بچوں میں خون کا سرطان – حصہ اول

Print Friendly, PDF & Email

اکیوٹ لمفوبلاسٹک لیوکیمیا بچوں میں خون کے سفید خلیوں کا ایک سرطان ہے۔ یہ بچوں میں سب سے زیادہ پایا جانے والا کینسر ہے۔

ایک صحتمند بچے میں ہڈی کا گودا خون کے ناپختہ خلیے بناتا ہے جو بتدریج پختہ ہو جاتے ہیں۔ خون کے یہ ناپختہ خلیے اسٹیم سیل یا بنیادی خلیے بھی کہلاتے ہیں۔ یہ بنیادی خلیے آگے جا کر مزید ٢ بنیادی خلیے بناتے ہیں جن کے نام مائیلایڈ اور لیمفائیڈ اسٹیم سیلز ہیں۔
مائیلایڈ اسٹیم سیل تین طرح کے پختہ خون کے خلیوں میں بٹ جاتا ہے، وہ یہ ہیں:
1- خون کے سرخ خلیے، جن کا کام آکسیجن کو جسم کے تمام حصّوں تک پہنچانا ہے۔
2- پلیٹ لیٹس جن کا کام خون کو بہنے سے روکنے کے لیے خون کا لوتھڑا بنانا ہے۔
3- خون کے سفید خلیے، جن کا کام جراثیموں کے حملے اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔

ایک لیمفائیڈ اسٹیم سیل سے لمفوبلاسٹ خلیہ بنتا ہے۔ یہ آگے جا کر تین طرح کے خلیے بناتا ہے، جو یہ ہیں:
1- بی لیمفوسائٹ جو حملہ آور جراثیم سے بچنے کے لیے دفاعی اجسام تشکیل دیتے ہیں-
2- ٹی لیمفوسائٹ جو حملہ اور جراثیم سے بچنے کے لیے دفاعی اجسام تشکیل دینے میں بی لیمفوسائٹ کی مدد کرتے ہیں۔
3- قدرتی قاتل خلیے جو سرطان کے خلیوں اور وائرسز کا مقابلہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   تخیل

یہ سرطان ہونے کی صورت میں خون کے سفید لمفوبلاسٹ خلیے ہڈی کے گودے میں تیزی کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کے بون میرو کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ بچوں میں خون کے سرطان کی ممکنہ علامات بخار اور جسم پر نیل پڑ جانا ہیں۔ یہ اور کچھ دیگر علامات بچوں میں سرطان کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں لیکن یہ علامات دوسرے امراض میں بھی موجود ہو سکتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ اپ کے بچے میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً اپنے طبیب سے مشوره کریں:

1۔ بخار۔
2۔ بآسانی نیل پڑنا یا خون کا بہتے چلے جانا۔
3۔ جلد پر کامن پن کے سائز کے برابر گہرے نیلے رنگ کے داغ پڑنا۔
4۔ ہڈیوں اور جوڑوں میں درد۔
5۔ گردن، بغلوں، پیٹ پر اور رانوں سے اوپر بغیر درد کی بڑی بڑی گلٹیاں ظاہر ہونا۔
6۔ پسلیوں سے نیچے پیٹ میں بھاری پن اور درد کا محسوس ہونا۔
7۔ کمزوری تھکاوٹ یا خون کی کمی کے باعث چہرہ سفید پڑ جانا۔
8۔ بھوک نہ لگنا۔

کچھ عوامل جو بچوں میں خون کے سرطان سے صحتیابی کے امکانات اور طریقہ علاج واضح کرنے میں مددگار ہوتے ہیں، یہ ہیں:

1۔ بوقت تشخیص بچے کی عمر، جنس اور نسل۔
2۔ بوقت تشخیص سفید خلیوں کی تعداد۔
3۔ آیا سرطان کے خلیوں کا تعلّق بی لمفوسائٹ سے ہے یا ٹی لمفوسائٹ سے ؟
4۔ لمفوسائٹ کے کروموسومز میں تبدیلیوں کا رونما ہونا۔
5۔ بچے کو ڈاؤن سنڈروم ہونا (اسپیشل منگول بچے)
6۔ سرطان کا دماغ، حرام مغز یا کپوروں تک پھیلاؤ۔
7۔ ابتدائی علاج کے بعد سرطان کے خلیوں کی تعداد میں کمی کی رفتار اور مقدار۔

یہ بھی پڑھئے:   زندگی تصاویر سے زیادہ قیمتی ہے

علی شاذف ماہر امراض سرطان بچگان ہیں

Views All Time
Views All Time
465
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: