Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یونیورسٹی کی مسجد – بنتِ لیاقت

by اکتوبر 28, 2016 بلاگ
یونیورسٹی کی مسجد – بنتِ لیاقت
Print Friendly, PDF & Email

wanehar-liaqatتقریباً ہر عام و خاص یونیورسٹی میں طلبا و طالبات کے لئے ایک مسجد بنائی جاتی ہے کیونکہ اکثر یونیورسٹی کے اوقات میں نماز ظہر اور نماز عصر آ جاتی ہے لہٰذا طلبا و طالبات کی آسانی کے لئے یونیورسٹی میں ایک جگہ مقرر کر دی جاتی ہے جسے عموماً ایک بڑے ہال کی طرح خالی رکھا جاتا ہے اور صفیں بچھا دی جاتی ہیں جن پر طلبا و طالبات بغیر کسی پریشانی کے نماز ادا کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ کے علاوہ یونیورسٹی کی مسجد ایک ایسی مسجد ہوتی ہے جہاں ہر مسلک کا مسلمان نماز ادا کر سکتا ہے ۔ اپنی بات کو واضح کرنے کے لئے ایک چھوٹی سی مثال دیناچاہوں گی ایک صاحب کسی کام سے گھر سے نکلے راستے میں ایک دوست سے ملاقات ہو گئی باتوں میں کافی وقت ہو گیا اور عصر کی اذان سنائی دی دوست نے عرض کی کہ جناب چلئے پاس ہی مسجد ہے چل کر نماز ادا کر لیں وہ صاحب ساتھ ہو لئے مسجد کے پاس پہنچے تو اندر جانے سے پہلے دوست سے پوچھنے لگے کہ ، دوست یہ کس مسلک کی مسجد ہے ۔ قصہ مختصر ، یعنی ان صاحب کو نماز سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ میں کس مسلک کی مسجد میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔ اب آتے ہیں یونیورسٹی کی مسجد کی طرف ایک بار ایک یونیورسٹی میں کسی کام کے سلسلے میں جانا ہوا تو ظہر کا وقت ہو رہا تھا سوچا پہلے نماز ادا کر لی جائے سو اس غرض سے ایک طالب علم سے مسجد کا راستہ پوچھا اور مسجد کی طرف قدم بڑھا دیئے ۔ جلد ہی مسجد پہنچ گئے وضو خانے میں وضو کیا اور مسجد کے ہال میں داخل ہو گئے نماز کی فکر تھی سو پہلے نماز ادا کی پھر غور سے چاروں طرف نگاہ دوڑائی طلبا و طالبات کے لئے درمیان میں ایک لکڑی کی دیوار سے اس ہال کے دو حصےبنا دیئے گئے تھے۔ یہ دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ بہت سے طلبا نماز ادا کر رہے تھے وہاں ہر مسلک اور فرقےکے طلبا تھے ۔ کوئی رفع یدین کر رہا ہے تو کوئی نہیں کر رہا، ہر کوئی بس نماز پڑھ رہا ہے اسے اس سے غرض نہیں کہ میرے بالکل ساتھ صف پر کس مسلک یا فرقے کا طالب علم نماز پڑھ رہا ہے۔ ہر کوئی اپنے مسلک کے مطابق نماز ادا کر رہا ہے یونیورسٹی میں یہ پابندی نہیں کہ اس جگہ صرف وہابی نماز ادا کریں گے یا سنی ، دیوبندی یا شیعہ۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے مسلک دیکھ کر جنت یا جہنم کا فیصلہ نہیں کرنا اللہ نے تقوی اور اللہ سے محبت کی شدت دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ کون جنت کا حقدار ہے اور کون دوزخ کا۔ ایک یونیورسٹی میں آپ داخلہ لینے جاتے ہیں یونیورسٹی والے آپ سے یہ نہیں پوچھتے کہ ہاں بھئی بتاؤ کون امیر باپ کی اولاد ہے اسے ہم بغیر ٹیسٹ یا انٹرویو کے داخلہ دیتے ہیں وہاں صرف وہی داخلے کا حقدار ہوتا ہے جو ان کا ٹیسٹ پاس کر کے کامیاب ٹھہرتا ہے ۔ ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا بھی ایک درسگاہ ہے یہاں پڑھ رہے ہو امتحان کی تیاری کر رہے ہو آخرت کے امتحان کی تیاری، آخرت میں رزلٹ ملے گا قبر میں امتحان ہو گا ، جنت کا حقدار وہ ہوگا جو اس امتحان میں پاس ہوگا وہ نہیں جو سنی مر گیا، یا وہابی مر گیا، یا بریلوی مر گیا یا شیعہ تاج پہن کر اس دنیا سے رخصت ہوا ۔ سوال ہوگا نماز پڑھی؟ یہ نہیں ہوگا کہ کس مسلک کی طرح نماز پڑھی، سوال ہوگا روزہ رکھا ؟یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ روزہ وہابی مسجد کی اذان کے اوقات کے مطابق رکھا یا سنی ، دیوبندی یا شیعہ وغیرہ۔ اپنی نمازوں کو اس قابل بناؤ کہ وہ اللہ کے حضور قابل قبول ہوں دوسروں پر تنقید ، طعنہ زنی، یا کسی کو حقیر جاننے سے آپ کے نیک اعمال ضائع ہو جائیں گے تو کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ بات تو ذرا سی ہے مگر کس قدر تباہ کن ہے کہ آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے ۔ آپ سب سے التماس ہے کہ فرقہ واریت سے اوپر سوچیں فرقہ پرستی آپ کو مسلمان تو کہلوا سکتی ہے مگر مومن نہیں ۔ مسلمان مطلب اسلام والا، جبکہ مومن کا مطلب ایمان والا ، مسلمان کا مطلب جس نے اللہ کے دین اسلام کو اپنا لیا اور ایمان والے سے مراد ایسا انسان جس نے اللہ کے اسلام کو اپنی زندگی بنا لیا ۔ پھر اس کے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس مسلک کا پیروکار ہے کس کا نہیں اس کے نزدیک یہ زیادہ ضروری ہے کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو جائے ۔
جزاکم اللہ خیراً احسن الجزاء فی الدارین

 اللہ عزوجل دونوں جہانوں میں آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Views All Time
Views All Time
290
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   محبت کی مثالیں اپنی لائبریوں میں تلاش کیجئے - فرخ عباس
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: