کرپشن ہمارا قومی المیہ

Print Friendly, PDF & Email

baba haqqaبابا حقّا آج بہت دُکھی تھا۔ وہ وطن عزیز میں جاری لوٹ کھسوٹ سے تنگ دکھائی دے رہا تھا۔
آج اس نے سبھی چیلے چانٹوں کو بھی بھگا دیا تھا۔ اپنے حُقے کو تازہ کرکے گہرے گہرے کش لگاتے ہوئے وہ گہری سوچ میں گم تھا۔ اس کے چہرے کی جھریوں کے بنتے مٹتے نقش و نگار اس کے ذہنی خلفشار کا پتہ بتا رہے تھے۔ آج وہ اپنے آپ سےہمکلام تھا۔ آج صبح صبح بابے کا پرانا یار عاطف اقبال چودھری آیا بیٹھا تھا۔ اس نے بابے سے بڑی تلخ گفتگو کی تھی۔ چودھری پوچھتا تھا ـــــ
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک اور بد ترین ممالک میں کیوں‌ ہوتا ہے؟
پاکستان کی حیثیت ایک ایسے بڑے کڑاہے کی مانند ہے جس کے اندر گند گی کا لاوا اُبل رہا ہو۔ اس غلیظ لاوے کے اجزا کرپشن، سفارش، لالچی سیاستدان وجرنیل، رشوت خوری اور انتہاپسندی دکھائی دیتے ہیں اور یہ کرپشن اور جرائم اُوپر سے لیکر نچلے لیول تک موجود ہیں۔ سیاستدان جب طاقت میں آتے ہیں وہ اکنامک پالیسز کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے تروڑمروڑ دیتے ہیں، مُلکی خزانے کو اس بے دردی سے لُوٹتے ہیں جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی نہیں لُوٹا تھا۔ یہ بدمعاش روایتی سیاستدان اپنے اثرورسوخ کی بنیاد پربنکوں سے بھاری قرضے حاصل کرتے ہیں اورپھر ان بھاری رقوم کو بیرون ملک بنکوں میں بنائی ہوئی اپنی زنبیلوں میں چھپالیتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ، یواے ای، سنگاپور، برٹش ورجن آئی لینڈز اور پانامہ جیسے ممالک میں ان کے کھُلے اکاؤنٹس عمرو عیار کی زنبیل سے کسی بھی طرح کم نہیں جو غریب کی ایک دن کی کمائی سے پی آئی اے اور سٹیل مل جیسے دیو ہیکل ادارے ہڑپ کر جاتی ہے۔ ایم سی بی اور مہران بینک دکھائی نہیں پڑتے۔ فارن ریزروز اور قرض اتارو ملک سنوارو سے بدہضمی نہیں ہوتی۔ بس لُوٹتے جاؤ اور زنبیل میں ڈالتے جاؤ!
اندرون ملک اپنے تنخواہ دار چارٹرڈ اکاونٹنٹس، وکلاء اور فنانشل ایکسپرٹس کی مدد سے بنکوں کو رو پیٹ کر دکھائیں‌ گے کہ ہماری ساری رقم ڈوب گئی ہے، ہماری اتفاق فاونڈری دیوالیہ ہوگئی ہے وغیرہ وغیرہ اور بیرون ملک ان کے فیگرز فائیو ڈیجیٹ سے سکس اور سکس سے سیون میں کنورٹ ہوتے جاتے ہیں۔
لوٹ کھسوٹ تو ایسے ہے جیسے ہمارا قومی کھیل ہو۔ بنکوں کو رکھیل بنا کر انہوں نے قومی پیسے کوبے دریغ لوٹا ہے اور یہ لوٹ مار جاری وساری ہے۔ مُلکی اداروں کو لوٹنا ہو یا دہشتگردوں کی افزائش نسل کرنی ہو، کک بیکس کانظام سیم و زر تشکیل دینا ہو یا اختیارات کے ناجائز استعمال سے حکومتی اثاثوں پر قبضہ جمانا ہو، ہمارا نظام ان ناپاک کاموں کیلئے جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جی ہاں! وطن عزیز میں اربوں روپے رشوت اور کمیشن کی مد میں ہڑپ کر کے سمندر پار بھیجے جاتے ہیں۔ اس کارِخیر میں سیاستدان اور جرنیل دنوں ملوث رہے ہیں۔ بیرون ملک میں جائیدادیں خرید کرنا، بنک اکاونٹس کھولنا اور فرضی کمپنیوں کی تشکیل کرنا کوئی انہونی نہیں ہے بلکہ یہ اب ہمارے کرپٹ سسٹم کا ایک فیشن سمبل بن چکا ہے۔ دوسری طرف بیوروکریسی میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بیرون ملک اکاؤنٹس میں رشوت کا پیسہ ڈالتے ہیں۔ ایک میٹر ریڈر، پٹواری، تحصیلدار، تھانیدار، ہسپتال کا ایم ایس غرضیکہ ہر وہ شخص جس کا کبھی بھی کوئی مضبوط وراثتی جائیداد کا بیک گراؤنڈ نہیں تھا، آج ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کے ولاز میں رہتے ہیں اور دیانتداری کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ملک میں ایک اییٹب کرپشن ادارہ بنا تو دیا گیا ہے مگر حشراس کا بھی نمبردار کی رکھیل جیسا ہے جس سے تعلق داری ہمیشہ رات کے اندھیرے میں نبھائی جاتی ہے جبکہ دن کے اجالے میں اسے پہچاننے سے بھی انکار کر دیا جاتا ہے۔ اسی ادارے کے بارے میں زبانِ زدِ عام ہے کہ رشوت لے کر پکڑے گئے ہیں،رشوت دے کرچھوٹ جائیں‌گے۔
ایک اندازے کے مطابق 100 بلین ڈالرز سے زائد رقوم پاکستانی سیاستدانوں، بیوروکریٹس اورجرنیلز کی بیرون ملک بنک اکاونٹس میں موجود ہیں۔
عمران خان اس ہجوم کے لیے ایک آخری امید ہے۔ اس نے ترقی یافتہ قوموں سے مرعوب ہوئے بغیر ان سے دو بدو مقابلہ کیا ہے اور ان کے نظام کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ فلاحی ریاست کی بات کرتا ہے۔ وہ نظام کی تبدیلی کی بات کرتا ہے۔ لیکن میرا عمران خان سے سوال ہے کہ کیا نظام تبدیل کرنے کیلئے چہروں کی تبدیلی بھی ضروری نہیں؟ کیا عمران خان اس نہج پہ بھی سوچنے کی کوشش کرے گا؟ کیا عمران خان ایک ناکام وزیر اعظم بننا چاہے گا یا تبدیلی کا ایک نشان، جس پر آنے والی نسلیں بھی فخر کر سکیں؟
بابا حقّا انگوٹھا چھاپ

Views All Time
Views All Time
542
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تخت یا تختہ کے کھیل کی شروعات | حیدرجاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: