Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جہالت کے کرشمے

by اگست 25, 2016 کالم
جہالت کے کرشمے
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikh newحکمرانوں کی سوچ اور فکر کا اندازہ ان کی ترجیحات، عمل اور ترقیاتی کاموں میں اہمیت اور اولیت سے لگایا جاسکتا ہے۔ کوئی دانشور، کوئی فلسفی اسی لئے تو تخت شاہی تک رسائی حاصل نہیں کرتا کہ اس کی اولین ترجیح علم و ادب کا فروغ ہوگا ۔وہ سکول کالجز اور یونیورسٹیاں بنوائے گا، جہالت کو ختم کرنے کے اقدامات کرے گا۔ یہ حکمران طبقوں کے مفاد میں نہیں ہوتا کیونکہ علم سے عوام کو اپنے حقوق و فرائض سے آگاہی بھی ہوسکتی ہے اور وہ اپنے حقوق کے لئے صدائے احتجاج بھی بلند کرسکتے اور احتجاج کو تحریک بنانے کی جدوجہد بھی کرسکتے ہیں۔ ویسے اگر آپ چاہیں تو اس بات پر بھی غور کرسکتے ہیں کہ تحریک احتساب والے ہوں یا تحریک قصاص والے یہ تحریک جہالت کیوں شروع نہیں کرتے اور حکمرانوں کو کالجز اور یونیورسٹیاں بنانے اور علم کے فروغ پر آمادہ کیوں نہیں کرتے؟ یہ خود ان کے اپنے مفاد میں نہیں۔ کیونکہ اس طرح ان کے چہروں پر پڑے ہوئے نقاب اتر جائیں گے۔ تو انہیں بھی عام آدمی کی طرح زندگی گذارنا پڑے گی اور کچھ نہیں تو اپنے اعمال کو عوام کے مفاد کے تابع کرنا پڑے گا۔ دوہری شہریتیں چھوڑ کر اس مٹی سے وفاداری کا عہد کرنا پڑے گا جس نے انہیں اس قابل بنایا ہے۔ حکومت اور سیاست کرنے تو یہاں آ جاتے ہیں زندگی وہاں گذارنے کو ترجیح دیتے ہیں کاروبار بھی وہاں کرتے۔ بینک اکاؤنٹس بھی وہاں بناتے اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے زرمبادلہ بھی منتقل کرتے ہیں۔ ان کے بچے وہیں تعلیم حاصل کرتے ہیں البتہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں واپس بلا کر سیاست اور تجارت میں شامل کردیا جاتا ہے انہیں اس مٹی کی تہذیب و ثقافت،روایات و اخلاقیات کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ لیکن وہ پھر بھی حکمران بننے کے خواب دیکھتے اور حکمرانی کرتے ہیں۔ یہی جہالت کے کرشمے ہیں۔ تو پھر تعلیم حکمرانوں کی اولین ترجیح کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ جہالت ہی تو ہے کہ ایسے مفاد پرست سیاستدان اور نام نہاد بلکہ خودساختہ قائد عوام کی جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ ان پڑھ اور جاہل عوام انہی سے امیدیں وابستہ کئے رکھتے ہیں شاید ان کے توسط سے ان کا مستقبل بھی روشن ہو جائے۔ لیکن نہیں 70 سال میں تو نہیں آئندہ کیا ہوگا؟ یہ ان کی اپنی زندگیاں تو تبدیل ہوگئی ہیں حالات بھی بدل گئے ہیں۔ ترقی اور خوشحالی ان کے ایکڑوں پر پھیلےلانوں میں ہریالی بن کر ان کے سینکڑوں کنال پر پھیلے ہوئے محلات کے گیراج میں گاڑیاں ہی نہیں ہیلی کاپٹر نہیں ہوائی جہاز بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ یہ سب جہالت کے کرشمے نہیں تو اور کیا ہے؟؟
تحریک ختم نبوت تھی، تحریک نظام مصطفے تھی ان کے مقاصد وہ نہیں تھے جو نعروں کی صورت سنائی دیتے تھے۔ ان کے مقاصد پس پردہ سیاسی تھے۔ ایک کے نتیجہ میں جزوی مارشل لاء لگا تھا دوسری کے نتیجہ میں مکمل مارشل لاء یعنی قربانیاں جہالت اور عقیدت نے دی تھیں اس کے فوائد سیاست نے حاصل کئے تھے۔
اب بھی اگر کہیں کوئی تحریک احتساب کا دعوی کر رہا ہے۔ تحریک قصاص کی نعرے بازی کر رہا ہے۔ تحریک نجات کے نام پر حصہ ڈال رہا ہے تو ان کا مقصد عوام کی بہتری اور فلاح نہیں۔ صرف ذاتی اور سیاسی مقاصد ہیں خدا کرے کہ ان کا نتیجہ ماضی کی طرح برآمد نہ ہو۔ عوام پھر کسی غیر جمہوری نظام کے نرغے میں نہ آ جائیں یہ الگ بات کہ بین الاقوامی اور علاقائی سیاسی ماحول تبدیل ہوچکا ہے پذیرائی مشکل ہے۔ لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ جب فیصلہ ہو جائے تو پھر دنیا کی کون پرواہ کرتا ہے۔ ویسے بھی دنیا تبدیل کرنے کو نہیں دنیا تو ساتھ چلنے کو ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی دنیاداری تو کرنا پڑتی ہے اس لئے کہ کہیں کوئی متبادل نظام کا تذکرہ بھی ہے یہ منصوبہ، یہ حکمت عملی یہ خواہش یہ کوشش کئی سالوں سے گردش میں ہے۔ اسے کبھی بنگلہ دیش فارمولے کا نام دیا جاتا ہے تو کبھی ٹیکنوکریٹس کی حکومت کا۔ جو تین چار سال میں70 سال میں پھیلائی ہوئی سیاسی، معاشی اور معاشرتی گندگی صاف کرے گی۔ یہ سوال کئے بغیر اور اس کا جواب تلاش کئے بنا یہ گندگی کس نے پھیلائی تھی۔ اس کی ملزم یا مجرم جہالت تھی یا پھر وہ تعلیمی نصاب تھا جو تدریس و تربیت کا حصہ بنایا گیا تھا۔ کیا مجرم کو کٹہرے میں بھی کھڑا کیا جائے گا یا پھر ایڈہاک ازم کا ہی غلبہ رہے گا جس نے جہالت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یا بقول شخصے ڈگریاں تو دیں لیکن علم نہیں دیا۔ شعور و آگہی تو بہت دور کی بات ہے۔
صاحبو ! حرف آخر کی صداقت یہی ہے کہ تعلیم نہیں جہالت ہی حکمرانوں کی اولین ترجیح ہے وہ علم کا نہیں جہالت کا ہی فروغ چاہتے ہیں اس میں ان کا اور ان کے بنائے ہوئے نظام کا تحفظ موجود ہے لہذا حکمرانوں سے کوئی توقع رکھنا عبث ہے وہ اورنج ٹرین اور میٹروبسیں تو چلائیں گے مگر کوئی یونیورسٹی عالمی معیار کی نہیں بنائیں گے اگر کوئی ہے تو اسے بھی تباہ کرکے چھوڑیں گے۔ تاکہ جہالت کو فروغ حاصل ہو وہ ہر شہر۔ ہر گاؤں میں اپنے کرشمے دکھائے۔

Views All Time
Views All Time
505
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   طلبا تنظیمیں یا تعلیم؟-خورشید ندیم
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: