Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کرپشن، بدعنوانی اور ٹیکس چوری کی گندی نالیاں

by اگست 17, 2016 کالم
کرپشن، بدعنوانی اور ٹیکس چوری کی گندی نالیاں
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikh newسرمایہ دار کی ایک مخصوص ذہنیت ہوتی ہے وہ کبھی کاروبار کی وسعت بارے نہیں بتاتا بلکہ جب بھی کہیں کوئی کاروباری گفتگو ہوتی ہے وہ نقصان اور تنزل کی ہی بات کرتا ہے۔ ایک ایسی ہی کہانی زبان زد عام ہے- ایک تاجر کہہ رہا تھا یار اس دفعہ دس لاکھ کا نقصان ہوگیا ہے۔ دوست نے پوچھا کیوں تو اس نے بتایا کہ سیلابوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس دفعہ کاروباری سرگرمیاں ہی بہتر نہیں ہوئیں۔ گذشتہ سال تیس لاکھ منافع ہوا تھا لیکن اس دفعہ یہ ایک تہائی کم ہوگیا‘ دوست حیران ہوا اس نے کہا کہ بیس لاکھ تو پھر بھی منافع ہی تھا تو تاجر نے یہ تمہاری سوچ ہے۔ ہماری نہیں ہمارے لئے دس لاکھ کا نہیں بیس لاکھ کا نقصان ہے‘ تیس لاکھ کے منافع میں دس لاکھ کا مزید اضافہ بھی تو سالانہ ہونا تھا دوست حیران ہوا اور اس ذہنیت پر آنسو بہاتا اٹھ کر چلا گیا لیکن سرمایہ دارانہ ذہنیت میں یہی ترقی کا راز ہے-یہ تو اب پاکستان کے صنعتی کلچر کا بنیادی اور اہم جزو ہے کہ کارخانہ دار اور فیکٹری اونر ریاست اور حکومت سے سہولتیں تو حاصل کرتے ہیں لیکن ریاست کو ٹیکس کی صورت کچھ دینے کو تیار نہیں ہمیشہ نقصان کا ہی ذکر ہوتا ہے لیکن وہ اس ٹیکس چوری سے ہر سال ایک نئی فیکٹری لگا لیتا ہے اور پھر اس کے لئے بینکوں سے قرض بھی حاصل کر لیتا ہے اور بینک اپنے منافع کے حصول کی غرض میں یہ قرضے فراہم کر دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے بینکوں کی علیحدہ علیحدہ انٹرسٹ کی شرح ہوتی ہے اور یہ مارکیٹ ویلیو بلکہ کمپنی اور ادارے کی ساکھ پر مقرر کی جاتی ہے- لیکن کچھ صنعتکار اور سرمایہ دار ایسے بھی ہوتے ہیں جو یا تو خود سیاستدان ہوتے ہیں یا پھر انہوں نے سیاست میں بھی سرمایہ کاری کی ہوتی ہے اور یہ سرمایہ کاری محض ایک سیاسی جماعت پر نہیں اقتدار تک رسائی حاصل کرنے والی ممکنہ دونوں جماعتوں پر ہوتی ہے۔ ہم نے گذشتہ ادوار میں وہ کئی مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں جب ایک ہی سرمایہ دار پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے مؤثر امیدواروں پر سرمایہ کاری کیا کرتے تھے۔پچھلے انتخابات میں ایسی ہی روش پنجاب میں نون لیگ اور تحریک انصاف پر سرمایہ کاری میں نظر آئی تھی لیکن پھر ہم نے تحریک انصاف پر سرمایہ کاری کرنے والوں کو کف افسوس ملتے ہوئے بھی دیکھا ۔اس کو یہ گلہ تھا کہ اسے غلط تاثر دیا گیا اور بتایا گیا تھا کہ کامیابی دروازے پر کھڑی دستک دے رہی ہے اب صرف دروازہ کھلنے کی دیر ہے لیکن وہ بھول گئے اس طرح کے دروازوں پر بغیر اجازت اندر آنا منع ہے بھی لکھا ہوتا ہے اور پھر جب تک دروازہ اندر سے نہ کھلے کوئی د اخل نہیں ہوسکتا البتہ احتیاطاََ ایک بیک ڈور بھی ہوتا ہے-
دوستو! سرمایہ دار اور صنعتکار سیاست اور سیاستدانوں پر سرمایہ کاری اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ایوانوں میں پہنچ کر ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے ایسے قوانین نہیں بننے دیں گے جو سرمایہ دار اور سرمائے کو براہ راست زک پہنچا سکتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی معیشت میں کالے دھن کو جتنی ترقی ملی ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتی۔ دلچسپ بات یہ ہے اس ترقی کو عروج کی بلندیوں پر سرمایہ داروں کی حکومت میں ہی دیکھا گیا ہے جو اسی فیصد تک پہنچ گئی ہے- بہرحال سرمایہ دار منافع اور مفاد کی امید اور یقین دہانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں کرتا، نہ رسک لیتا ہے نہ جوا کھیلتا ہے- سرمایہ داروں‘ صنعتکاروں اور تاجروں کی حکومت میں اگر کوئی مطمئن ہے تو وہ سرمایہ دار اور تاجر ہی ہیں نچلے اور درمیانے طبقے کے نہیں’’اپرکلاس والے‘‘ جو ٹیکس کی ادائیگی بھی پوری نہیں کرتے اور سیاستدانوں کے ذریعے اپنے بینک قرضے بھی معاف کروا لیتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے تیزی سے ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھتی ہوئی سرمایہ داروں اور تاجروں کی حکومت نے گذشتہ تین سال میں عوام کے خون پسینہ کی کمائی کے صرف دو سو ارب روپے کے قرضے سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کو معاف کئے ہیں جبکہ نچلے درجے کے قرض خور کسان اور تاجروں کو عبرت کی مثال بنا کر پس زنداں بھیج دیا جاتا ہے۔ سرمایہ داری نظام میں ایسا ہی انصاف دکھائی دیتا اور لوگوں کی دہلیز تک پہنچایا جاتا ہے۔بڑے بڑے قرضے معاف بھی ہو جاتے ہیں اور انہیں قابل استعمال رکھنے کے لئے عدالتوں کے حوالے بھی کر دیا جاتا ہے اور یہ عدالتیں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے کئی سال لگا دیتی ہیں۔ بس ایک نئے آرڈر اور پھر مقدمے کی سماعت کے کچھ تاخیری حربوں کی ضرورت ہوتی ہے- یہ الگ بات کہ اس دوران میں سرمائے کو بیرون ملک بھیج دیا جاتا ہے اور اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب بیرون ملک آمدورفت شروع ہوتی ہے اور آف شور کمپنیاں بنا کر غیرقانونی سرمائے کا استعمال ہوتا ہے‘ یہ کہانی ہمارے حکمرانوں یا کسی ایک خاندان کی نہیں‘ یہ ترقی پذیراور پسماندہ ملکوں کے سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی کہانی ہے جہاں منظم معاشی نظام نہیں اور جہاں کی معیشت کا سارا دارومدار اور نقل و حرکت کرپشن‘ بدعنوانی اور کالے دھن پر ہوتی ہے‘ معاشرتی اخلاقیات تباہی اور تنزل کی گہری کھائیوں میں غرق ہوچکی ہوتی ہیں جہاں سب سے بڑا چور سب سے بہتر پہرے دار بن کر منظر پر موجود ہوتا ہے جہاں منی لانڈرنگ کا اعتراف کرکے بھی خزانے کا محافظ بن سکتا ہے جہاں آف شور کمپنی بنانے کے جرم کو تسلیم کرکے بھی اپوزیشن لیڈر کہلانا پسند کرتا ہو‘ وہاں سب کچھ ممکن ہے اور وہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے اور پھر سچ تو یہی ہے کہ بدعنوانی‘ کرپشن اور کالے دھن کی یہ فصلیں صرف ایک موسم اور ایک رُت میں تو جوان نہیں ہوئیں‘ ان کا آغاز تلاش کیا جائے یا آبیاری پر غور کیا جائے تو بات کرتے ہوئے قلم کانپنے لگتے ہیں کوئی عہد کوئی جمہوری اور غیر جمہوری عرصہ اقتدار ایسا نہیں جس میں کرپشن کو فروغ حاصل نہ ہوا ہو- لیکن یہ جو منی لانڈرنگ‘ آف شور کمپنیوں اور کالے دھن کی اصطلاحات ہیں یہ تو بہرحال سرمایہ داری‘ نظام کی فیکٹریوں کا ہی فضلہ ہے‘جو کرپشن‘ بدعنوانی‘ ٹیکس چوری کی گندی نالیوں سے بہتا ہوا کالے دھن کے جوہڑ میں گرتا ہے-

Views All Time
Views All Time
272
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   قطر اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے نقصانات | انور عباس انور
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: