Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بجٹ ، عوامی نمائندے اور سرکاری ملازمین

by جون 3, 2016 کالم
بجٹ ، عوامی نمائندے اور سرکاری ملازمین
Print Friendly, PDF & Email

ibn e khalidیہ بات تو طے ہے کہ عوام کی حیثیت صرف جلسے جلسوں میں نعرے لگانے تک محدود ہے ، مراعات کیلئے سیاستدان اپنے علاوہ کسی اور طبقے کا انتخاب ہونے دینے گوارا نہیں کرسکتے ۔۔۔ بجٹ سے کیا شکوہ کرنا ، یہ نامراد تو ہر سال ایسا ہی آتا ہے ، ’’ریلیف‘‘ کے نام پر ٹیکسوں کی بھرمار ، روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ، ہر کونے سے عوام کو ڈسنے کی کوشش ، اور کہنے کو یہ ’’ماہر معاشیات‘‘ کا بجٹ ہوتا ہے ، لیکن نجانے یہ کیسا ماہر معاشیات ہے جو پورے ملک کا بجٹ تو بناسکتا ہے لیکن اک عام آدمی کی اوسط تنخواہ میں ایک گھر کا بجٹ بھی بنانے سے قاصر ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام نے اس ملک کی جڑیں پہلے ہی کھوکھلی کررکھی ہیں ۔ کیا کفایت شعاری ، سادگی ، بچت کے فارمولے صرف عوام کیلئے ہی ہیں ؟
طرہ امتیاز یہ کہ حالیہ بجٹ نے جہاں ایک عام آدمی پر زندگی مزید تنگ کردی ہے وہیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں تین گنا اور مراعات میں دس گنا اضافے سے متعلق گذشتہ دنوں ایک تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ، جس پر ایک دوسرے کے حامی و مخالف اراکین نے 3 سے 4 لاکھ روپے ماہوار ’’الاؤنس‘‘ فی ممبر کرنے کی متفقہ منظوری لی جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصداضافہ کرنا بھی انہیں مشکل لگتا ہے ۔ قومی اسمبلی کے یہ اراکین تو کل عوام کا سولہواں حصہ بھی نہیں ہیں ، مگر مسلسل عوام کا حق لوٹ کر مالی فائدے حاصل کر رہے ہیں ۔
اس وقت عوام کے ان ’’ملازموں‘‘ کی مجموعی تنخواہ 71ہزار روپے بمشول الاؤنسز تھی ۔ ’’متفقہ‘‘ بل کی منظوری سے اب انہیں 2 لاکھ روپے ماہانہ ملا کریں گے ۔۔۔ قومی اسمبلی کے سپیکر کی تنخواہ 97 ہزار روپے سے بڑھ کر 4 لاکھ روپے ہوگی ۔ ڈپٹی سپیکر ساڑھے تین لاکھ روپے لیا کرے گا ۔ اراکین اور ان کے اہل خانہ کی عیاشیوں یعنی فضائی سفر کی مد میں 3 لاکھ روپے ، دفتر کی آرائش و مرمت کے نام پر ایک لاکھ روپے ماہانہ ، حلقے کا دورہ جو کئی کئی مہینوں تک بھی نہیں ہوتا ، کے نام پر 70 ہزار روپے ماہانہ اور یوٹیلٹی الاؤنس کی مد میں 50 ہزار روپے ملا کریں گے ۔ اس بل کے نافذ العمل ہونے کے بعد اسمبلی کا ممبر ہسپتالوں اور ائیرپورٹ وغیرہ پر ’’وی آئی پی‘‘ کی حیثیت بھی اختیار کرلے گا ۔۔۔ یہاں یہ امر بھی جواب طلب ہے کہ دفتر کی زئین و آرائش کی ہر ماہ ضرورت نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود 1 لاکھ روپے ماہانہ ملنے والے بجٹ کا کیا حساب ہوگا ، کہاں خرچ ہوگا ، یہ بتانے کو کوئی تیار نہیں ۔۔۔ دوسری جانب جن ممبران اسمبلی کو آئی ٹی سے متعلق بنیادی معلومات بھی نہیں ہیں ، انہیں بھی 3 لاکھ روپے آئی ٹی الاؤنس مہیا کیا جائے گا ۔۔۔ وہ اس بجٹ کو کہاں خرچ کریں گے ، یہ بھی ان سے نہیں پوچھا جائے گا ۔۔۔
یہ ہمارا قومی المیہ ہے ہمارے ہاں ہر سال اربوں کھربوں کے خسارے کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے لیکن مراعات لینے والے شرمسار نہیں ہوتے ۔ حالانکہ قومی خزانے اور ملکی معیشت کی صورتحال پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے ۔ ایسے میں ملک عوامی نمائندوں کی ’’تنخواہ‘‘ میں اس قدر اضافے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ یہ عمل سراسر قومی خزانے اور ملکی معیشت پر بوجھ ہے جس کا ادراک کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے ۔
یہ طرفہ تماشہ نہیں تو اور کیا ہے کہ یہ لوگ پہلے ہی صاحب حیثیت ہیں ، تبھی تو اسمبلیوں میں پہنچے ہیں ، وگرنہ ایک عام آدمی تو پارلیمنٹ کے پاس سے بھی نہیں گزر سکتا ۔ یہ لوگ جاگیردار ، کاروباری یا فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالک ہوتے ہیں ۔ انہیں تو مراعات کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔ مسئلہ تو عام آدمی کا ہے جو 15 ہزار تنخواہ میں بمشکل گزربسر کررہا ہے ۔ لیکن شاید انہیں عوام کے پیسے پر پلنے بڑھنے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔۔۔ قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی ، یہ وہ ادارے ہیں جہاں ملک بھر کے منتخب نمائندے اپنے علاقوں اور ووٹرز کے مسائل لے کر جاتے ہیں لیکن اسمبلی کی سیڑھیاں چڑھتے ہی وہ یہاں آنے کا مقصد بھول کر اپنا الو سیدھا کرنے لگ جاتے ہیں ۔
ملک کے مجموعی معاشی حالات کی وجہ سے آج ہر شخص محض پیسہ کمانے کی مشین بن کر رہ گیا ہے ۔ اس کی ذاتی زندگی تقریباً ختم ہوکر رہ چکی ہے ۔ ایک عام فرد کی اوسطاً تنخواہ 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ ہے جس میں اسے اپنا گھریلو بجٹ بشمول یوٹیلٹی بلز ، بچوں کی سکول فیس ادا کرنے کے بعد بمشکل اتنا بھی نہیں بچتا کہ وہ اپنی فیملی کی روزمرہ ضروریات پوری کرسکے اور اپنے گھر کا کچن چلا سکے ۔۔۔ بیوی بچوں کی خواہشات ، عمومی گھریلو اخراجات ۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر رہائشی مکانوں کے کرایہ جات کا مسئلہ ۔۔۔ ذاتی خواہشات پر توجہ دینا اور بچوں کو تفریح کے مواقع مہیا کرنے کا حق اس سے چھن کر رہ گیا ہے ۔۔۔ ہماری نصف سے زیادہ مکینوں کی زندگی تو قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے ۔ تنخواہ دار ملازم تو الگ بات ہے ، یہاں ایک بڑی تعداد دیہاڑی دار ہے ۔ ان کیلئے زندگی ویسے ہی عذاب بن کر رہ گئی ہے ۔ مالی حالات ، بے روزگاری ، غربت کے ہاتھوں تنگ آکر لوگ آج خودکشیاں کر نے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کوئی مجبور فرد اپنے بچوں کا گلہ گھونٹ کر انہیں جان سے نہیں مارے گا یا خود کشی کی کوشش نہیں کریگا تو اور کیا کریگا۔۔۔؟؟؟ احتجاج اور ہڑتال پر مجبور نہیں ہوگا تو اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے کا اور کیا طریقہ اختیار کرے گا ؟ ۔۔۔ اس 15 سے 20 ہزار کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے ایک ممبر کو اپنی 71 ہزار روپے تنخواہ بھی ناکافی محسوس ہوتی ہے ۔
غریبوں کے ان نمائندوں کو اپنی مراعات ہزاروں سے لاکھوں کرنے کے دوران اک لمحہ کیلئے بھی اس غریب باپ کا خیال نہیں آیا جو پورا دن محنت مشقت کرکے اپنے بچوں کوپالنے اور ان کی اچھی تعلیم اور سہولیات کیلئے محنت کرتا ہے ۔۔۔ دوسری جانب اس نوجوان کا استحقاق بھی مجروح ہوا جو پوری رات کال سنٹر میں جاب کرکے اپنے بوڑھے والدین کے علاج معالجے کیلئے رقم کا بندوبست کرتا ہے ، مگر کامیاب نہیں ہوتا ۔۔۔ تیسری جانب سرکاری ملازمین کا بھی استحصال کیا گیا جو سرکاری اداروں کی کارکردگی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں اور اس ضمن میں مراعات نہ سہی لیکن کم از کم عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ’’مشاہرہ‘‘ ان کا بنیادی حق ہے ۔ اسی حق کے حصول کیلئے ان کے سال کا بیشتر حصہ احتجاج اور ہڑتالوں میں گزر جاتا ہے لیکن ترقی ان کا مقدر نہیں بنتی ۔۔۔ چوتھی جانب صورتحال یہ ہے کہ آج ہر طبقہ اپنے مطالبات لئے سڑکوں پر ہے ۔ اساتذہ ، ملازمین ، کسان ، مزدور ، طلباء ، ڈاکٹرز ، نرسیں ، کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جو زیادتی کا شکار نہ ہو ۔۔۔ آج پاکستان کو صاف پانی کے مسئلے کا سامنا ہے ۔۔۔ سرکاری ہسپتالوں کی قلت کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں ۔۔۔ بے روزگاری نوجوانوں کو مایوس کررہی ہے ۔۔۔ مہنگائی غریبوں کو اپنی موت ماررہی ہے ۔۔۔ استحصال اس حد تک کہ ، انصاف مہنگے داموں بھی نہیں مل پارہا ۔۔۔ اچھی تعلیم اک خواب بن کر رہ گئی ہے ۔۔۔ قوم کا بال بال قرض میں جکڑا ہے ۔۔۔ ہر 1230 افراد کیلئے محض ایک پرائمری ، 6000 افراد کیلئے ایک ہائی سکول ہے ۔۔۔ 472 افراد کیلئے ایک استاد ، 27,493 افراد کیلئے ایک کالج ، 171,157 افراد کیلئے ایک ہسپتال ، 1115 مریضوں کیلئے ایک ڈاکٹر ، 2156 مریضوں کیلئے ایک نرس ، 48,865 مریضوں کیلئے ایک ایمبولینس ، 1656 کیلئے ایک بیڈ ، 1730 شہریوں کیلئے ایک رکشہ اور 1348 مسافروں کیلئے صرف ایک بس ہے ۔۔۔ دوسری جانب ملک کے 32,700 دیہاتوں میں بجلی کا نظام ہی سرے سے موجود نہیں ہے ۔۔۔ منرل واٹر کے نام پر ہمیں پانی خرید کر پینے پر مجبور کردیا گیا ہے ۔۔۔ ملک کے کتنے ہی علاقے ایسے ہیں جہاں صاف پانی تو دور کی بات ، پانی ہی کی بدترین قلت ہے ۔۔۔ ملک بھر میں 5 سے 16 سال تک کی عمر کے 42 لاکھ سے زائد بچے یتیم اور ڈھائی کروڑ بچے آؤٹ آف سکول ہیں ، جن کی انتظام کاری کی مناسب سہولت میسر نہیں ۔۔۔
آج قوم پر ٹف ٹائم ہے اور یہ لوگ موجیں لوٹ رہے ہیں ۔ کسی ایک ممبر کی لی گئی مراعات بھی سالانہ شخصی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے ۔۔۔ بجائے اس کے کہ عوام کو بنیادی سہولیات سے آراستہ کردیا جائے ، حلقہ جاتی ترقی پر غور کیا جائے اور عام آدمی کی معاشی مشکلات حل کرنے کی موثر حکمت عملی کی جائے ، یہ نمائندے اسمبلی میں جمع ہوکر ان کی پشت میں تیر گھونپا جاتا ہے ۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے قانون ساز عوامی نمائندے اپنے معاملات پر کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں اور نہ ہی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی کوئی کسر چھوڑتے ہیں ۔ ایسی صورت میں نچلی سطح پر کرپشن کیوں نہ ہوگی ؟
حقیقت یہ ہے کہ عوام وہ سوکھی لکڑیاں ہیں جنہیں جلا کر سیاستدان اور ارباب اختیار و اقتدار اپنے مفادات کی دیگ پکاتے ہیں ۔ گیلی لکڑیوں کی طرح سلگتے اور محض ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتے رہنا ہی ان کا مقدر ہے۔ ملک کو معاشی طاقت بنانے کی باتیں کرنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کی طاقت سیاستدان نہیں ، عوام ہیں ۔ عوام مراعات یافتہ ہوں گے تو ہی ملک ترقی کی جانب بڑھ سکے گا ۔

Views All Time
Views All Time
313
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مایاکوفسکی : خودکشی کا موسم
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: