Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اختلاف معاشرت کا حسن اور موجودہ مذہبی منافرت

by اگست 3, 2016 کالم
اختلاف معاشرت کا حسن اور موجودہ مذہبی منافرت
Print Friendly, PDF & Email

point of viewگلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوق! اس جہاں کو ہے زیب اختلاف میں
اختلاف جیسے لفظ کو اکثر اوقات ہی منفی انداز میں لیا جاتا ہے بلکہ اختلاف لفظ کے بولتے ہی ذہن میں نفی کا پہلو اجاگر ہو جاتا ہے جبکہ حقیقی طور پر دیکها جائے تو اختلاف کا معانی لڑائی جهگڑا ، دنگا فساد نہیں یہ معاشرہ ہے جو الفاظ کو مختلف معانی کے جامے پہناتا ہے اختلاف کا لفظ اصطلاحاََ مختلف ہونے کے لیے بولا جاتا ہے اگر ہم باچشم حقیقی معاشرے کا جائزہ لیں تو اکثر اشیاء،نظریات ،اعتقادت،طرز بودوباش، طرز تعلیم، سیاست اور مذاہب میں اختلاف نظر آتا ہے حتی کہ ایک ہی گهرانے کے افراد کی پسند، ناپسند،نظریات اور اطوار ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں-
اگر افراد کے درمیان اختلاف نہ ہوتا اور سب کے رجحانات،پسند،ناپسند ،مرضی ومنشاء یکسا ہوتے تو یہ رنگ و آہنگ،خوبصورتی اور جمال نہ ہوتا جو معاشروں کا خاصا ہے -سوچیے اگر اختلاف نہ ہوتا تو سب ایک جیسے تعلیمی اداردوں میں تعلیم حاصل کرتے ایک طرح کے ردعمل کا اظہار کرتے تو زندگی میں یکسر یکسانیت ہوتی تو ہر شے کس قدر بوگس اور بے رنگ ہوتی-ہم اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ ہر شے دوسری سے مختلف ہے ایک ہی شہر کے ایک کنارے پر مسلم آباد ہوتے ہیں تو درمیان میں سکه اور عیسائی اور دوسرے پر ہندو – کوئی دیناوی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو کوئی دینی مدرسے میں – بعض افراد دفاتر میں کام کرتے ہیں تو دوسرے افراد دوسری طرز کی کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں -ایک خاندان کے افراد ایک سیاسی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو دوسرے دوسری پارٹی کو-کهانے پینے کے انداز و اطوار بهی ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں پس ثابت ہوا کہ رنگا رنگی اور اختلاف کسی بهی معاشرے کے لیے ناگزیر ہی نہیں معاشرت کا حسن بهی ہے کیونکہ ماہر عمرانیات بهی معاشروں کے ارتقاء کے ضمن میں تنوع،اختلاف اور تضاد کو لازمی خیال کرتے ہیں-
اس ساری تمہید کا مقصد موجودہ نازک صورتحال پر نقطہ نظر کو واضع کرنا تها -آج ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو مذہبی و مسلکی اختلاف پر سب سے پہلے احتجاج کیا جاتا ہے حتی کہ اس پر گردن زنی تک کی نوبت آن پہنچتی ہے-کوئی کسی کی رائے سننے کو تیار نہیں ہے حالانکہ کسی بهی معاشرے اختلاف ایک ناگزیر عمل ہے ورنہ تہذیبں مردہ ہو جاتی ہیں اور ثقافتوں کا نام ونشان تک مٹ جاتا ہے- لیکن ہمارے معاشرے میں آج کل جو مسئلہ جدید نوعیت کا ہے اور جس سے ہمارے اجتماعی وجود کو شدید خطرات لاحق ہیں ان میں مذہبی معاملات میں اختلاف اور اس پر عدم برداشت کا مسئلہ سب سے سنگین ہے اگر کوئی ہم میں مختلف نوعیت کا خیال رکهتا ہے تو ہمارے نزدیک اس کا ایمان معتبر ہے نہ اس کا اخلاص حالانکہ اسلام عبادات،اعتقادت سے زیادہ معاملات کا دین ہے اور انسان عبادات سے زیادہ معاملات سے پہچانا جاتاہے-حیرن کن امر یہ ہے کہ مذہبی قیادت کا رویہ اس معاملے میں بڑی حد تک غیر ذمہ درانہ ہے مذہبی رہنما اپنے متعلقین کو یہ تلقین کرتے ہیں کہ ان سے مختلف رائے یا موقف رکهنے والے حضرات کا وجود دین کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور وہ امت کے لیے ایک فتنہ ہیں اور افسوس کہ یہ بات یہی پر تمام نہیں ہوتی یہ بهی کہا جاتا ہے کہ ان "فتنوں کی سرکوبی” کے لیے طریقہ کار بهی یہ علماء خود ہی متعین کرتے ہیں حالانکہ اسلامی تعلیمات میں مذہبی اختلاف کو ختم کرنے کا ایسا کوئی طریقہ کار متعین نہیں ہے- آج بعض گروہوں کے ہاں یہ معاملات سنگین نوعیت اختیار کرکے دوسرے مسلک کے قتل کے فتووں تک جا پہنچے ہیں-
مسلمانوں کی تاریخ کے تمام ادوار میں مذہبی اختلافات کو نہ صرف گوارا کیا گیا بلکہ ان کی وجہ سے باہمی ادب واحترام میں بهی کبهی کوئی فرق نہیں لایا گیا-ہمارے اسلاف کے ہاں اس طرح کی کوئی روایت موجود نہیں ہے کہ اختلاف کی بناء پر دوسرے فرقے کے خلاف عوام کے جذبات بهڑکائے گئے ہوں یا ان کے متعلق فتوے دیے گئے ہوں -اس معاملے میں احتیاط کا جو عالم رہا اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے جو کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ و تعالی عنہا نے خوارج کے معاملے میں اپنایا-عقیدے اور سیاسی دونوں اعتبار سے انہوں نے جو موقف اختیار کیا گو کہ ان اقدامات کے نتیجے میں امیرالمومنین کی شہادت ہوئی لیکن انہوں نے خوارج کے خلاف تلوار نہیں اٹهائی بلکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا نے ان کے ساته گفتگو کی اجازت چاہی تو حضرت علی رضی اللہ نے اس سے منع کیا-ابن عباس اور خوارج کا مکالمہ تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے اور اسے ابن قیم نے "اعلام المومنین”میں بهی نقل کیا ہے-گویا یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اس امت نے فقہی اختلاف سے لے کر سیاسی اختلاف میں دوسری رائے کو گوارا کیا-یہ بات ہمارے اسلاف کے ذہن کے کسی گوشے میں کبهی نہیں آئی کہ کوئی فرد یا گروہ بغیر اقتدار کے کسی کی جان بهی لینے کا حق رکهتا ہے یہاں تک کہ قرآن مجید میں رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کو مخاطب کرتے ہوئے رب تعالی نے فرمایا
ترجمہ
"تم یاددہانی کر دو(اے پیغمبر) تم بس یاد دہانی کرنے والے ہی ہو تم ان پر کوئی داروغہ نہیں ہو”
(الغاشیہ 21:88-22)
ایک اور جگہ فرمایا
ترجمہ
"سو تم پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور ان کا حساب تو ہمیں ہی لینا ہے
(الرعد30:12)
اج ہم نے مذہبی اختلافات کو بنیاد بنا کر مذہبی منافرت کو جس حد تک پہنچا دیا ہے اور ہماری مذہبی قیادت نے جس طرح "منصب اصلاح”کو چهوڑ کر "فتنوں کی سرکوبی”کی بهاری ذمہ داری اپنے ناتواں (عموما بهاری) کندهوں پر اٹهالی ہے اس سے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کے رجحان کو فروغ ملا ہے لہذا اس سے بہتر طرز عمل یہ ہے کہ اختلاف کو معاشرت کا حسن گردانتے ہوئے اس کو گوارا کرنے کی روایت ڈالیں اور انسانوں کے عقائد،عبادات ومعاملات کا فیصلہ اللہ تعالی کی ذات پر چهوڑ دیا جائے اور بالفرض کسی گروہ یا فرد کے خلاف کسی وجہ سے کوئی اقدام ناگزیر ہو جائے تو اس کا حق صرف ریاست کو ہے-
معاشرے میں رہنے کے لیے اس کے انداز اپنانے پڑتے ہیں کیونکہ معاشرہ غالب کے ان اشعار کے مصداق تو ہونے سے رہا کہ
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زبان کوئی نہ ہو
بر ہے درود یوار اک گهر بنانا چاہیے
کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
پڑیے گربیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
معاشرے میں ایسا طرز عمل و طرز تفاعل مطابقت کے لیے رکاوٹ بنتا ہے لہذا "جیو اور جینے دو”کی پالیسی اپنائی جائے اور اختلاف کو فطری عمل سمجهتے ہوئے اسے برداشت کرنے کی روش اپنانی چاہیے-

Views All Time
Views All Time
585
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ڈیرہ، کبھی تھا "پھلاں دا سہرا" – اب لہو لہو ہے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: