Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ضمیر اور حضرت انسان – ایک مکالمہ

by جولائی 30, 2016 بلاگ
ضمیر اور حضرت انسان – ایک مکالمہ
Print Friendly, PDF & Email

Dr Hassan Razaٹک ٹک ٹک
(حضرت انسان دروازہ پہ دستک دیتے ہوئے)
ضمیر: ( حا لت غصہ میں)یہ منہ اند ھیرے کون بد بخت آ گیا آج۔کہیں زمینی فرشتہ تو نہیں؟ خو د سے سوال کر تے ہوئے
کون؟
میں حضرت انسان
ضمیر: خو ش آمدید مد ت ہوئی انسا ن کو دیکھا کئے ہوئے
کیسے آ نا ہوا؟
حضرت انسان: یو ں ہی تمہاری خبر گیری کے لئے کا فی دن جو ہوئے
ضمیر: (نہایت دکھ کے ساتھ)
بہت دیر کی مہر باں آتے آ تے
اب جب کہ ہم لٹ چکے
رسوا سر با زار بلکہ یوں کہیئے کہ ا غوا ء برائے تاوان ہم سے ہمارا حق بیداری اختیاری بھی چھین لیا ز مینی فرشتوں نے
حضرت انسان : (حیرانی سے )یہ کونسی مخلوق ہوئی بھلا ؟
ضمیر: ارے آپ ہی کے قبیلے سے ہیں
حضرت انسان: اچھا مگر ان میں اور آسمانی فرشتوں میں کوئی قدر مشترک
ضمیر: ہاں ایک ہے ناں
حضرت انسان: وہ کیا؟
ضمیر: دونوں ہی اٹھا تے ہیں ایک دنیا سے اور ایک گھر سے
حضرت انسان: اوران دونوں میں کوئی خا ص فرق بھی ہے
ضمیر: ہاں ہے ناں ایک کئی دن پہلے ا پنی آمد کی پیشگی ا طلاع دے دیتا ہے جبکہ دوسرا منہ اٹھا کے منہ اندھیرے
حضرت انسان:خوب
ضمیر: آج کے لئے اتنا ہی کا فی ہے میاں پھر کبھی بعد میں آ نا
حضرت انسا ن: کیوں ؟
ضمیر: تمہیں بو ٹو ں کی چا پ سنائی دی؟ دل د ہلا دینے والی
حضرت انسان: ہاں سنائی تو دے رہی ہے
ضمر: یہ زمینی فرشتوں کے آ نے کا و قت ہے ابھی نکلو فورا ورنہ د ھر لئے جاؤ گے
حضرت انسان: ٹھیک ہے چلتا ہوں دیکھو مگر اپنا خیا ل رکھنا
فی امان اللہ

Views All Time
Views All Time
774
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مارننگ شوز کے نا جائز بچے - مستنصر حسین تارڑ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: