Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

وطن کی مٹی گواہ رہنا

by اگست 14, 2016 بلاگ
وطن کی مٹی گواہ رہنا
Print Friendly, PDF & Email

zari ashrafسارے محلے کے بچے اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی جھنڈیاں بنانا شروع کر دیتے تھے اور پھر بارہ اور تیرہ اگست کو جھنڈیوں سے پوری گلی سجانا اور جس کے گھر بچے نہیں ہوتے تھے ان کے گھر بھی اپنی طرف سے ترس کھا کے کچھ جھنڈیاں لگا دینا بہت سالوں تک معمول رہا۔
پھر بچوں کو سبز قمیض اور سفید شلوار پہنانا ۔صبح جلدی اٹھانا، تیار کرنا اور 7 بج کر 59 منٹ پر پی ٹی وی پر نشر ہونے والے قومی ترانے میں شامل کرنا اور بہت شوق سے اونچی آواز میں ترانہ پڑھنا معمول ہوا کرتا تھا۔ یہ بہت پرانی نہیں پر اس زمانے کی بات ہے جب سب ایک دوسرے جانتے بھی تھے اور پہچانتے بھی محلے کا کوئی بزرگ گلی میں نظر آتا تو جوان اور بچے یا تو سلام کرکے سائیڈ پر ہو جاتے یا پھر سامنا کرنے سے کتراتے تھے ۔بزرگوں سے نظریں جھکا کے بات کرتے تھے اور کبھی بڑوں کے برابر میں نہیں بیٹھتے تھے۔ اگر کوئی بڑا کسی بھی بچے کو کسی الٹے کام سے منع کرتا تو بچے بھی منع ہو جاتے تھے اور گھر والے بھی اس بات کا برا نہیں مناتے تھے۔۔
وقت کی بھی قدر تھی اور انسانوں کی بھی وقعت ہوا کرتی تھی۔بچے سب کےے سانجھے تھے اور بیٹیاں سب کی بیٹیاں ہوا کرتی تھیں۔پھر ہم نے ترقی کرنا شروع کی۔ وقت بدلا، حالات بدلے اور ہم بھی بدل گئے۔نہ وہ قابلِ احترام بزرگ رہے اور نہ وہ فرمانبردار بچے۔ہم پتا نہیں کون سی ترقی میں پڑے کی تنزلی کی طرف جانے لگے۔وہ بچے جو سر شام مل کے گلیوں میں کھیلا کرتے تھے پتا نہیں کہاں گم ہو گئے اور افراتفری والی زندگی میں داخل ہونے لگے۔
ہم نے اپنے بچوں سے نہ صرف اقدار چھینی ہیں بلکہ ان کا بچپن اور معصومیت بھی ملیا میٹ کردی ہے۔
گلی ڈنڈا،باندر کلا،کوکلا چھپاکی،آنکھ مچولی سب چھین کے ان کے سامنے ٹی وی اور موبائل رکھ دیے ہیں۔رشتوں سے دور ہوتے ہوتے بچے ماں باپ سے بھی کترآنے لگے ہیں۔جیسے ہم پیسے کی دوڑ میں شامل ہوئے ہمارے بچے بھی اسی سوچ کی طرف مائل ہونے لگے ۔قصور وار بچے نہیں ہم ہیں جو سہولتوں اور بہتری کے چکر میں پتا نہیں کس گھن چکر میں پڑ گئے ہیں۔اور اب تو کمال ہو گیا اغوا کاروں کے خوف سے بچوں کا گھومنا پھرنا اور بازار تک جانا ناممکن ہو گیا ہے۔
سہمے ہوئےچھوٹی سی عمر کے بچے جب پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کے محلے میں بھی بچے پکڑنے والے آتے ہیں تو یقین مانیں کہ روح تڑپنے لگتی ہے کہ ہم بلاخوف و خطر سارے گاوں میں بھاگے پھرتے تھے اور ان معصوموں کو ابھی سے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔آخر ماں باپ کتنی نگرانی کریں؟ زندہ انسان کو کہیں آنا جانا کھانا پینا اور شادی غمی نبھانا پڑتی ہیں۔ پراب تو لگتا ہے کہ ہم سارے کام چھوڑ کر اگر اپنے بچے ہی پال لیں تو ایک جہاد ہو گا۔نہ کسی رشتے پہ اعتماد کر سکتے ہیں نہ استاد پہ۔نہ گلی میں بچے محفوظ ہیں نہ سکول اور مدرسے میں۔اگر جنسی تشدد سے بچ گئے تو اغوا کاروں کا خوف ہے۔ بے فکری کی عمر کے سہمے ہوئے بچے کون سی آزادی منائیں اور کہاں جائیں؟ آخر حکومت جو شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کی ذمے دار ہے وہ کب خواب خرگوش سے جاگے گی اور کب اس کرب اور اذیت کو محسوس کرے گی جس سے اغوا یا گم ہونے والے بچے کے ماں باپ گزرتے ہیں۔۔۔کیا اہل اقتدا رکبھی زندہ انسانوں کا بھی سوچیں گے یا صرف راستوں اور راہداریوں کی ہی حفاظت کے فیصلے کریں گے ؟ تو اگر انسان ہی نہ بچے پھر کون ان راستوں پہ چلے گا اور یہ کس پہ حکومت کریں گے ؟ سوچئے گا ضرور۔۔۔

Views All Time
Views All Time
1145
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: