں مسلم لیگ نواز کے اہلکاروں ،ارکان اسمبلی اور وزرا کی مرضی کے بغیر ایف آئی آرز کا اندراج تک ممکن نہیں ہوتا۔
کوئی یقین سے کہہ سکتا ہے کہ خواجہ سعد رفیق، انکے بھائی جو وزیر اعلی کے مشیر صحت ہیں تھانوں اور ہسپتالوں میں فون نہیں کرتے ہونگے؟ وفاقی وزیر برجیس طاہر، میاں جاوید لطیف یا وفاقی کابینہ کے سب سے بھاری وزیر( چودہری نثار علی کے بعد) رانا تنویر حسین جن کے اشارہ ابرو پر ضلع شیخوپورہ کی انتظامیہ حرکت میں آ جاتی ہے کسی کی سفارش نہیں کرتے ہونگے؟ اس سب کے باوجود پنجاب حکومت کی کوششوں کی کامیابی کا متمنی ہوں اللہ کرے پنجاب کے سرکاری افسروں اور سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ ٹوٹ جائے اور میرٹ کی آبرو بچ جائے۔

Views All Time
Views All Time
277
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   بیس لگاؤ 500 کماؤ کی سیاسی تجارت - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: