Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اماں میرے بھیا کو بھیجو ری کہ ساون آیا ہے

by اگست 30, 2016 بلاگ
اماں میرے بھیا کو بھیجو ری کہ ساون آیا ہے
Print Friendly, PDF & Email

zari ashrafاب اس گھر سے تمہارا جنازہ ہی نکلے خود اپنی مرضی سے مت نکلنا ۔ماں باپ اور بہن بھائیوں کی عزت اسی میں ہے کہ تم اسی گھر میں رہو شوہر کی فرمانبرداری کرو ۔ساس سسر کو اپنے ماں باپ سمجھ کے ان کی خدمت کرنا اور اپنے میاں کے رشتے داروں کو پکا کے کھلانا۔کسی کے آگے اپنی زبان مت کھولنا۔تمہارے خاندان کی آبرو کا سوال ہے۔بیٹیاں اپنے گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں۔تمہارے حصے کا جہیز دے دیا ہے عید شب برات ملتی رہے گی ۔ہماری دی ہوئی زبان کی لاج رکھنا ۔اس سے ملتے جلتے الفاظ ہمارے ہاں ہر بیٹی کو سننے پڑتے ہیں۔اور بیٹیاں ماں باپ کی کہی بات کی لاج نبھاتے نبھاتے ختم ہو جاتی ہیں۔
باپ نے اپنی18 سالہ بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جو ایک مہینے سے اپنے شوہر سے ناراض ہو کر باپ کے گھر آئی ہوئی تھی ۔آخر یہ بیٹیاں اپنے دکھ کسے سنائیں کسے بتائیں اور کیا بتائیں جن اذیتوں سے گزرتی ہیں؟کہاں جائیں اگر شوہر گھر سے نکال دے تو ؟ کون سی دنیا کا رخ کریں جب باپ اور بھائی اپنے گھر کے ہی نہیں دل کے دروازے بھی بند کر لیں۔آخر کو بیٹیاں بھی تو انسان ہی ہیں کتنی مار پیٹ برداشت کر سکتی ہیں کتنا آزمائیں گے آپ ان معصوموں کو۔کتنا رلائیں گے ان سسکتی بلکتی نرم کونپلوں کو ۔اگر شادی کرکے اپنی جان چھڑوانا ہی مقصد ہے تو پھر اتنا لاڈ پیار کاہے کو کرتے ہو؟کیوں کہتے ہو کہ ماں باپ کے گھر بیٹی کا تھانیدار جتنا رعب ہوتا ہے؟
جس گھر کے آنگن میں کھیلتی ہوں جن بھائیوں کو سہارا مانتی ہوں وہ ایک ہی پل میں بے سہارا چھوڑ کر انجان کیوں ہو جاتے ہیں؟
کوئی بھی عورت کبھی خوشی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتی اس کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں نہ تو باہر جاکے کوئی بات بتائے اور نہ گھر سے قدم اٹھائے۔ پر کیا کیا جائے اگر وہی ہاتھ پکڑ کے گھر سے باہر نکال دے جس نے خدا کے نام پر مفت حاصل کیا ہوتا ہے ۔آخر کب تک مجبوریوں سے کھیلتے رہو گے کب تک ماؤں کو ان کے بچوں سے دور کرتے رہو گے۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو کچھ تو دل میں احساس پیدا کرو کہ جو عورت اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کے گھرآتی ہے ،نئے خواب بنتی ہے، اپنی جان پہ کھیل کے بچے پیدا کرتی ہے ساس سسر اور پورے خاندان کی خدمت کرتی ہے گھر بنانے میں جت جاتی ہے اور آپ ایک پل میں ایک لمحہ سوچے بغیر اسے بے گھر کر دیتے ہو ۔اس وقت بھائیوں او باپ کی غیرت کہاں ہوتی ہے جب شوہر مار رہا ہوتا ہے ۔جب کئی کئی دن یہی شوہر بھوکا رکھتا ہے تب غیرت کون سی لمبی تان کے سو رہی ہوتی ہے۔
کیا بیٹی ہونا جرم ہے؟ بیٹی پیدا کرنا جرم ہے؟ تو پھر مجھے کیوں کہا جاتا ہے کہ الله کی رحمت ہوں۔تو پھر ہر کسی کے لیے زحمت کیسے بن گئی؟ماں باپ سے گزارش ہے کہ بیٹوں کو بے سہارا نہ چھوڑا کریں۔کچھ گنجائش اپنی دل اور گھر میں ان کے لیے شادی کے بعد بھی چھوڑا کریں۔ہر بیٹی کے لیے میکہ بہت آس اور امید ہوتا ہے ۔اگر یہ سب نہیں کر سکتے تو بجائے جوان کرکے شعور دے کے زمانے کے ہاتھوں ذلیل کروانے سے اچھا ہے کی پیدا ہوتے ہی دفن کردیں یا گلا گھونٹ کے مار دیں تاکہ نہ میں دنیا دیکھوں اور نہ ہی جینے کی خواہش کروں۔

Views All Time
Views All Time
943
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments2

  1. عامر حسینی

    اچھا کالم آپ نے لکھا اور اتفاق ہے میں ڈاکٹر رشیدہ جہاں انگارے والی پہ ان کی نواسی کی لکھی کتاب پڑھ رہا تھا۔رخشندہ جلیل نے یہ کتاب لکھی ہے آکسفورڈ نے چھاپی ہے اور ڈاکٹر رشیدہ جہاں کے افسانے خاص طور پہ عورت پڑھنے کے قابل ہے۔ہندوستانی مسلم کمیونٹی کی آرتھوڈوکسی کی جڑیں جاگیرداری میں پیوست ہیں اور اسی سے بیٹیوں کو راندہ درگاہ کیا جاتا ہے۔ایک اچھا کالم لکھنے پہ آپ کو مبارکباد ۔

  2. بہت اہم سماجی مسئلہ کی طرف بہت دردمندی سے نشاندہی کی ہے زری اشرف نے حساس مسئلہ جس کیزد میں آکر کتنی زندگیوں کے چراغ گل ہوگئے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: