مگر مچھ کے آنسو

Print Friendly, PDF & Email

aamir Hussaini
ہر طرف موت سے ڈرایا جارہا ہے اور زندگی کی گہما گہمی میں موت کی لغات بار بار اٹھا کر دیکھی جارہی ہے اور کوئی بھی اس کی آنکھوں میں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہیں پاتا اور سب ہی چاہتے ہیں کہ ایسے ‘سچے ‘ بنیں جس سے ‘ضرر ‘ کوئی نہ پہنچے اور صاف صاف کہوں تو یوں لگتا ہے کہ سبھی رند کے رند رہنا چاہتے ہیں اور ہاتھ سے جنت بھی نہیں جانے دینا چاہتے اور مجھے ایسے شاعروں ، ادیبوں ، دانشوروں کی کمی نظر آ رہی ہے جو شورش زنجیر اور شورش مقتل کی صداؤں کو سنکر ‘بسم اللہ ‘ کہتے ہوئے میدان میں اتر آئیں اور اپنے لفظوں کی تراش خراش کرتے ہوئے وہ مصلحتوں کے شکار نہ ہوں ، کسی کی حقیقت باطلہ کو ابہام کے پردوں میں گم کرنے والے نہ ہوں اور حق کے علم کو اپنا علم کہنے سے شرماتے نہ ہوں اور موت کے خوف سے تھرتھر کانپنے اور لرزنے والے نہ ہوں بلکہ شاعر ہوں تو ان کے قافیے سچے ہوں ، فکشن لکھنے والے ہوں تو ان کی کہانیوں کے کردار معاشرے میں چلتے پھرتے نظر آتے ہوں اور ان کہانیوں میں ظالموں کو مظلوم نہ بنایا گیا ہو اور لوگوں کو مقصدیت سے بیزار کرنے والے نہ ہوں اور جو ‘ سچ ‘ سب سے زیادہ پامال ہورہا ہو اس کی پامالی کے خلاف ان کے احتجاج کی صدا سب سے بلند ہو ، موت سے ڈرانے والے اگر مذھب پسند ہیں تو مجھے حیرت اور ہوتی ہے کہ ان کا رب تو اپنی کتاب میں موت سے ظالموں ، غاصبوں ، ملاء الارض ، قاتلوں ، فسادیوں کو ڈراتا ہے اور ان کے لئے حیات اخروی ان کے لئے الم ناک عذاب بتلاتا ہے اور جو اس کے راستے پہ چلتے ہیں ، مظلوم ، بےکس ، محکوم ہوتے ہیں اور ظالموں سے سمجھوتہ نہیں کرتے ان کے لئے ‘لا تحزن ‘ اور ان کے لئے دودھ و شہد کی نہریں رکھنے والی جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے اور یہاں تک کہتا کہ وہ اطمینان نفس رکھنے والے ہوتے ہیں اور وہ جو ‘مابعدالطبعیات ‘ پہ یقین نہیں رکھتے اور ان کے ہاں اخروی حیات کے کوئی معنی نہیں ہوتے وہ بھی نعرہ انا الحق کی بات کرتے ہیں اور ‘موت ‘ کی تزئین و آرائش کرتے ہیں اور ظالموں کے لئے دار رسن اور عذاب کے وقوع ہونے کا یقین رکھتے ہیں اور یہیں اس قیامت کے بپا ہونے کا زکر کرتے ہیں جس میں ظالم اپنے ظلم کا صلہ پائیں گے اور مظلوم اپنا حق – لیکن یہ کیسا زمانہ آگیا ہے کہ موت کو حق پسندوں کے لئے خوشخبری کی بجائے ‘ڈرانے ‘ کا سامان بنادیا گیا ہے اور بے معنی زندگی کی چاہ اتنی بڑھی ہے کہ ذلت و مسکنت کو گلے سے لگائے جانے کی باتیں عام ہوگئیں ہیں
جاپانیوں اور چینیوں کے ہاں بہت قدیم عرصے سے ‘موت کی شاعری ‘ کی روایت چلی آرہی ہے اور اسے ان کے بدہسٹ رہنماؤں نے بہت کمال تک پہنچایا کیونکہ ان کے ہاں موت ایک اور ایسی حیات کا دروازہ کھولتی ہے جس میں دکھ بھوگنے نہیں پڑتے اور عجیب بات یہ تھی کہ یہ موت کا نام نہ لیتے مگر موت پہ نظمیں لکھتے تھے اور اس کے لئے ‘ غروب آفتاب ‘ ، زوال شمس ، خزاں ، رات جیسی اصطلاحیں استعمال کرتے تھے، جاپانی فوج کا ایک جنرل جب میدان میں جنگ ہار گیا تو اس نے ایک خط میں ایک ایسی ‘ موت کی نظم ‘ کہی کہ اسے آج بھی پڑھا جائے تو خون ابلنے لگتا ہے ، وہ کہتا ہے ،
ہم اس مادر وطن کے لئے وہ’فرض ‘ ادا نہ کرسکے
تمام گولیاں ، تمام تیر سب خرچ ہوگئیں اور ہائے !ہم گرگئے
مگر میں اب بھی دشمن کو ہرا سکتا ہوں
مرا جسم کسی کھیت مین پڑا خراب ہونے والا نہیں
ہاں ، ہاں ! میں سات مرتبہ بھی لینا پڑا جنم تو لوں گا
تلوار سونت لوں گا
جب اس جزیرے پہ بدصورتی اعمال قبضہ کرلے گی
اور اک دن پھر ہم اس جزیرے کو واپس لیں گے
اور ایک اور شاعر کہتا ہے
رات کے ایک مختصر سے وقت میں طوفان آیا تھا
اور کہتا تھا
ہمارا گرنا اس پھول کا جوہر ہے
جو ہچکچانے والوں کو پیش کیا جاتا ہے
یعنی ڈرنے اور تذبذب میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے اور خزاں آتی ہے تو آنے دو یہ بہار کی خبر بھی لاتی ہے اور پھر یہ بات بھی ہے کہ جب سب ہی خاموشی کے شیدا ہوجائیں اور ظالموں کے سامنے کسی کو آواز اٹھانے سے ڈر لگنے لگے تو ایسے میں ایک بڑی بلند آہنگ آواز کا تقاضا ہوتا ہے جو بولتا ہے اور خوب بولتا ہے اور اس ‘ان ہونی ‘ کو ‘ہونی ‘ میں بدلتا ہے جسے سب کار محال سمجھتے تھے –اگر تہمت رفض نہ لگے تو کہوں کہ جب کربلاء میں سب سے بلند آواز کو گرالیا گیا اور سب ‘ تہس نہس ‘ کردیا گیا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا اس سے آگے زینب نام کی عورت وہ کرے گی کہ اسے ‘ کار زینبی ‘ کہہ کر پکارا جائے گا اور کیا اموی حاکموں کے وہم و گمان میں تھا کہ کمیت بن اسیدی کی شاعری سے آدھا زور رہ جائے گا – ماضی قریب میں محمود درویش نے صہیونیوں کو للکارا ، ناظم حکمت نے ترکی میں ‘موت ‘ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور چلّی میں پابلونرودا نے یہی کیا اور شام میں نزار قبانی نے بھی اپنے رومانس کے اندر سے ہی بغاوت اور مزاحمت برامد کرلی تھی اور آج بحرین کے ایک نوجوان لڑکی کی شاعری خلیفہ کے اقتدار کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کا سبب بن رہی ہے اور آل سعود کے تخت کو ‘نمر’ کی سولی نے ہلادیا اور ماضی میں یہ بھگت سنگھ تھے جو سولی شناس کیا ہوئے برطانوی سامراج کو غرقاب کے قریب پہنچا دیا تھا اور آج جہاں میں سانس لیتا ہوں تو یہاں جھوک ٹھٹھہ میں شاہ عنایت نے پہلا کمیون بناکر مغلوں کی بادشاہت کو لزرا دیا تھا اور پھر حسن ناصر ، نذیر عباسی ، رزاق جھرنا ، ادریس طوطی ، ایاز سموں ، سلمان تاثیر ، شہباز بھٹی ، راشد رحمان نے موت سے نہ ڈرنے کی روایت کو آگے چلایا اور میں پوچھتا ہوں کا اس صف میں ‘ خرم زکی ‘ کو نہ رکھنے میں کیا امر مانع ہے ؟ اس نے کونسے اختلاف کا دروازہ بند کیا تھا ؟ اس نے ایک بیانیہ کی کھل کے مخالفت کی تھی اور بیانیہ وہ تھا جس میں فسطائيت ہر اختلافی آواز کو خاموش ہی موت سے کرانا چاہتی تھی اور اس نے فرعونوں ، شدادوں کو ان کے قلعوں کے سامنے جاکر للکارا تھا ، اگر وہ کہیں قارونوں کو نہیں للکار پایا تھا تو سبھی کام اس کے زمے تو نہ تھے ، اسے وقت ملتا تو قارونوں کو بھی وہ للکارتا لیکن اس نے شداد اور فرعون و بلعم باعور کو للکارنے سے پہلے اپنا سب کچھ خرچ کرڈالا تھا اور درویشی کے ساتھ اس نے یہ کام سرانجام دیا تھا اور اس کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس کے مرنے پہ فرقہ پرستوں نے
خس کم جہاں پاک
جیسے پوسٹر بناکر اپنے اندر کی آگ کو باہر لاکر سب کو دکھادیا کہ وہ کیسے دشمنوں کے سینے پہ مونگ دلتا رہا تھا ، مجھے خرم زکی پہ فخر ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کا کوئی ‘ سپانسر ‘ تاجی کھوکھر ، ملک ریاض ، رانا ثناء اللہ ، کوئی انکل ٹام ، کوئی لبرلیانی ، کوئی ڈھونگی ملحد نہیں نکلا بلکہ اس کے مددگار اگر سامنے آئے بھی تو وہ ہیں جن کا دامن نچوڑیں تو فرشتے وضو کریں
یہاں میں علی رضوی کے الفاظ جوں کے توں درج کرتا ہوں کیونکہ علی رضوی نے لکھ کر قلم توڑ ڈالا ہے
جو بھی خرم زکی کی یاد کو سینے سے لگاکر بیٹھیں ہیں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان ‘منافقین ‘ اور ‘ پیٹھ میں چھرا گھونپ ‘ کی خبر لیں جنھوں نے اس سے اس وقت غداری کی جب وہ زندہ تھا – زرا اس تحریر کو دیکھیں جو ان جملوں سے شروع ہوتی ہے
” مجھے خرم سے کافی سارے اختلاف تھے ۔۔۔۔۔ لیکن اب میں اس کی شہادت پہ مگرمچھ کے آنسو بہاتا ہوں ، اس کی جدوجہد کو چھپاتا ہوں اور اس کی شہادت کو ہائی جیک کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔”
خرم زکی کی شہادت کے بعد اس کے خون کے حقوق اپنے نام لکھوانے والوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی ہے اور علی رضوی کہتے ہیں
یہ دوڑ اشرافی کمرشل لبرل کے ایک حصّے میں لگی ہوئی ہے ، یہ وہ اشرافیہ ہے جس نے پاکستان کے اندر انسانی حقوق کے انتہائی سلگتے ایشوز پہ مٹی ڈال کر بہت پیسے کمائے ہيں – جب خرم زکی زندہ تھا ، تو بار بار انھوں نے اس کے تعمیر پاکستان بلاگ کے پلیٹ فارم سے پیش کئے جانے والے ڈسکورس کو مسخ کیا
اور یہ پیغام ان کمرشل لبرل اور ان کے پیادوں کے لئے ہے جنھوں نے انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے نام پہ تمام نوکریوں پہ قبضہ کیا اور خوب نوٹ چھاپے
خرم زکی لیٹ اس بلڈ پاکستان – تعمیر پاکستان بلاگ کا ایڈیٹر تھا – وہ بلاگ جسے تم لوگوں نے خوب گالیاں دیں ، اس کے خلاف شکایات درج کروائیں اور اس کے خلاف تم لوگوں نے طاہر اشرفی سے ہاتھ ملائے- تم لوگوں نے ایل یو بی پی کے ساتھ منسلک لوگوں کی شناختوں کو مشتہر کیا ، تم نے ان کو ‘ بے اعتبارا ‘ کہا اور مشتعل کیا کہ وہ قلمی ناموں کا استعمال ترک کریں اور اپنے آپ کو دہشت گردوں کے لئے نرم چارہ ثابت کردیں- تم نے ہزاروں پاکستانیوں کے خون کو بیچا اور ایل یو بی پی کی طرف اپنی توپوں کے دھانے کھول دئے جس نے تمہارے کمرشل ، بددیانت ایکٹوازم کا پول کھول دیا تھا
خرم زکی کے قاتل تکفیری دیوبندی ہیں ، لیکن تم بھی اس کی شہادت کے برابر زمہ دار ہو ، ایسے ہی جیسے قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں جنھوں نے مخصوص آپریشن کئے ہیں اور شیعہ مخالف تکفیری گروپوں کو ڈھیل دے رکھی ہے اور تم میں سے کچھ نے طاہر اشرفی کی خرم زکی اور ایل یو بی پی کے خلاف ‘نفرت انگیز ‘ مہم میں سرگرمی سے تعاون کیا
علی رضوی نے تو یہاں قلم روک دیا ، میں اس سے آگے جاتا ہوں کہ ابھی خرم زکی کے خلاف اس کمرشل لبرل مافیا کے جرم کا باب بند نہیں ہوا ہے ، ابھی تو یہ ، یہ کہنے والے ہیں کہ خرم زکی کو مروانے میں ایل یو بی پی سمیت ان سب لوگوں کا کردار تھا جنھوں نے ‘ طالبان ‘ سمیت سب کے سب تکفیریوں کو محض ‘ پراکسی ‘ ماننے سے انکار کیا اور اسے ایک بڑا نظریاتی اور ٹھوس سماجی بنیادیں رکھنے والا چیلنچ قرار دیا اور انھوں نے اسے ملٹری اسٹبلشمنٹ کی ‘ پراکسی ‘ ماننے سے انکار کردیا – گویا بلا تشبیہ و تمثیل بس برسبیل تذکرہ وہ اس ہی طرح کی مثال پیش کررہے ہیں کہ جنھوں نے کہا تھا کہ ‘ یاسر ‘ کو باغی قبیلے نے قتل نہیں کیا بلکہ اس کی قتل کی زمہ داری ان پہ ہے جن کی صفوں میں کھڑے ہوکر وہ لڑرہے تھے ، ایسے تو میثم تمار سے لیکر حجر بن عدی تک اور آگے کربلاء میں 72 جان جو شہید ہوئے ان کے قتل کے زمہ دار وہ تھے جن کے کیمپ میں وہ شامل تھے اور اگر آپ کو یہ قدیم حوالے فرقہ پرستانہ لگتے ہوں تو عصر حاضر کی مثال لیں – مرتضی بھٹو کی شہادت ہوئی تو جنھوں نے مارا تھا سب سامنے تھا لیکن کٹہرے میں بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کھڑے کردئے گئے ، بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تو کٹہرے میں آصف زرداری سے لیکر پی پی پی کیمپ کا ہر جانثار کھڑا کیا گیا ، یہ آج کا چلن نہیں کہ قاتلوں اور ان کے معاونوں کا ٹرائل کرنے کی بجائے مقتولوں اور ان کے ساتھیوں کا ٹرائل شروع کردیا جائے – مجھے علی عباس تاج سے ہمدردی ہے کہ وہ اپنے کامریڈ کے قتل پہ تعزیت وصول کرنے کے ساتھ ساتھ خرم زکی کے کاز کی ان کی زندگی میں سب سے زیادہ مخالفت کرنے والوں کی لعن طعن بھی وصول کررہے ہیں
منصور آفاق نے شاید اسی کیفیت کے بیان کے لئے یہ غزل کہی تھی
کچھ تلاش آپ ہی کئے ہیں سانپ
کچھ نصیبوں نے بھی دئیے ہیں سانپ
گفتگو زہر سے بھری ہی نہیں
سر پہ دستار بھی لئے ہیں سانپ
چھائوں کو ڈس رہے ہیں شاخوں سے
دھوپ کے سرخ زاویے ہیں سانپ
شام ہوتے ہی چاٹتے ہیں دل
بس وہ دوچار ثانیے ہیں سانپ
پھر کہا خواب سے سپیرے نے
اور اب کتنے چاہیے ہیں سانپ
بھر گیا زہرِغم سے اپنا دل
یعنی یادوں کے بھی دئیے ہیں سانپ

Views All Time
Views All Time
846
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   "جستجو‘ علم‘ زندگی اور اقرار کا سرمدی نغمہ" | حیدر جاوید سید

2 thoughts on “مگر مچھ کے آنسو

  • 14/05/2016 at 6:36 شام
    Permalink

    یه جو تحریر آپ نے رقم کی هے….
    باخدا اس نے سوچ خم کی هے…
    کیسے اس پر میں چپ رهوں که کهوں….
    خوں سے لبریز آنکھ، نم کی هے….

    تحریر پڑھ که فالبدیح قطع عرض خدمت هے……

    علی عمران زیدی…

    Reply
  • 14/05/2016 at 8:30 شام
    Permalink

    اک چراغ اور جلا

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: