Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

فوری عام انتخابات کا مطالبہ – کس کا نفع کس کا نقصان؟

by نومبر 20, 2017 بلاگ
فوری عام انتخابات کا مطالبہ – کس کا نفع کس کا نقصان؟
Print Friendly, PDF & Email

جب سے پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نوازشریف کی نااہلی کافیصلہ سامنے آیاہے تب سے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اپنے ہرخطاب میں فوری طورپرنئے عام انتخابات کامطالبہ دہراتے آرہے ہیں راقم ایک سے زائد مرتبہ اس بات کااظہارکرچکاہے کہ فوری طورپر عام انتخابات کسی سیاسی جماعت کے حق میں نہیں اورناہی دل سے کوئی سیاسی جماعت یااسکے راہنماچاہتے ہیں کہ فوری نئے انتخابات ہوں پیپلزپارٹی کے بارے میں یہ خبر آئی تھی کہ وہ مارچ کے سینیٹ الیکشن سے قبل حکومتی رخصتی اورنئے انتخابات چاہتی ہے مگرجیسے ہی اسکی قیادت نے حالات کاادراک کیاوقت سے پہلے عام انتخابات کے مطالبے سے دستبرداری میں ایک لمحے کی دیر نہیں لگائی اسی طرح تحریک انصاف کے قائد عمران خان اب بھی ہردوسری بات میں فوری طورپرنئے عام انتخابات کامطالبہ دہرانانہیں بھولتے مگران کالہجہ زبان کاساتھ نہیں دے رہاکیونکہ اندرونِ خانہ تحریک انصاف بھی اس بات پرمتفق نظرآرہی ہے کہ فوری انتخابات سے اسے بھی نقصان ہوسکتاہے فوری انتخابات کامطالبہ مقبولیت کے زعم میں کیاگیاتھامگریہ مقبولیت اس قدربھی ہرن مینارپرکھڑی نظرنہیں آرہی کہ فوری انتخابات ہوں اوراقتدارعمران خان کی جھولی میں آگرے پاکستان میں کسی ایشوکے انتخابات پراثراندازہونے کی کوئی تاریخ نہیں یہاں اگرچہ نوازشریف کوپانامہ کے مقدمے میں اقامے پرنااہل کیاگیامگرنہیں کہاجاسکتاکہ نوازشریف کو لوگوں کے دلوں سے بھی نکالاجاچکاہے اب بھی نوازشریف کی مقبولیت میں اگرچہ کچھ کمی واقع ہوچکی ہے مگریہ کمی اتنی بھی نہیں کہ آمدہ انتخابات میں اسے فارغ ہوناپڑے یاانہیں نظراندازکیاجاسکے جی ٹی روڈ ریلی میں نوازشریف اپنے ووٹ بینک کوجوڑتے ہوئے نظرآئے اس ریلی کے بعدن لیگ کے کچھ حلقوں نے اسمبلیاں توڑکرنئے انتخابات کے بارے میں سوچاتھامگربعدکے حالات وواقعات نے اس سوچ کوپروان چڑھنے نہیں دیا۔

یہاں مسئلہ ہی یہی ہے کہ کچھ سیاسی راہنمااپنے اردگردجم غفیردیکھ کرخودکومقبولیت کے آسمان کاستاراسمجھنے لگ جاتاہے کچھ اسی طرح مقبولیت کے زعم میں عمران خان بھی انتخابات کامطالبہ کرتے رہتے ہیں حالانکہ مشترکہ مفادات کونسل میں انکے پارٹی کے راہنمااوروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے ایساکوئی مطالبہ نہیں کیابلکہ وہاں سے آئندہ چھ مہینے کیلئے منصوبے منظورکروائے گئے جس کاواضح مطلب یہی ہے کہ تحریک انصاف اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے اورپارٹی پالیسی وہی ہے جو پرویزخٹک نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اپنائی ایک غباریہ اٹھاتھاکہ سینیٹ الیکشن سے قبل اگرحکومت رخصت نہیں ہوتی توآئندہ سینیٹ الیکشن میں نوازشریف اکثریت حاصل کرلینگے اس بات میں اگرچہ تھوڑی بہت صداقت موجودہے کہ پنجاب اوربلوچستان کی حدتک نون لیگ سینیٹ کی نشستیں حاصل کرسکتی ہے مگرسندھ اورخیبرپختونخوامیں باالترتیب یہی پوزیشن پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کی ہے خیبرپختونخواسے تحریک انصاف کے سات سینیٹرزہیں اورشنیدہے کہ آئندہ سینیٹ الیکشن میں یہ نشستیں دوگنی ہوجائینگی اسی طرح سندھ کی 70%نشستیں پیپلزپارٹی کے حصے میں آنے کے قوی امکانات ہیں ذراواضح الفاظ میں یہی کہاجاسکتاہے کہ اگرآئندہ سینیٹ انتخابات میں نون لیگ کے حصے میں دس نشستیں آسکتی ہیں تو تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی کے حصے میں بھی سات سات نشستیں آسکتی ہیں اسطرح سینیٹ الیکشن کے بینیفشری صرف نون لیگ نہیں ہوگی بلکہ اپوزیشن کی یہ دونوں پارٹیاں بھی سینیٹ میں اپنی پوزیشن بہتربنائینگی اگرمحض سینیٹ میں نون لیگ کی اکثریت روکنے کی خاطرنئے عام انتخابات کرائے جاتے ہیں تویہ ایک احمقانہ سوچ ہے موجودہ جمہوری سسٹم ایسی بنیادوں پراستوارہے کہ اس میں حکومت اوراپوزیشن دونوں سٹیک ہولڈرزہیں ناہی حکومت اپنی من مانی کرسکتی ہے اورناہی اپوزیشن مادرپدرآزادہے موجودہ اسمبلیوں کے وقت سے پہلے ٹوٹنے کی صورت میں نقصان ناصرف نوازلیگ کاہوگابلکہ اپوزیشن جماعتیں بھی نقصان سے دوچارہونگیں آج توان پارٹیوں کے پاس دواسمبلیوں میں اکثریت موجودہے کون جانے نئے عام انتخابات کے بعدکیاصورت بنتی ہے اورکس پارٹی کواکثریت ملتی ہے اگرنئے عام انتخابات میں نوازشریف سوکے قریب سیٹیں لے جاتے ہیں تو موجودہ اپوزیشن کی دونوں پارٹیاں منہ تکتی رہ جائینگی نوازلیگ ابھی اتنی بھی کمزورنہیں ہوئی کہ وہ سوسیٹیں بھی نہ لے سکے جبکہ تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی کے بارے میں نہیں کہاجاسکتاکہ یہ دونوں مل کربھی آئندہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائیں تحریک انصاف کی موجودہ نشستیں خیبرپختونخواکی بدولت ہیں نئے عام انتخابات میں اس سے یہ سیٹیں چھن بھی سکتی ہیں خیبرپختونخواسے تحریک انصاف کے ایم این ایزکی ایسی کوئی خاص کارکردگی دکھائی نہیں دے رہی کہ اسکے تمام اراکین قومی اسمبلی اپنی سیٹوں کادفاع کرسکیں بلکہ انکی اکثریت دوبارہ منتخب ہونے کی پوزیشن میں نہیں کچھ اسی قسم کی صورتحال سے صوبائی اراکین بھی دوچارہیں اورشنیدہے کہ صوبائی حکومت کے اہم وزراتک آمدہ انتخابات میں اپنی نشستیں نہیں بچاپائینگے پنجاب سے اگرچہ کچھ نشستیں بڑھ سکتی ہیں مگردیگرصوبوں سے سیٹیں 2013سے مختلف نہیں ہونگیں پیپلزپارٹی کوبھی سندھ میں اس مرتبہ مشکلات کاسامناہوگاسندھ کی قوم پرست جماعتوں کااتحاد اورذوالفقارمرزاپیپلزپارٹی کی موجودہ پوزیشن خطرے میں ڈالنے کی صلاحیتوں سے مالامال ہیں بہرحال قبل ازوقت انتخابات کسی بھی سیاسی جماعت کے حق میں نہیں مسلم لیگ (ن) کواگرمکمل ہونے والے منصوبوں سے بزوربازوروکاجائے تو اس کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف بھی اپنے منصوبے مکمل نہیں کرپائیں گی صورتحال ایسی بن چکی ہے کہ تمام بڑی پارٹیوں کامفاداسی میں ہے کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں اورانتخابات جولائی 2018میں منعقدہوں قبل ازوقت انتخابات کے شوشے میڈیامیں زندہ رہنے کیلئے چھوڑے جارہے ہیں اب میڈیا اورمائیکس کے سامنے آکربندے کوکچھ نہ کچھ کہناتوہوتاہے خاموش رہ کرتوکوئی سرخی نہیں بنتی سرخی کسی مطالبے کی بنتی ہے کسی افواہ اورپیشنگوئی کی بنتی ہے اسی کومدنظررکھ کرآجکل پیشنگوئیوں کاسلسلہ جاری ہے کسی جانب سے پیشنگوئی آرہی ہے کسی جانب سے دعویٰ سامنے آرہاہے اورکسی جانب سے مطالبہ آرہاہے انہی میں موجودہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہوجائیگی اورجون 2018میں اسمبلیاں تحلیل ہوکرنگران سیٹ اپ معرض وجودمیں آجائیگااس سے قبل انتخابات ناہی تو ملک کیلئے سودمندہیں اورناہی جمہوری نظام کیلئے ، چاہے آندھی آئے یاطوفان اسمبلیوں کواپنی مدت پوری کرنی چاہئے بے صبری کے مظاہروں سے ملک وقوم کاکوئی مفادوابستہ نہیں موجودہ جمہوری سسٹم کووقت چاہئے سیاستدانوں کامسئلہ ہی یہی ہے کہ یہ اپنی بے صبری سے سسٹم کوڈی ریل کی جانب لے جاتے ہیں انہیں جمہوری اور مدبرانہ روئیے اپنانے ہونگے صبر اوربرداشت سے کام لیناہوگا تب ہی ملک حقیقی جمہوریت کی جانب قدم بڑھاسکے گافوری عام انتخابات کسی بھی مسئلے کاحل نہیں۔

Views All Time
Views All Time
93
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   این آر او کی بازگشت | اکرم شیخ - قلم کار
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: