Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ضمیر اور حضرت انسان – ایک مکالمہ

Print Friendly, PDF & Email

Dr Hassan Razaٹک ٹک ٹک
(حضرت انسان دروازہ پہ دستک دیتے ہوئے)
ضمیر: ( حا لت غصہ میں)یہ منہ اند ھیرے کون بد بخت آ گیا آج۔کہیں زمینی فرشتہ تو نہیں؟ خو د سے سوال کر تے ہوئے
کون؟
میں حضرت انسان
ضمیر: خو ش آمدید مد ت ہوئی انسا ن کو دیکھا کئے ہوئے
کیسے آ نا ہوا؟
حضرت انسان: یو ں ہی تمہاری خبر گیری کے لئے کا فی دن جو ہوئے
ضمیر: (نہایت دکھ کے ساتھ)
بہت دیر کی مہر باں آتے آ تے
اب جب کہ ہم لٹ چکے
رسوا سر با زار بلکہ یوں کہیئے کہ ا غوا ء برائے تاوان ہم سے ہمارا حق بیداری اختیاری بھی چھین لیا ز مینی فرشتوں نے
حضرت انسان : (حیرانی سے )یہ کونسی مخلوق ہوئی بھلا ؟
ضمیر: ارے آپ ہی کے قبیلے سے ہیں
حضرت انسان: اچھا مگر ان میں اور آسمانی فرشتوں میں کوئی قدر مشترک
ضمیر: ہاں ایک ہے ناں
حضرت انسان: وہ کیا؟
ضمیر: دونوں ہی اٹھا تے ہیں ایک دنیا سے اور ایک گھر سے
حضرت انسان: اوران دونوں میں کوئی خا ص فرق بھی ہے
ضمیر: ہاں ہے ناں ایک کئی دن پہلے ا پنی آمد کی پیشگی ا طلاع دے دیتا ہے جبکہ دوسرا منہ اٹھا کے منہ اندھیرے
حضرت انسان:خوب
ضمیر: آج کے لئے اتنا ہی کا فی ہے میاں پھر کبھی بعد میں آ نا
حضرت انسا ن: کیوں ؟
ضمیر: تمہیں بو ٹو ں کی چا پ سنائی دی؟ دل د ہلا دینے والی
حضرت انسان: ہاں سنائی تو دے رہی ہے
ضمر: یہ زمینی فرشتوں کے آ نے کا و قت ہے ابھی نکلو فورا ورنہ د ھر لئے جاؤ گے
حضرت انسان: ٹھیک ہے چلتا ہوں دیکھو مگر اپنا خیا ل رکھنا
فی امان اللہ

Views All Time
Views All Time
873
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   دہشتگردی کے خلاف فتویٰ پر عملدرآمد ہوگا بھی یا نہیں ؟ | کرن ناز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: