Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مائی مجھ اور مولوی

مائی مجھ اور مولوی
Print Friendly, PDF & Email

zari ashrafزندگی کی شاہراہ پر بہت احتیاط سے چلنا پڑتا ہے اس کے باوجود بھی حادثے کا امکان موجود رہتا ہے اور ہم بہت سی چیزوں سے بچ کے چلنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح عام شاہراہ پر جاتے ہو حادثے سے بچنے کے لیے تین چیزوں سے احتیاط لازمی کرنی چاہیے مائی .مجھ (بھینس) اور مولوی…یہ کبھی بھی کہیں بھی اور کسی بھی موقعے پر آپ کی توقع سے ہٹ کے کوئی بھی حرکت کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ٹریفک کی روانی ہو یا زندگی کی کہانی کہیں بھی افراتفری کا شکار ہو سکتی ہے.
مائی۔۔۔کیا بھلے وقت تھے جب خواتین اونچی آواز میں بات کرنا اپنی توہین سمجھتی تھیں گفتگو میں شائستگی اور دھیما لہجہ خواتین کے وقار کی علامت ہوا کرتا تھا دھیرے سے چلنا اور دھیمے سے بولنا خاندانی وقار ہوتا تھا پر اب یہ سب خواب و خیال ہو چکا ہے اب تو بغیر دوپٹے کے جو خاتون سب سے اونچا بولے وہی معتبر ٹہرے ہے۔ رہی سہی کسر نام نہاد این جی اوز نے نکال دی ہے ماروی سرمد کے معاملے میں اگر مولوی صاحب نے زیادتی فرمائی ہے تو خاتون بھی کہیں رکی نہیں۔اگر مولوی بد زبان تھا تو خاتون نے بھی عورتوں کے سر شرم سے جھکا دیے۔ مقابلہ کرنے اور زبان چلانے سے ماروی صاحبہ بھی باز نہیں آئیں.کاش وہ خاتون ہونے کے ناطے چپ کر جاتیں تو شائد وہ سب منہ ماری نہ ہوتی جو پوری دنیا کے سامنے ہمارے تماشے کا باعث بنی.اگر مولوی نے بے غیرتی کی حدیں پار کیں تو خاتون نے بھی برابر مقابلہ جاری رکھا کاش دونوں میں سے کوئی ایک سمجھداری کا مظاہرہ کرتا .برداشت کا نمونہ بنتا. دونوں کی ناقص تربیت کا عملی مظاہرہ ناصرف لائیو دیکھا گیا بلکہ سوشل میڈیا پر چار دن سے تماشہ لگا ہوا ہے. نہ کسی نے شلوار چھوڑی نہ دستار کی عظمت کا خیال کیا. مولوی صاحب نے نہ قرآن و سنت کا خیال کیا نہ اپنی داڑھی اور عمامے کا نہ اپنی عمر کا لحاظ کیا اور نہ یہ خیال کیا کہ وہ ایک عورت سے گفتگو فرما رہے ہیں.کیا شلواریں اور کیا دستاریں دھجیاں اڑا کے رکھ دیں دونوں نے ہمارے معاشرتی اقدار کی…ایسے لوگوں کے میڈیا پر آنا اور گفتگو کرنا بین کیا جانا چاہیے. ہم تو پہلے پستیوں کی طرف مہو سفر ہیں اب یہ دو انتہایئں جو ہماری نمائندگی کرنے پہ تلی ہوئی ہیں ہمیں کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑنے والی.
کیا ہم میانہ روی سے نہیں چل سکتے؟ کیا ہم ایک دوسرے کی بات تحمل اور بردباری سے نہیں سن سکتے؟ کیا ہر بات سمجھانے کے لیے چیخ و پکار اور گالی گلوچ ضروری ہو گیا ہے؟
ہم بھی کسے سمجھا رہے ہیں بھینس کے آگے بین بجا رہے ہیں۔ کون سمجھے گا کہ جو مذہب بیچ رہے ہیں اور شلوار اتار رہے ہیں یا وہ جو اپنا دوپٹہ پٹا بنا کے گلے میں ڈالے دستار اتار رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی نہیں سمجھنے والا. بس اگر ممکن ہو تو ایسے لوگ کم از کم ہماری نمائندگی نہ کریں.کسی مائی اور مولوی کو سمجھانے کا مطلب ہے کہ اپ کسی مجھ کے سامنے بین بجا کر اپنا وقت اور توانائی برباد کر رہے ہیں۔ لہذا اللہ پاک ہمیں مائی مجھ اور مولوی سے محفوظ رکھے…

Views All Time
Views All Time
1089
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

  1. بہت عمدہ تحریر ہے زری صاحبہ,درست تجزیہ پیش کیا آپ نے اس پروگرام کا متوازن اور نپا تلا!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: