Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گداگر بچے اور ہماری بورژوا ذہنیت

by ستمبر 28, 2016 بلاگ
گداگر بچے اور ہماری بورژوا ذہنیت
Print Friendly, PDF & Email

qasim aliبازار میں خریداری کرتے ہوئے، کسی ٹریفک سگنل پر سبز بتی کے جلنے کا انتظار کرتے ہوئے، کسی اوپن ائیر ریستوران میں پرتکلف کھانا کھاتےہوئے، یا کسی بس سٹاپ پر بس کا انتظار کرتے ہوئے، کبھی گرمیوں کی جلتی بلتی دوپہر کی دھوپ میں، کبھی سرما کی کسی اُداس ٹھٹھرتی شام کی خاموشی میں اور کبھی برکھا رت کی کسی صبح جب بادل غیض و غضب کے ساتھ دہاڑتے ہوں، آپ کا سامنا کسی نہ کسی بھیک مانگتے بچے سے ضرور ہوا ہوگا۔
آپ ٹریفک سنگل پر رکے ہوئے ہیں کہ سبک سی انگلیاں کار کے شیشے پر دستک دیتی ہیں۔ جو پلٹ کر دیکھتے ہیں تو میلا کچیلا منہ لیے اور گندے سے شکستہ کپڑے پہنے ایک بچہ بھیک مانگ رہا ہے۔ آپ اسے ایک پیشہ ور گداگر سمجھ کر ہاتھ کے ایک خفیف اشارے سےوہاں سے چلنے جانے کا کہتے ہیں۔ وہ تب تک ناک شیشے کے ساتھ چپکائے وہاں کھڑا رہتا ہے جب تک گاڑی سگنل سے آگے نہیں بڑھ جاتی۔
کسی مشہور ریستوران یا ڈھابے پر بیٹھے ہوئے، کھانے کھاتے ہوئے، یا خوش مزہ چائے پیتے ہوئے، جانے کہاں سے ایک بچہ سامنے نمودار ہوتاہے اور لہجے میں "مصنوعی "دکھ اور مظلومیت کا عنصر پیدا کرتے ہوئے، بھیک مانگنے لگتا ہے۔ بارہا منع کرنے کے باوجو د وہاں سے ٹلتا نہیں بلکہ جس قدر سختی سے اسے وہاں سے چلے جانے کا کہا جاتا ہے، اسی قدر شدت اس کے تقاضوں میں آتی جاتی ہے۔ آخرِ کار اس سے نجات پانے کی خاطر، کہ اس کے پیہم اصرار سے دوستوں کے درمیان ہونے والی بے مصرف گفتگو میں خلل آ رہا ہے، اور بھاپ اُڑاتی چائے کا مزہ بھی کرکرا ہو رہا ہے، آپ حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے، ایک متروک دِکھتا سکہ اُس کی ہتھیلی پر دھر دیتے ہیں۔ آپ کو اپنے عمل کی نادانی کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب مختلف سمت سے مزید بچے ، پہاڑی ڈھلوانوں سے لڑھکتے پتھروں کی سی تیزی کے ساتھ، ہاتھ پھیلائے آپ کی سمت بڑھے چلے آتے ہیں۔ اس یورش سے بچنے کی تدبیر سوچنے سے پہلےذہن میں جو اکلوتا خیال آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ اگر اس وقت آپ کے قبضے میں ہفت اقلیم کے خزانے بھی ہوں تو بچوں کی اس فوجِ طفر موج کے لیے ناکافی ہونگے۔ ایسے میں سختی ، غصہ، پیار، قہر آلود نگاہیں، ہاتھ اُٹھا کر تھپڑ رسید کرنے کا اشارہ، غرض کچھ بھی کام نہیں آتا۔ جان تب ہی بخشی ہوتی ہے جب مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق سب کے ہاتھ پر ایک ایک دو دو روپے کے سکے دھر ے جاتے ہیں۔
ان مواقع پر اس طرح کے جملے اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ "اجی ۔ پیشہ ور بھکاری ہیں۔ ماں باپ نے مانگنے پر لگا رکھا ہے۔” "خدا معاف کرے کہنا تو نہیں چاہیے مگر سچ کہوں تو بڑے ڈھیٹ بچے ہیں بھئی۔ جی چاہتا ہے ایک جھانپڑ رسید کروں۔” "دیکھنے میں تو بھکاری نہیں لگتے۔ نشے کے لیے مانگ رہے ہونگے۔” "پولیس والے جانے کہاں مر گئے ہیں۔ گداگری پر قابو پانے میں شہری انتظامیہ بری طرح نام ہو چکی ہے۔”
سب استدلال منطقی، سب جواز قبول۔ پیشہ ور گدا گروں کی افراط کسی بھی بھلے مانس کو جھنجھلا دینے کے لیے کافی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مجھ پر سستی جذباتیت بیچنے کا الزام بھی لگ سکتا ہے۔ مجھے غیر منطقی اور گھسے پٹے مارکسی نظریات کا داعی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بے عملی کی ترغیب دینے پر موردِ الزام بھی ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ ان تمام تر خدشات کے باوجود یہ کہنے سے خود کو نہیں روک سکتا کہ اگر کسی بھکاری بچے سے سامنا ہونے پر آپ کا ردِ عمل مذکورہ بالاِ مثالوں میں سے کسی بھی ایک مثال کے ساتھ مماثل ہوتا ہے تو مجھے ان بچوں سے نہیں بلکہ آپ سے دلی ہمدردی ہے۔۔ دلی ہمدردی کا سبب یہ ہے کہ یہ بچے تو محض معاشی پسماندگی کے جبر کا شکار ہیں مگر آپ ذہنی پسماندگی کی پاتال میں بھٹک رہے ہیں۔ یہاں یہ اعتراف بھی برمحل معلوم ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے میرا تعلق بھی اسی بورژوا ذہنیت والےقبیل کے لوگوں سے ہے۔
ہم میں سے کتنے لوگوں نےان بچوں کو دھتکارتے سمے تخیل کے افق پر اپنے بچوں، چھوٹے بہن بھائیوں یا بھانجوں بھتیجوں کو اسی طور چند سکوں کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا دیکھا ہوگا۔ ۔ہم دیکھ ہی کب سکتے ہیں کہ ہماری بورژوا ژذہنیت اس سمے اس بات کا فیصلہ کرنے میں مصروف ہوتی ہے کہ آیا یہ بھکاری ہماری چند ٹکوں کی بھیک کے حقدار ہیں بھی یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ یہاں یہ راگ الاپنا ہی عبث ہے کہ آپ کی نگاہوں کے سامنے جو ایک بچہ مجسم سوال بنا کھڑا ہے ، یہ سرمایہ دارنہ نظام میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے جبر کا شکار ہے۔۔۔کیونکہ جو بوژوا ذہنیت جیب سے دو روپے کا سکہ نکالتے سمے گداگری کی لعنت کے خلاف ہزار ہا دلائل و براہین کا طومار لا کھڑا کرتی ہے، وہ بھلا کیونکر ایسے معاشرے کو قبول کر سکتی ہے جس میں سرمائے کی منصفانہ تقسیم ہو۔ اب اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ آپ کی جیب میں جو ہزار روپے کا نوٹ موجود ہے اس میں سے پانچ سو روپے اس بچے کے ہیں تو کیا آپ میری بات کو سنجیدگی سے لیں گے؟ نہیں نا؟ کیونکہ آپ کو تو یقین ہے کہ یہ روپے آپ کی مہینے بھر کی جاں توڑ مشقت کا ثمر ہیں۔ آپ بھبھوکا ہی تو بن جائیں گے اگر میں جواب میں یہ استفسار کر بیٹھوں کہ اس بچے کا باپ شاید آپ سے زیادہ جاں توڑ مشقت کرتا ہوگا۔ آپ تو صبح 9 سے شام 5 تک ائیر کنڈشنڈ دفتر میں بیٹھا کرتے ہیں جب کہ اس کا باپ گجر دم سڑکوں پر پتھر کوٹنا شروع کرتا ہے تو شام ڈھلے تک اسی مشقت میں جٹا رہتا ہے ،تو پھر اس کی اجرت آپ سے زیادہ یا کم از کم آپ جتنی کیوں نہیں؟ سو اس رد و کد کو تو جانے ہی دیں۔
سر دست اتنی سی گزارش ہے کہ کبھی کبھی مذکورہ بالا مواقع پر پاسبانِ عقل کو نہ صرف تنہا چھوڑ دیا کریں، بلکہ پٹاری میں بند کر دیا کریں تاکہ اس کے دل کے پاس پھٹکنے کا کوئی امکان پیدا ہی نہ ہو۔جب کوئی سائل آپ کے پاس دستِ سوال دراز کیے ہوئے آیا کرے، تو کچھ نہ کچھ اس کی ہتھیلی پر دھر دیا کریں یا کم ا ز کم اپنی زبان کو مضبوطی سے دانتوں تلے دبا کر رکھا کریں مباد ا دونوں کی جگہ بدل جائے۔وہ معمولی وقعت کا سکہ اگر آپ کی جیب سے چلا بھی جائے گا تو آپ کی مالی حیثیت میں تو یقیناََ کوئی تبدیلی نہیں آئے گی مگر اس بچے کے لیے وہ شداد کے ہفت گنج کی سی قیمت رکھتا ہے۔ یہ سکہ اسے وہ چمکیلا ریپر دلائے گا جس میں ٹافی نہیں خوشی لپٹی ہے۔ اتنا تو ہم کر ہی سکتے ہیں؟

Views All Time
Views All Time
674
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دیوانے کا خواب - حسام درانی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: