Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا کوئی اور ایدھی بن پائے گا

by جولائی 12, 2016 بلاگ
کیا کوئی اور ایدھی بن پائے گا
Print Friendly, PDF & Email

zahid hussainتاریخ انسانی جہاں دہشتگردی، جنگ و جدل ،قتال اور خون ریزی سے بھری پڑی ھے وہاں فلاح انسانیت کے لئیے بھی کئی نام ایسے ھیں جن کا کردار انسانیت کے ماتھے کا جھو مر ھے ۔۔ایسی ھی ایک شخصیت عبدالستار ایدھی کی ھے جوگذشتہ دنوں ھم سے رخصت ہو کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے.
گجرات کے گاؤں بانٹوا کا نوجوان عبدالستار گھریلو حالات خراب ہونے پر کراچی جا کر کپڑے کا کاروبار شروع کرتا ہے کپڑا خریدنے مارکیٹ گیا وہاں ایک شخص نےدوسرے شخص کو چاقو مار دیا زخمی زمین پر گر کر تڑپنے لگا لوگ زخمی شخص کے گرد گھیرا ڈال کر تماشہ دیکھتے رہے وہ شخص تڑپ تڑپ کر مر گیا نوجوان عبدالستار کے دل پر داغ پڑ گیا.اس نے سوچا کہ معاشرے میں تین قسم کے لوگ ہیں دوسروں کو مارنے والے، مرنے والوں کا تماشہ دیکھنے والے اور زخمیوں کی مدد کرنے والے— نوجوان عبدالستار نے فیصلہ کیاکہ وہ مدد کرنے والوں میں شامل ہو گا اور پھر کپڑے کا کاروبار چهوڑا ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام لکها نیچے ٹیلی فون نمبر لکھا اور کراچی شہر میں زخمیوں اور بیماروں کی مدد شروع کر دی وہ اپنے ادارے کے ڈرائیور بهی تهے ،آفس بوائے بهی، ٹیلی فون آپریٹر بهی، سویپر بهی اور مالک بهی. وہ ٹیلی فون سرہانے رکھ کر سوتے فون کی گھنٹی بجتی یہ ایڈریس لکهتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچاتے،سلام کرتے اور واپس آ جاتے عبدالستار نے سینٹر کے سامنے لوہے کا گلا رکھ دیا لوگ گزرتے وقت اپنی فالتو ریزگاری اس میں ڈال دیتے تھے یہ سینکڑوں سکے اور چند نوٹ اس ادارے کا کل اثاثہ تهے یہ فجر کی نماز پڑھنے مسجد گئے وہاں مسجد کی دہلیز پر کوئی نوزائیدہ بچہ چهوڑ گیا مولوی صاحب نے بچے کو ناجائز قرار دے کر قتل کرنے کا اعلان کیا لوگ بچے کو مارنے کے لیے لے جا رہے تھے یہ پتهر اٹها کر ان کے سامنے کهڑے ہو گئے ان سے بچہ لیا بچے کی پرورش کی اج وہ بچہ بنک میں بڑا افسر ہے یہ نعشیں اٹهانے بهی جاتے تھے پتا چلا گندے نالے میں نعش پڑی ہے یہ وہاں پہنچے دیکھا لواحقین بهی نالے میں اتر کر نعش نکالنے کے لیے تیار نہیں عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گئے نعش نکالی گهر لائے غسل دیا کفن پہنایا جنازہ پڑهایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کهود کر نعش دفن کر دی بازاروں میں نکلے تو بے بس بوڑھے دیکهے، پاگلوں کو کاغذ چنتے دیکھا ،آوارہ بچوں کو فٹ پاتهوں پر کتوں کے ساتھ سوتے دیکها تو اولڈ پیپل ہوم بنا دیا، پاگل خانے بنا لیے ، چلڈرن ہوم بنا دیا، دستر خوان بنا دیئے ،عورتوں کو مشکل میں دیکھا تو میٹرنٹی ہوم بنا دیا لوگ ان کے جنون کو دیکھتے رہے ،ان کی مدد کرتے رہے ، یہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ایدهی فاؤنڈیشن ملک میں ویلفیئر کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا یہ ادارہ 2000 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی آ گیا .ایدھی صاحب نے دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بنا دی عبدالستار ایدھی ملک میں بلا خوف پهرتے تهے یہ وہاں بهی جاتے جہاں پولیس مقابلہ ہوتا تھا یا فسادات ہو رہے ہوتے تھے پولیس ڈاکو اور متحارب گروپ انہیں دیکھ کر فائرنگ بند کر دیا کرتے تھے ملک کا بچہ بچہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے بعد عبدالستار ایدھی کو جانتا ہے. ایدھی صاحب نے 2003 تک گندے نالوں سے 8 ہزار نعشیں نکالیں16 ہزار نوزائیدہ بچے پالے،ہزاروں بچیوں کی شادیاں کرائیں. یہ اس وقت تک ویلفیئر کے درجنوں ادارے چلا رہے تھے لوگ ان کے ہاتھ چومتے تهے عورتیں زیورات اتار کر ان کی جهولی میں ڈال دیتی تهیی نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر انہیں دے کر خود وین میں بیٹھ جاتے تهے
تو جناب یہ تهے عبدالستار ایدھی صاحب جو جہاں فانی سے کوچ کر گئے ہیں اور پوری قوم کو سوگوار چھوڑ گئے ھم سے رخصت ہونے
ایسے ا نسان کی موت انسانیت کا نقصان عظیم ھے ۔۔۔
اب ڈھیروں سے انسانی جسموں کو کون اٹھا کر پالے گا۔۔ ڈاکوؤں چوروں کی لاوارث لاشوں کو کون دفن کرے گا ۔۔
کیا 20 کروڑ کے ھجوم میں کوئی ایدھی بن پائے گا ۔۔۔
کچھ لوگ ائرپورٹ کے نام کو عبدالستار ایدھی سے منسوب کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ائرپورٹ کا نام ایدھی رکھنے سے کیا فرق پڑے گا , اسلام آباد ائیر پورٹ کا نام بےنظیر انٹر نیشنل رکھا آج تک قاتل نہیں ملے ۔۔۔ لاہور ائرپورٹ کا نام علامہ اقبال کے نام پر رکھا اس کی ایک شعر پر بھی عمل نہیں کیا ۔۔۔ کراچی ھوائی اڈے کا نام بابا کے نام پر قائداعظم انٹر نیشنل رکھا پھر کراچی روشنیوں کے شہر سے سلاٹر ھاوس بن گیا ۔۔ ھم ھجوم بے کراں ھیں ۔۔ زندہ قومیں اپنے ھیروز اور اسلاف کے کام کو آگے بڑھاتی ھیں ۔۔ مشن کو کاندھا دیتی ھیں ۔۔ کیا یہ حکم نہیں ہے کہ نیکی میں تعاون کرو ۔۔ ملک میں ایدھی صاحب کے قائم کردہ 300 سینٹر ہیں ۔ 20کروڑ کی قوم آپس میں تقسیم کر لو اور اس انسان کے مشن کو جاری رکھو ۔۔7 لاکھ پاکستانیوں کو ایک سینٹر سنبھالنا ھو گا ۔۔ تعزیتی ریفرنسز کو اپ لوڈ کرنے اور ٹھکا ٹھک لائیک کرنے والو تیار ھوجاؤ ۔۔ کوئی طریقہ وضع کرو اور آؤ….. اس مشن کو چلائیں………

Views All Time
Views All Time
509
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: