ہجوم

Print Friendly, PDF & Email

hajoomملحقہ گلیوں کی نسبت یہ گلی زیادہ بارونق تھی۔ ایک تو کشادہ تھی اوپر سے بھانت بھانت کے لوگوں کی آماجگاہ۔ گوشت کی دوکان بھی یہیں واقع تھی اور چائے کا ڈھابا نما ہوٹل بھی۔ اس گلی سے نکلتے ہی بائیں جانب مین روڈ پر لڑکوں کا ایک سرکاری سکول تھا۔ سکول سے قریب ترین ہونے کی وجہ سے گیارہ بجتےہی اس گلی میں رنگ برنگے ٹھیلوں کا تانتا بندھ جاتا کیونکہ سکول کے سامنے فٹ پاتھ پر ٹھیلے لگانے کی جگہ نا تھی نا ہی اجازت اور سکول سے قریب ترین جگہ یہی گلی بنتی تھی۔ ہاف بریک یا چھٹی کی گھنٹی کیا بجتی گویا صور پھونک دیا گیا ہو۔ چھوٹے بڑے بجے شور و غوغا مچاتے ان ٹھیلوں کے گرد گھیرا ڈال لیتے۔چاچو آلو چھولے دینا۔ انکل مصالحہ زیادہ ڈالنا۔ بھائی آپ نے چٹنی کم ڈالی ہے۔انکل میں کب سے کھڑا ہوں پہلے مجھے بھٹہ دیں۔ انکل یہ لڑکا آپ کے تھیلے سے پیسے چرانے کی کوشش کرر ہا ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں کبھی کبوتر کی گٹر گوں لگتی کبھی مچھلی منڈی کا سا سماں باندھ دیتیں۔ اگرچہ سکول کے اندر ایک صاف ستھری کینٹین کا انتظام تھا لیکن جو مزہ ان چٹ پٹی، رنگ برنگی، نامعلوم مگر لزیز ذائقے سے لبریز اشیا خورد و نوش میں تھا وہ کینٹین کے پھیکے اور مصالحوں سے محروم سینڈوچز اور برگرز میں کہاں۔ بچوں کی رغبت کی وجہ یہ بھی تھی کہ کینٹین کی نسبت ٹھیلوں کی خوش ذائقہ اشیا کم نرخ پر دستیاب تھیں ۔ حتی کہ چھٹی کے بعد بھی گھنٹہ بھرکے لیے گلی نیلی قمیضوں اور خاکی پینٹوں میں مبلوس ہیولوں سے بھری رہتی جن کی کمروں پر جہازی سائز بیگ لٹکے ہوتے۔
سہہ پہر ہوتی تو گلی نمبر پانچ والے ڈاکٹر ظہور ‘‘الشمس چائے والا’’ پر آ دھمکتے۔ وہ آجکل گلی نمبر تین میں بسنے والے میاں اجمل کی سیاسی جدوجہد کی داستانوں سے دل پشوری کرنے میں مشغول تھے جنہوں نے اس دفعہ کونسلر کا الیکشن جیتا تھا اور آئیندہ ایم پی اے کا الیکشن لڑنے کا عزم کیے بیٹھے تھے۔ حاجی مہر علی صاحب جو ‘الشمش چائے والا’ سے دو گزر پرے واقع گوشت کی دوکان سے روزانہ گوشت خریدنے آتے تھے، شمس کے ہاتھ کی بنی چائے پینا نا بھولتے۔ اس طرح انہیں اخبار کی ورق گردانی کا بھی بہانا مل جاتا تھا۔ ان کے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر طے شدہ مقاصد میں سیاست و معاشرت پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کرنا بھی شامل ہوتا تاکہ عوام الناس ان کے دانشمندانہ تجربات و خیالات سے سیکھ سکیں۔ وہ وقفے وقفے سے اپنی داڑھی میں خلال کرتے ہوئے لفظ کھینچ کھینچ کر گفتگو کرتے تھے۔گفتگو میں غیر معمولی ٹھہراؤ ہوتا۔ وہ بات کرتے کرتے چپ ہو کر سوچنے لگتے۔ جس سے ان کی شخصیت میں ایک عجیب طرح کی سنجیدگی اور متانت جھلکنے لگتی جو کبھی کبھی وہاں موجود کسی اجنبی کومضحکہ خیز معلوم ہوتی ۔چونکہ حاضرین میں سے زیادہ تر کا تعلق اسی گلی سے ہوتا اس لیے سب اس کی بات توجہ سے سنتے تھے۔ ایک تو وہ اس گلی کے قدیم رہائشی تھے، دوسرا مرکزی بازار میں ان کی ذاتی دو دکانیں کرائے پر چڑھی ہوئی تھیں، تیسرا وہ اپنی گفتگو میں عالمی صورتحال کا حوالہ دینا نہیں بھولتے تھے کیونکہ انکا ایک بیٹا شارجہ سدھارا ہوا تھا جس سے ٹیلی فونک رابطہ ما بین سرحدین سیاسی و عسکری حالات کی خبریں کشید کرنے میں انکا معاون تھا ۔اور شائد اس گلی کے وہ واحد مکین تھے جن کے گھر روزانہ گوشت پکتا تھا۔ کسی کی آدمی کی ممتاز شخصیت کی شناخت اور اس سے ملحقہ دانش کو ماپنے کے لیے یہ پیمانے بہتیرے تھے۔
وہ جمعرات کا روز تھا۔ بچوں کو چھٹی ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی اور وہ گلی میں اپنا اودھم مچا کر اپنے اپنے گھروں کو ہو لیے تھے۔ گلی میں اب اکا دکا نیلی شرٹوں کے بیچ و بیچ چمکیلے و سفید کاغذ ادھر ادھر لڑھک رہے تھے۔ جب کوئی موٹر سائکل گلی سے گزرتی تو یہ کچرا کاغذ یوں دور بھاگتے جیسے ڈر گئے ہوں جبکہ راہ گیروں کی ٹانگوں سے لپٹنے کی یوں کوشش کرتے جیسے کہہ رہے ہوں ہمیں ساتھ لے چلو بابو جی۔ دوپہر کے ان لمحات میں ‘‘ الشمس ہوٹل’’ پر رش کم ہو جاتا تھا۔ہوٹل کا مالک بھاری بھرکم بھائی شمس کافی مستعدی کا مظاہرہ کر چکنے کے بعد اب سستا رہا تھا ۔ پچھلے دو گھنٹوں تک اسکی تینوں میزیں گاہکوں سے پر رہیں۔ اسے گاہکوں کو متوجہ کرنے ، ضروت کے مطابق انہیں وہاں دیر تلک بٹھائے رکھنے یا جلدی چلتا کرنے کے گر آتے تھے ۔ وہ کوئی واقعہ سنتا توا سے دلچسپ داستان میں ڈھال لیتا۔ ہر پندرہ بیس منٹس بعد وہ اپنے گاہکوں کی طرف موجودہ سیاسی و سماجی صورت حال پر فقرہ پھینکنا نہیں بھولتا تھا۔ یہ اسکی ایک ٹیکٹک تھی اس سے گاہک گرما گرم بحث میں الجھ جاتے ۔ اگر بحث لمبی چلتی تو سمجھو کہ چائے کا آرڈر دینا تو لازم ٹھہرا اور یہی بھائی شمس کی منشا تھی۔ ڈاکٹر ظہور جب اسکے ہوٹل میں نمودار ہوا تو وہ فریزر میں سے دودھ نکال رہا تھا اور ساتھ ایک اپنے اس وقت تک کے اکلوتے گاہک سے محو گفتگو تھا۔ مٹیالے رنگ کے شلوار قمیض میں مبلوس یہ ادھیڑ عمر شخص ماٹھے قدکا سرکاری نمائندہ تھا جو گلی میں کسی گھر کی ٹیلی فون کی شکائت دور کرنے آیا تھا اور شمش کی دوکان پر چائے پینے کو رک گیا تھا۔ چائے کا آرڈر دے کر جب اس نے اخبار اٹھایا تو پہلی خبر دیکھ کر ہی اس کے منہ سے گالی نکل گئی۔ بہن چ۔ یہ ساری قوم کو ہو کیا گیا ہے؟ جھوٹی افواہیں بھی اب فرنٹ پیج پر سرخیاں بن کر چھپنے لگیں؟  یہ معیار رہ گیا ہے صحافت کا؟ کیا ہوا بھائی صاحب؟؟ شمس نے اپنی قمیض سے ہاتھ پونچھتے ہوئے سرسری انداز سے پوچھا۔ وہی ہوا ہے جو اتنے دنوں سے ہو رہا ہے۔ وہ مسئلہ جسے تدبر اور تحمل سے سلجھانے کی ضرورت ہے اس پر سنسنی اور ہیجان پیدا کرنے کا آخر مقصد کیا ہے؟؟ اب ایسے اخبار بکا کریں گے؟ اس نے اخبار شمس کی طرف لہرا کر جلی حروف میں لکھی سرخی کی طرف اشارہ کیا۔ شمس نے جب یہ سنا تو اسے حیرت ہوئی اور کچھ عجیب بھی لگا کیونکہ آج کے دن یہ پہلا شخص تھا جس نے اس خبر کی تردید کی تھی وہ بھی اس خبر کی تردید جس کی توثیق ٹی وی اور اخبار کر رہے تھے۔ کیا بات کرتے ہو باؤ جی؟ لگتا ہے آپ ٹی وی نہیں دیکھتے یا آپکی اپنی اولاد نہیں ہے۔ شمس نے کھولتی چائے کو چولہے سے اتار کر دھار بنا کر کپ میں ڈالتے ہوئے فلسفیانہ انداز میں کہا۔ یہ جو تصویریں گھوم رہی ہیں۔ یہ جو سرغنہ پکڑے جا رہے ہیں یہ جھوٹ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے اشارے سے اپنے ملازم کو میز صاف کرنے کا کہا اور چائے کے کپ کے ساتھ کیک اور رس گلے ٹرے میں سجا کر اسکے سامنے رکھے۔
میں بالکل تردید نہیں کرتا ۔یقینا ایسے واقعات ہوئے ہوں گے۔ یا ہورہے ہیں لیکن ان کی نوعیت اور تعداد اتنی ہی ہے جتنی ان افواہوں، ٹی وی کی خبروں اوراخبار کی ان سرخیوں سے پہلے تھی۔ کیا اب تک تمہاری اس گلی میں کوئی واقعہ ہوا ہے؟ آدمی نے چائے نما جھاگ کا سپ لیتے ہوئے کہا جس نے کپ کا ایک تہائی حصہ ڈھانپ رکھا تھا۔ ابھی تک تو نہیں ہوا لیکن کبھی بھی ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی لوگ ان افواہوں سے چوکنے ہو چکے ہیں۔ ہر طرح کی احتیاط برتی جا رہی ہیں۔ شمس غیر متوقع جوابات سے سست پڑ گیا تھا یونہی اس نے ڈاکٹر ظہور کو آتے دیکھا اس کی آواز میں جان پڑ گئی ۔ یہ آگئے اپنے ڈاکٹر صاحب ان کے تو دو چار واقف کار ہیں ٹی وی میں ۔یہ بتائیں گے کہ کیا جھوٹ ہے اور کیا سچ۔یہ کہہ کر وہ چائے بنانے کے لیے مڑا جبکہ دوسری جانب لامتناہی گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ شمس نے اپنے فہم کے مطابق اس گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کی اور اس میں سے اپنے مطلب کے نتائج اخذ کرنے لگا، مثلاً موجودہ صورت حال کے ذمہ دار عوام خود ہیں کیونکہ وہ اپنی عسکری قوتوں کی ناقدری کرنے پر تلے ہوئے ہیں یا وہ بار بار کرپٹ سیاست دانوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
اتنے میں گلی میں ایک ہلچل پیدا ہوئی۔ سب کلام منقطع کرکے اس جانب متوجہ ہو گئے۔ چند لمحوں بعد لوگوں کی جھگڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کچھ دیر خاموشی اختیار کر کے سب نے صورتحال سمجھنے کی کوشش کی لیکن شور مسلسل بڑھ رہا تھا۔ سب اٹھ کر باہر بھاگے۔ کچھ لوگوں نے دو افراد کو گریبان سے دپوچ رکھا تھا۔ ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ ایک نے کالی جینز کے ساتھ سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ وہ گندمی رنگت لیکن خوش شکل اور دراز قد نوجوان تھا جبکہ دوسرا متوسط قامت نوجوان انگوری رنگ کی شلوار قمیض زیب تن کیے ہوئے تھا۔ انکی چھدرری داڑھیاں اور پتلی مونچھیں ان کی نو عمری کی چغلی کھا رہی تھیں۔ کیا ہوا؟۔ شمس تیزی سے آگے بڑھا۔ہونا کیا ہے؟ ایک آدمی نے غصے سے پینٹ والے کا گریبان جھجھوڑتے ہوئے کہا۔کتنی دیر سے میں ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ یہ گلی میں مشکوک حرکتیں کر رہے تھے۔ کبھی اس نکر سے اس نکر تک جاتے ہیں۔ کبھی اس نکر سے اس نکر تک جاتے ہیں۔ کبھی کہیں رک کر فون ملانے لگتے ہیں۔ کبھی وہاں رک کر آپس میں کھسر پھسر کرنے لگتے ہیں۔پھر ایک چھوٹے بچے کا پیچھا کرنے لگے ۔مجھے شک ہوا تو میں نے آواز دے کر بلایا۔ لیکن یہ بھڑوے پرے دوڑ نکلے۔ میں نے شور نا مچایا ہوتا تو یہ دونوں بھاگ نکلتے۔ بتاؤ اوئے کون ہو اور کر کیا رہے تھے؟ ۔ و و وہ۔ سفید ٹی شرٹ والا منمنایا۔ ہم تو سرجی! بس ایسے ہی گھوم رہے تھے۔ اوئے یہ تیرے باپ کا پارک ہے جہاں گھوم رہے تھے؟ جھوٹ بولتے ہو سالو! ۔ نا اس گلی میں پہلے تم کو کبھی دیکھا ، نا کوئی جان پہچان اور یہاں ٹہل رہے تھے؟ٹہل رہے تھے یا بچے اٹھانے کے چکر میں تھے؟سر جی ہمارا یقین کریں۔ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ہم بے ضرر لوگ ہیں۔ غلط فہمی کیسی؟ جب میں نے پیچھے سے آواز دی تو رکے کیوں نہیں؟۔ بھاگ کیوں اٹھے؟۔ سر وہ وہ دراصل۔۔۔ وہ۔ بس۔ ۔وہ ہم ڈر گئے تھے۔؟ ڈرنا تو تھا ہی تم نے۔ مجھے تمھارے مشن کی بھنک جو پڑ گئی تھی۔ سیدھی طرح اعتراف کرلو کہ تم لوگ اغواہ کار ہو اور بچے اٹھانے آئے تھے۔ نہیں سر جی۔ قران پاک کی قسم ایسی کوئی بات نہیں؟ہمیں لگا آپ کو معلوم پڑ گیا ہے۔ ہاں ہاں اب تو یہی کہو گے تم، پکڑے جو گئے ہو۔
بچے؟؟؟؟؟؟؟ بچے اٹھانے والے؟؟؟ ؟ بچے اغواہ؟؟؟؟ حاضرین ایک دم چونک اٹھے۔ چند لمحات تک پوچھ گچھ جاری رہی لیکن کوئی بھی تسلی بخش جواب نا ملنے پر سب کا فشار خون بلند ہونے لگا اور سب ان پر بل پڑے۔ لاتیں۔۔۔۔۔۔ گھونسے۔۔۔ مکے۔۔۔۔۔ تھپٹر۔۔۔ سب نے حسب توفیق اس قومی فریضے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔۔۔
جیسے جیسے ان کی ٹھکائی ہوتی رہی اتنی شدت سے ٹھکائی کرنے والے اس میں شامل ہوتے گئے۔ بات مزید بگڑی جب انگوری شلوار قمیض والے لڑکے کی جیب سے ایک چاقو اورپولی تھین کے چھوٹے سے بیگ میں لپٹا انگوری رنگ کا ہی ایک پھکی نما پاوڈر نکلا۔ یہ دیکھتے ہی سب کا غصہ مزید بگڑ گیا۔ ڈاکٹر ظہور نے فورا اپنے رپورٹر دوست کو فون کر کے تازہ خبر کا عندیہ بھیج دیا۔ ٹھیک پچیس منٹس بعد جب ٹی وی والوں کی وین پہنچی تو کیمرے دیکھ کر دم توڑتے شور میں دوبارہ جان پڑ گئی۔ ہر شخص کی کوشش تھی کہ اس کا انٹر ویو لیا جائے اور اسے موقع ملے واردات بتانے کا۔ ٹی وی رپورٹر خاتون نہایت عجلت میں تھی۔ اسے کسی بھی اور چینل کی وین پہنچنے سے پہلے یہ خبر بریک کرنا تھی۔ اس نے مجمع کو پرے ہٹایا اور مجرموں کی لائیو کوریج کرنے لگی۔ باقی لوگ بھی موبائل نکال کر دونوں کی تصویریں اور ویڈیو بنا رہے تھے۔ پینٹ شرٹ والا بے ہوش ہو چکا تھا۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ شرٹ کا سفید رنگ گرد اور خون سے دو رنگا ہو رہا تھا۔ انگوری سوٹ والا البتہ ہوش میں تھا۔ اور بری طرح رو رہا تھا۔ وہ ابھی بھی کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ایک تو اسکا دانت ٹوٹ گیا تھا اوپر سے گلا رندھ جانے سے اسکی آواز الفاظ کی شکل ڈھالنے سے قاصر تھی۔ بس یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بیٹھا بین کر رہا ہو۔ ویسے بھی کسی کو اس کے بیان صفائی میں دلچسپی نا تھی۔ چہرے کی چوٹوں سے خون رس رہا تھا جو اسکے خدوخال کو بھیانک منظر کے طور پر پیش کر رہا تھا۔رپورٹر خاتون نے آناََ فاناََ دو منٹس کا لائیو بیان نیوز سٹوڈیو میں ریکارڈ کرایا ، ڈاکٹر ظہور، شمس اور حاجی صاحب کے بیانانت ریکارڈ کیے اور یہ جا وہ جا۔ اب سب لوگ پولیس کا انتظار کر رہے تھے۔ لوگ بار بار پولیس کا نمبر ملا رہے تھے۔ شمس اس سے کچھ دور کھڑا مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا اور وقفے وقفے سے استہزائیہ نگاہوں سے سرکاری فون کے ملازم کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے پہلوان کشتی جیت کر چت پڑے مخالف کو دیکھتا ہے۔ سرکاری نمائندہ اس سے بے نیاز گم سم کھڑا واقعے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے زمین پر پڑے دونوں لڑکوں کا بغور جائزہ لیا۔ پینٹ شرٹ والا لڑکا اوندھا پڑا ہوا تھا۔ اسکی پشت کی جیب سے موبائل نیچے لڑھک رہا تھا ۔ اچانک موبائل کی رنگ بجی تو سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔ کسی نے تیزی سے لپک کر موبائل اچک لیا۔ اس کے ساتھ ہی جیب سے چھوٹا سا ایک تہہ شدہ کاغذ بھی باہر نکلا۔ ٹیلی فون والے نے غیر ارادی طور پر وہ کاغذ اٹھایا۔ شاید یہ بنک کی رسید تھی یا سودا سلف کی خریداری کا بل تھا۔ اس نے تہہ کھولی تو اس ایک تحریر درج تھی۔ اس نے تحریر پر تیزی سے نگاہ ڈالی۔ ہجوم کو متوجہ کیا اور بلند آواز سے پڑھنے لگا۔
میری جان کے قریب تر امجد!
میں جانتی ہوں کہ تم مجھ سے بہت پیار کرتے ہو۔ ایک ہفتے سے میری گمشدگی پر تمہاری پریشانی کا سبب بھی تمہاری یہ محبت ہی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ابا نے مجھ سے موبائل فون چھین کر مجھ پر ہر طرح کی پابندی لگا دی ہے کیونکہ انہیں ہماری محبت کے بارے میں سب علم ہو چکا ہے اور وہ شدید غصے میں ہیں۔ انہوں نے مجھے سکول سے بھی اٹھا لیا ہے۔ یہ سب اس پھرتی سے ہوا کہ میں تمہیں اطلاع بھی نا کر سکی۔ یہ تو بھلا ہو میری دوست انعم کا جس نے تمہیں میرا ایڈریس دیا اور آج ہم دور سے ہی سہی لیکن ایک دوسرے کا دیدار تو کر سکے۔ لیکن ابھی ہمیں احتیاط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے مجھ سے اگلی ملاقات کی جلدی تمنا نا کرنا۔ میں انعم کے ذریعے تم سے دوبارہ رابطہ کروں گی۔ میرے امجد! تم نے جس طرح مجھ تک پہنچنے کے لیے آج صعوبتیں اٹھائیں اور پوچھتے پچھاتے میرا مکان ڈھونڈ لیا اس نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ مجھے اب تمھاری محبت پر کسی قسم کا شک نہیں رہا۔ گھر پہنچ کر انعم کے ذریعے اپنا حال دل پہنچانا۔اور ہاں! میری طرف سے اپنے دوست کا شکریہ ادا کر دینا۔۔ خدا اسے خوش رکھے۔
میں تمھیں بہت یاد کروں گی۔
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوبکر جانا ہے
فقط تمہاری
ثمینہ امجد

Views All Time
Views All Time
511
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   چاند پر موت-ڈاکٹر بلند اقبال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: