Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

رنگ بدلتے سیاستدان

by مئی 23, 2016 سیاست
رنگ بدلتے سیاستدان
Print Friendly, PDF & Email

asad ali khanمایوسی اور قنوطیت کا ابلاغ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے معاشرے کا فعال طبقہ عدم فعالیت پر مائل ہو جاتا ہے اور قافلۂ امید کی رفتار تھم جاتی ہے۔
لیکن صورتحال ایسی ہے کہ اسے اہلِ فکر کے سامنے رکھا جائے تاکہ امید کے مسافروں کیلئے امید باقی رکھنے کا جواز مہیا ہو سکے۔
کہتے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی پاکستان میں تبدیلی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ گزرے وقتوں میں کراچی کی سیاسی ہلچل سے پورا ملک متاثر ہوتا تھا اور اب بھی ہوتا ہے لیکن تاثر کی نوعیت اور پہلو بدل گیا ہے۔
سیاسی اور انتظامی تبدیلی بہرحال پنجاب کے راستے سے ہی وفاق تک جاتی ہے اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو ملکی معاملات یا تو دلچسپی نہیں رہی یا پھر اپنے کردار کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔
ایک بڑا دلچسپ و عجیب پہلو اور بھی ہے کہ یہاں عنوان بدلتا ہے نفسِ مضمون وہی رہتا ہے یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ جال بدلتا ہے لیکن شکاری وہی رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تھوڑی جدت آ گئی ہے پرانے شکاری اب نئے جال کے ساتھ ساتھ اپنا حلیہ (گیٹ اپ) اور طریقہ بھی نیا لاتا ہے۔
اگر وہ اتنا اہتمام نہ بھی کریں تب بھی ہر انتخابی سال میں عوام کا حال سردار جی کے اس جملے مصداق ہوتا ہے ”ہائے او ربا، اج فیر پھسلنا پوے گا”۔
ایک مثال ملاحظہ فرمائیے اور صورتحال کا اندازہ کیجئے۔
اٹک کی تحصیل فتح جنگ سے تعلق رکھنے والے چوہدری شیر علی ممبر پنجاب اسمبلی کا خاندان انیس سو بیس کی دہائی سے منتخب ہو رہا ہے۔ اور تقریبا” نوے سال سے برسرِ اقتدار ہے۔
اس عرصے میں ملک بھی تقسیم ہوا، مارشل لا بھی لگے اور جمہوری میلے بھی سجے مگر ان کا تسلسل نہیں ٹوٹا۔ اسی طرح دیگر بے شمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔
اب تبدیلی کی موجودہ تحریک کی علمبردار کے ساتھ بھی یہی لوگ شامل ہیں اور ہو رہے ہیں۔
مسلم لیگ ہو پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی ۔۔۔ میرے حلقے سے ایک ہی شخص اسمبلی میں جائے گا کیونکہ کوئی اور اس سلسلے کے اسرارورموز سے واقف بھی نہیں ہو پاتا اور ہو بھی جائے تو اس قابل نہیں ہوتا کہ مقابل آئے۔۔۔
ایسے میں میرے جیسا پڑھا لکھا اور معاشرے کا متحرک فرد بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آیا میں واقعی اس ملک میں کوئی سیاسی تبدیلی لا سکتا ہوں ؟
اس قابض طبقے کی جگہ کوئی بہتر متبادل آ سکتا ہے ؟
یا تبدیلی کی ہر لہر اور پر امن جمہوری انقلاب کی ہر انگڑائی ایسے ہی ہائی جیک کر لی جاتی رہے گی۔ اور ہر الیکشن پر میں یہی سوچوں گا کہ ہائے او ربا ہُن فیر پھسلنا پوے گا۔۔۔

Views All Time
Views All Time
1208
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مسئلہ کشمیر پر پوائنٹ سکورنگ-انور چوہان
Previous
Next

One commentcomments6

  1. you can bring change ,,, if not in politics so we can change our atitude towards life ,,,

  2. Fazool. Writer auroon ko umeed ka sabaq dikhatay hye khud na umeedi ka shikar hi. Shaid writer khud bh usi siasatdanko vote deta hoga

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: