Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بچے ہمارے عہد کے

Print Friendly, PDF & Email

school child بطور کوارڈینیٹر سکول میں تمام جماعتوں کا معمول کا جائزہ لیتے ہوئے آج دو ایسے واقعات علم میں آۓ جن سے دماغ سنسنااٹھا اول الزکر واقعہ جماعت دہم میں پیش آیا جس میں جماعت دہم کے ایک طالبعلم نے”مدر ڑے” کے موقع پر خاتون معلمہ کے ساتھ لی گئی اپنی سیلفی فیس بک پر پبلک کر دی جو کہ اس نے ان معلمہ سے انتہائی منت سماجت اور درخواست کے بعد لی تھی اور اس معلمہ نے بھی طالبعلم کو اپنے آپ سے کافی کم عمر گردانتے ہوئے دلوائی تھی اور اس کے اس عمل سے خاتون کو اپنے خاندان میں خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ معلمہ سماجی طور پر خاصے روایتی خاندان سے تعلق رکھتں تھیں-دوسرا واقعہ جماعت دوئم میں پیش آیا جس میں ایک بچے نے معمولی سی بات پر برہم ہو کر اپنے ہم جماعت کو اتنا پیٹا کہ اسکے سر سے خون جاری ہوگیا جب بابت استفسار کیا گیا تو اس کا جواب یہ تھا کہ اس نے اپنے پسندیدہ فلمی ستارے کی نقل کرتے ہوئے یہ انداز اپنایا کیونکہ وہ موصوف(ایکٹر) بھی اپنی فلمی لڑائیوں میں یوں ہی بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے اپنے مدمقابل کو چاروں خانے چت کرتے ہوئے دکهائے جاتے ہیں-ان دونوں واقعات سے دماغ چکرا گیا کہ آخر ہماری نئی نسل کہاں جارہی ہے؟کیا موجودہ دور کے والدین نے اولاد کی تربییت کی ذمہ داریوں سے کلیتا صرف نظر برت لی ہے اور یہ کہ وہ اتنی بڑی ذمہ داری سے کیونکر غافل ہوسکتے ہیں ایسے اور اسطرح کے دوسرے بہت سے واقعات ہمارے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنتے جارہے ہیں جس میں بچوں کا پڑهائی پر توجہ نہ دینا،امتحانات میں نقل کے رجحان کا بڑهنا، اخلاقی گرواٹ میں اضافہ، بڑوں کی باتوں پر قطعا دهیان نہ دینا،ان کی رائے کو دقیانوسی خیال کرنا،والدین کی باتوں کو فضول گرداننا اور عدم برداشت کا پایا جانا سرفہرست ہیں اور دوسری جانب سوشل میڈیا کا آزدانہ استعمال اور ہر عمر کے بچوں کے ہاتهوں میں موبائیل فون کی موجودگی،واٹس ایپ اور فیس بک کا اندها دهند استعمال اوائل عمری میں ہی ان میں غلط رجحانات کی تشکیل کا باعث بنتاہے جوکہ مادر پدر آذاد معاشرے کی راہ ہموار کررہاہے.
ماضی میں والدین اولاد کے لیے ایک نعمت کی حیثیت رکهتے تهے اور والدین کے مابین معاشرتی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے بنٹی ہوئیں تهیں-باپ کی ذمہ داریوں میں گهر کے باہر کے معاملات دیکهناجبکہ ماں کے فرائض میں بچوں کی تربیت،ان کی دیکھ بهال،تعلیم،صحت اور ان کو اعلی اخلاقیات کا نمونہ بنانا اولین اہمیت کا حامل کام تها والدین بچوں کے ہر طرح کے عمل کے ذمہ دار ہوا کرتے تهے اور گهر کے ماحول کو بہترین بنانے پر خصوصی توجہ دیتے تهے کیونکہ گهر کا ماحول اور تربیت اولاد میں والدین کا کردار دونوں عوامل ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں جب تک یہ دونوں پہلو یکساں فعال رہے تب تک معاشرے اخلاقی تنزلی کا یوں شکار نہیں ہوئے تهے جتنے کہ فی الوقت ہورہے ہیں اور معاشرے میں آغاز میں مذکورہ واقعات جیسے حالات کا سامنے آنا بڑی حد تک والدین کی اپنے فرائض سے پہلو تہی برتنے کا شاخسانہ ہیں-
والدین کا اولاد کی تربیت سے غافل ہونے کی ایک بڑی وجہ معاشی دباو ہے بچوں کی پہلی تربیت گاہ گهر اور پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے کیونکہ ماں کا پہلی ترجیح اولاد کی تربیت ہوتی ہے پر صد افسوس اس معاشی دباو کے کہ جس نے ماؤں کو بهی باپ کے شانہ بشانہ معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹهانے پر مجبور کر دیا ہےکہ زندگی کی گاڑی یوں ہی درست ڈگر پر رواں دواں ہو سکتی ہےجسکے نتیجہ یہ ہوا کہ یہ دونوں تربیت ساز اپنے روزوشب کے اوقات کار کا ایک بڑا حصہ گهر سے باہر صرف کرتے ہیں اور بچوں کا زیادہ تر تفاعل ٹیلی ویثرن اور میڈیا کے دوسرے ذرائع کے ساته ہوتا ہے جسکے نتیجے میں ایسے ہی رویے متشکل ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے کو تباہی کے دهانے پہ لاکهڑا کیا ہے- ان حالات کی ایک بڑی وجہ معیارات اور اقدار کی تبدیلی بهی ہے پہلے اولاد اللہ رب العزت کی گراں مایہ نعمت سمجهی جاتی تهی اور ایک امانت کی طرح اسکی حفاظت اور نشوونما کی جاتی تهی کهلایا سونے کا نوالہ جاتا اور دیکها شیر کی نگاہ سے جاتا تها سو بچوں کی تربیت متوازن خطوط پر ہوتی تهی جبکہ اب انہیں کھلے بندوں معاشرے سے سیکهنے کے لیے چهوڑ دیا جاتا ہے جس کے بدترین نتائج برامد ہوتے ہیں-
اب سوال یہ ہے کہ ان حالات کو درست سمت میں کیسے موڑا جاسکتا ہے تو اس ضمن میں سب سے پہلے والدین کو اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا کہ آیا انہوں نے بچوں کے صرف تن ہی کی آرائش و زبیائش کرنی ہے یا اپنی اولاد کو اپنے لیے توشئہ آخرت بهی بنانا ہے اسکے بعد انہیں تربیت کے انداز بدلنے کی اشد ضرورت ہے اس سلسے میں اولاد کے ساته دوستانہ تعلقات قائم کرنے ہوں گئے تاکہ وہ اپنی بات باآسانی ماں اور باپ تک پہنچا سکیں-مزید براں یہ کہ بچوں کی ہر معاملے میں رہنمائی،ہر شے کے مثبت و منفی پہلووں کو کهول کر بیان کرنا،اولاد کے دوست،احباب کی جانچ پڑتال،ان کے سماجی رابطوں پر کڑی نظر،میڈیا اور لڑیچر کی چهان بین اور بچوں کے معمولات کی نگرانی ضروری ہے تاکہ بچوں کے اندر اصلاحی و تربیتی پہلو کیا جاسکے-
اگر والدین نے اپنی ذمہ داریاں کماحقہ پوری نہ کیں اور تربیت کے انداز نہ بدلے تو دینا میں تو یہ روش باعث رسوائی ہے ہی کہ بقول شاعر یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ
،اٹهووگرنہ حشر نہیں ہوگا اب کبهی
دوڑو کہ زمانہ چال قیامت کی چل گیا
اور آخرالزکر یہ کہ والدین اپنی اس مجرمانہ غفلت کے لیے روز محشر ہادی برحق کے سامنے کیا عذر پیش کریں گے؟؟؟

Views All Time
Views All Time
571
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ہم کہ ٹھہرے مسلکی

One thought on “بچے ہمارے عہد کے

  • 20/05/2016 at 7:18 صبح
    Permalink

    بہت عمدہ، بظاہر تو لگتا ہے کہ جس گھر میں جدید ڈیجیٹل کھلونے ہر بچے کے ہاتھ میں دکھایی دے رہے ہیں وہ کافی خوشحال اور بچوں پر بہت مہربان والدیں کا گھر ہے مگر دوسری طرف آپ نے جن پہلووں پر روشنی ڈالی انکے اثرات بھی بہت ہی واضح محسوس کیے جا سکتے ہیں
    میں اپنے زاتی تجربے کی بات کرتا ہوں کہ میں نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے حسن کو ٹیبلٹ مہیا کی جو کہ صرف تین سال کا ہے اور اسکی پروگریس دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کیونکہ میں خود جو کہ ڈیجیٹل میڈیا سے ہی تعلق رکھتا ہوں تو کچھ ایسے فنکشنز آف ٹیبلٹ جو میں جانتا تک نہیں وہ میرا بیٹا مجھے سکھا رہا تھا مگر اسکا برا پہلو یہ تھا کہ وہ تشدد پر مایل ہوتا جا رہا تھا گیمز کھیل کھیل کر کیونکہ وہ خود گیمز کو انسٹال کرنا سیکھ چکا تھا سو یہ پابندی بھی اسکے لیے بے معنی تھی کہ کویی اسکو گیمز انسٹال کر کے دے گا
    سو مجھے مادر پدر آزاد ٹیبلٹ دینے کا اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور پھر اس پر کچھ پابندیاں لگا کر واپس دیا مگر وہ دن اور آجکا دن وہ اس ٹیبلٹ کو استعمال ہی نہیں کرتا کہتا ہے اس میں کچھ ہے ہی نہیں استعمال کرنے کو
    اب حالات کچھ کنٹرول میں ہیں کیونکہ ہم اسکو کتابیں پڑھنے کے رجحان کی طرف مایل کرنے کو کوشش کر رہے ہیں دعا کیجیے گا اللہ کامیاب کرے – آمین

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: