لہو رائیگاں نہ جائے گا

Print Friendly, PDF & Email

khurram sign campaign21 رمضان یوم علیؑ کا جلوس رواں دواں تھا ایم اے جناح روڈ پر، حق کا امام ، پیشوائے اولیا، رہبر انسانیت ، عاشق نبی صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو روزہ میں سجدہ ادا کرتے ہوئے طؒم کی ضربت سے شہید کر دیا گیا۔ کیوں نہ احتجاج کیا جائے، کیوں نہ نفرین کی جائے ایسے ظالم ملعون پر جو عادل اور منصف امام کو قتل کرتا ہے۔ لیکن اس سوگوار جلوس میں یہ ایک جگہ اتنا رش کیوں ہے؟ عزاداران کی ایک بڑی تعداد اس چھوٹے سے کیمپ پر کیوں جمع ہے؟ اور اتنے اشتیاق سے کیا جاننا چاہ رہی ہے؟ ذرا سا غور کیا تو دیکھا کہ یہ سول پروگریسو الائینس پاکستان کی جانب سے لگایا گیا ایک مذمتی کیمپ تھا۔
استاد سبط جعفر ، پروفیسر شکیل اوج و ڈاکٹر یاسری رضوی، علامہ تقی ہادی نقوی، پروین رحمن، سبین محمود ،امجد صابری اور سب سے نمایاں روشن مسکراہٹ والے خرم زکی کی تصاویر سے سجے وہ پوسٹرز اور بینرز خود گویا تھے کہ کیسے کیسے انمول انسانوں کو مٹی میں رول دیا گیا۔ کیوں اس زمین پر ان کا خون ناحق بہایا گیا، ان کا جرم کیا تھا؟ ایسے بے نظیر افراد اس لئے تو نہ تھے کہ ان سے یہ سلوک روا رکھا جاتا۔ کیا ملک سے محبت اور انسانی ہمدردی میں سرشار حقوق کیلئے آواز بلند کرنا آج بھی جرم ہے کہ جس کی پاداش میں موت کی نیند سلادیا جائے۔ شہر کے کسی بھی چوک پر گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے۔
ستم تو ہے کہ ان وطن پرستوں کو انصاف دلانے والا کوئی نہیں، یہ ریاست اور ریاستی ادارے کیا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کہ ایک کے بعد ایک کو سر عام نشانہ بنایا جاتا ہے اور بدلے میں یہ آج تک کسی کے قاتل گرفتار نہیں کر سکے۔ عوام کے ٹیکس پر چلنے والی یہ ریاست اور ریاستی ادارے جب ایک شہری کو جان کی امان نہ دیں سکیں اور جب کوئی دہشتگرد ان کا مقصد ختم کرنے کی غرض سے اپنی سفاکیت کا نشانہ بنا جائے تو اس کے بعد انصاف کی امید بھی نہ رکھی جائے۔ خرم زکی شہید کی تصویر چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہے کہ قاتل کون ہے ، لیکن جب بھی آنکھیں بند ہیں یا دانستہ بند کر لی گئی ہیں۔، سمجھنا مشکل نہیں۔
ریاست کی اسی سنگین غفلت کی نشاندہی کرنے اور شدت پسندی کے خلاف خرم زکی کے مشن کو جاری رکھنے کا اعادہ کرنے کیلئے ، سول پروگریسیو الائینس پاکستان کی جانب سے قاتلوں کی گرفتاری اور شدت پسندی کیخلاف دستخط مہم کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں عوام کی بڑی تعداد نے دلچسپی ظاہر کی۔ اور ہزاروں افراد نے دستخط کر کے یقین دلایا کہ وہ بھی شدت پسندی اور تکفیریت کیخلاف ہیں اور تہہ دل سے ان سب کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ خرم زکی کے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے ان سمیت سمیت تمام افراد کے قتل کو سنجیدہ لیا جائے انصاف کی فراہمی یقینی دلائی جائے۔
جب کہ مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ خرم زکی کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے یہ پر امن احتجاج کی ایک کوشش ہے، یہ حکومت کیلئے باعث شرم ہے کہ ایک محب وطن کو پاکستانیوں سے بات کرنے کے جرم میں قتل کردیا جائے اور اس کے بعد اس کے بچوں کی دیکھ بھال تو دور کی بات تسلی کے دو بول بھی نہیں ادا کئے گئے۔ ان کی تعلیم اور تمام تر اخراجات کی ذمہ داری اس حکومت کے علاوہ کس پر عائد ہوتی ہے؟ اور اگر اب بھی ریاست سنجیدہ نہ ہوئی اور خرم زکی سمیت تمام افراد کے قاتل انجام کو نہیں پہنچائے گئے تو یہ دستخط ، درخواست سمیت اقوام متحدہ میں داخل کرائے جائیں گے کہ کہیں سے تو انصاف میسر آسکے۔

Views All Time
Views All Time
411
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مدارس کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: